چلی اور لبرل ازم کی آمریت ۔۔۔ شاداب مرتضی

پابلو نرودا کو انیس سو اکہتر میں ادب کا نوبل پرائز ملا۔  پانچ سال بعد امریکی ماہرِ اقتصادیات ملٹن فریڈ مین کو نوبل پرائز دیا گیا۔

پابلو نرودا نے اپنی آخری نظم میں لکھا:

ستمبر سن تہتر کے اذیت ناک دن
تاریخ کے سارے درندوں نے
ہمارے پرچمِ زریں کو بڑھ کر نوچ ڈالا ہے

نیرودا چلی کی کمیونسٹ تحریک کے ایک درخشاں ستارے تھے۔  وہ 1948 میں چلی میں کمیونزم کو غیر قانونی قرار دیے جانے سے قبل چلی کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک سینیٹر تھے۔ 1970 میں انہیں چلی کے صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا. چلی کی سوشلسٹ پارٹی کے دورِ حکومت میں وہ فرانس میں چلی کے سفیر تھے۔

پابلو نیرودا نے اپنی آخری نظم میں ستمبر سن تہتر کا زکر اس المناکی سے کیوں کیا؟ تاریخ کے وہ درندے کون تھے جنہوں نے نرودا کے وطن،چلی، کے پرچمِ زریں کو نوچ ڈالا تھا؟

یہ انیس سو ستر کی بات ہے۔ چلی کی سوشلسٹ پارٹی سلواڈور الینڈے کی قیادت میں چھتیس فیصد سے زائد ووٹ لے کر ستمبر میں ہونے والے قومی انتخابات جیتی اور پاپولر یونٹی کے نام سے اس نے مخلوط حکومت قائم کی۔  جولائی انیس سو اکہتر میں قومی اسمبلی نے قومی ملکیت کا قانون منظور کیا۔  امریکی کارپوریشنوں، اناکونڈا اور کنیکٹیکٹ،  کی اجارہ داری میں موجود چلی کی تانبے کی کانوں کو اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے کو جو امریکی کارپوریشن آئی ٹی ٹی کی اجارہ داری میں تھا، قانون کے تحت قومی ملکیت میں لے لیا گیا۔  اسی طرح بینکاری، زراعت اور تعلیم اور صحت کے شعبوں کی نجی ملکیت ختم کرکے انہیں بھی قومی تحویل میں لے لیا گیا۔

اسکولوں کے بچوں، کچی آبادیوں اور حاملہ خواتین کے لیے مفت دودھ،  انڈوں اور گوشت کی فراہمی کا پروگرام شروع کیا گیا۔ کسانوں میں زمین کی تقسیم کو آگے بڑھایا گیا۔  قومیائی گئی صنعتوں اور عوامی بہبود کے منصوبوں میں بیروزگار لوگوں کے لیے ملازمتیں پیدا کی گئیں۔ اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول نافذ کیا گیا۔  کم از کم اجرت کا قانون نافذ کر کے اس کا اطلاق کل وقتی اور جز وقتی ملازمت اور سرکاری اور نجی شعبوں دونوں پر کیا گیا۔  غریب آبادی کے لیے وظیفہ اسکیم شروع کی گئی اور عوام کو سرکاری رہائش فراہم کرنے کے لیے ایک لاکھ بیس ہزار رہائشی عمارات کی تعمیر کا منصوبہ عمل میں آیا۔  الغرض ایسی پالیسیاں اختیار کی گئیں جن سے عوام کی بنیادی ضروریات اچھی طرح پوری ہو سکیں۔

گیارہ ستمبر انیس سو تہتر کو چلی کے فوجی سربراہ آگستو پنوشے نے پابلو نرودا کے وطن کا پرچمِ زریں جو سوشلزم کے عزم سے لہرا رہا تھا نوچ ڈالا۔  چلی کی منتخب سوشلسٹ حکومت کو مارشل لاء کے زریعے “جبرا” ختم کر ڈالا گیا۔  فضا سے بمبار طیاروں نے اور زمین سے ٹینکوں نے ایوانِ صدر پر بم برسائے۔  ڈاکٹر الینڈے کے محافظوں نے انہیں مشورہ دیا کہ ہیلی کاپٹر تیار ہے۔  جلاوطنی کی پیشکش بھی ہے. جان بچانے کے لیے فرار ہوجانا چاہیے۔  لیکن اس مردِ آہن نے ریڈیو کا مائیک سنبھالا اور اپنی آخری تقریر میں چلی کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا:

“میرے وطن کے محنت کشو!  مجھے چلی پر اور اس کی تقدیر پر یقین ہے۔ یہ جانتے ہوئے آگے بڑھو کہ دیر سے نہیں بلکہ جلد ہی وہ عظیم راہیں سامنے آئیں گی جہاں آزاد لوگ آگے بڑھ کر ایک بہتر معاشرہ تعمیر کریں گے۔ چلی پائندہ باد، چلی کے عوام پائندہ باد، چلی کے محنت کش پائندہ باد! یہ میرے آخری الفاظ ہیں اور مجھے یقین ہے کہ میری قربانی رائیگاں نہیں جائے گی”۔

پھر وہ بندوق اٹھا کر بہادری سے باہر نکلے اور فوجی آمریت سے لڑتے ہوئے عظیم سوشلسٹ تحریک اور چلی کے عوام پر قربان ہو گئے۔ان کی شہادت کو خودکشی قرار دینے کی مہم چلائی گئی لیکن آخرکارگزشتہ برس چلی کی حکومت نے تسلیم کر لیا کہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔

لیکن جنرل پنوشے نے ایک منتخب جمہوری حکومت کا گلا کیوں گھونٹ دیا؟

اکتوبر انیس سو ننانوے میں امریکہ میں کلنٹن انتظامیہ کی جانب سے چلی اور امریکہ کے تعلقات پر مشتمل سرکاری دستاویزات کو ڈی کلاسیفائی کر کے عوام کے سامنے لایا گیا۔  اس سے قبل انیس سو چہتر میں امریکی سینیٹ کی جانب سے امریکی خفیہ ایجنسیوں کی کارروائیوں کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی چرچ کمیٹی کی رپورٹ بھی موجود تھی۔  محققین نے ان کے زریعے جانا کہ چلی کی سوشلسٹ حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں ملوث تھیں۔

انیس سو ستر کے انتخابات کے بعد امریکہ کی نکسن انتظامیہ کی جانب سے چلی کی فوجی امداد بڑھا دی گئی اور فوج پر دباؤڈالا گیا کہ وہ حکومت کا تختہ الٹے ورنہ فوجی امداد بند کردی جائے گی۔  چلی اور دیگر لاطینی امریکی ملک انیس سو اکسٹھ میں امریکہ کے ساتھ کمیونزم کے خلاف کیے جانے والے معاہدے “الائنس فار پروگریس” میں شامل تھے جس کے تحت امریکہ نے انہیں عالمی کمیونسٹ تحریک کے اثرات سے دور رکھنے کے لیے امدادی پروگرام کے تحت تقریبا تیئیس ارب ڈالر کی امداد دی تھی۔

امریکہ نے آلینڈے کی حکومت کو ختم کرنے کے دو منصوبے بنائے تھے۔ ایک “ٹریک ون” اور دوسرا “ٹریک ٹو”۔ ٹریک ون منصوبے کے مطابق حزبِ اختلاف،  خصوصا دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو رشوت دے کر حکومت کے خاتمے کے لیے فضا ہموار کرنا مقصود تھا۔ اس کے لیے کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی اور نیشنل پارٹی کو چھ سے آٹھ ملین ڈالر ادا کیے گئے جن کی ترسیل کے لیے چلی میں امریکی ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن، آئی ٹی ٹی، کے اکاؤنٹ کو استعمال کیا گیا۔ اسی کارپوریشن کے اخبار “ایل مرکیوریو” کے زریعے حکومت کے خلاف زور و شور سے مہم بھی چلائی گئی۔

ٹریک ٹو منصوبے کے مطابق چلی میں حالات خراب کر کے ایسا ماحول پیدا کرنا مقصود تھا جس کے زریعے چلی میں فوجی آمریت کے لیے فضا ہموار ہو سکے۔  اس سلسلے میں حزبِ اختلاف سے حکومت کے خلاف مظاہرے اور ہڑتالیں کرائی گئیں اور حکومت کے خلاف مذمتی قرار دادیں پاس کروائی گئیں۔  چلی کی سپریم کورٹ نے مئی انیس سو تہتر میں حکومت پر قانون کی خلاف ورزیاں کرنے کا الزام عائد کیا اور اگست تہتر میں چیمبر آف ڈپٹیز نے پولیس اور فوج کو مداخلت کر کے حکومت کے خاتمے پر اکسانے کی کوشش کی۔ اس سے قبل جون کے مہینے میں کرنل رابرٹو سوپر نے ایوانِ صدر کا ٹینکوں سے گھیراؤ کر کے فوجی طاقت سے حکومت کے خاتمے کی ناکام کوشش بھی کی تھی۔  جب حکومت کے خاتمے کا ان میں سے کوئی بھی ہتھکنڈہ کامیاب نہ ہو سکا تو بالاخر جنرل پنوشے کے زریعے مارشل لاء کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔

انیس سو ستر میں چلی میں انتخابات کے حوالے سے امریکی صدر رچرڈ نکسن کا کہنا تھا کہ “۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم چپ چاپ کھڑے رہ کر کسی ملک کو اس کے لوگوں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے کمیونسٹ بنتا کیوں دیکھیں۔ معاملات اس قدر اہم ہیں کہ انہیں چلی کے ووٹرز کے فیصلے پر نہیں چھوڑا جا سکتا”۔  ہنری کسنجر کی چیئر مین شپ میں انیس سو انہتر میں قائم ہونے والی “چالیس کی کمیٹی” میں چلی کے حالات پر سیرحاصل بحث ہو چکی تھی۔

جونہی جنرل پنوشے نے چلی کی منتخب حکومت کو جبرا ختم کر کے اپنی سفاک آمریت قائم کی، نکسن انتظامیہ نے چلی میں اپنی “نیولبرل” اقتصادی پالیسی کا نفاذشروع کیا۔ چلی وہ پہلا ملک بنا جہاں نیو لبرل معیشت کا پہلا تجربہ کیا گیا۔ صدر نکسن کے اقتصادی مشیر ملٹن فریڈمین اور ہربرجر کے چلی سے تعلق رکھنے والے اور شکاگو یونیورسٹی میں ان سے اقتصادیات کی تعلیم حاصل کرنے والے “شکاگو بوائز” نے پانچ سو صفحات پر مشتمل پہلے سے تیار دستاویز ” دی برک” کے ذریعے جنرل پنوشے کے تعاون سے چلی کی معیشت کی تعمیرِ نو کا آغاز کیا۔

اس تعمیر نو کے تحت نجکاری کے زریعے امریکی کارپوریشنز کی حیثیت بحال کر دی گئی۔ عوامی ٹیکس بڑھا دیا گیا، قیمتوں کا کنٹرول مارکیٹ پر چھوڑ دیا گیا اور محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کرنے والی پالیسیاں ختم کر دی گئیں۔  اس لبرلائزیشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ چلی کے ایک عام شہری کی آمدنی کا ستر فیصد خوراک کی خریداری پر خرچ ہونے لگا اور ایک سال کے اندر مہنگائی میں تین سو پچھتر فیصد اضافہ ہو گیا۔ دوسری جانب سرمایہ داروں پر دولت چھپر پھاڑ کر برسنے لگی۔

مارچ پچھتر میں ملٹن فریڈمین نے چلی کے دورے کے دوران اپنی تھیوری “شاک تھراپی” کا اعادہ کرتے ہوئے  اخبار “ایل مرکیوریو” کے مطابق  کہا کہ شاک تھراپی ہی چلی کی معیشت کے مسائل کا “واحد علاج ہے۔ اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے سوا کوئی طویل المعیاد حل موجود نہیں”۔  فریڈ مین نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ وہ چلی کے استحصال میں شریکِ جرم تھا۔

پابلو نیرودا پنوشے کے مارشل لاء کے بارہ دن بعد جاں بحق ہوئے۔ سان ٹیاگو کے کلینک میں انہیں لگایا گیا درد سے نجات کا انجکشن ساڑھے چھ گھنٹے بعد دل کے دورے سے ان کی موت کا سبب بن گیا۔  اگلے دن وہ ملک چھوڑ جانا چاہتے تھے تاکہ بیرونِ ملک دنیا بھر کو چلی کے خلاف ہونے والی اس سفاک سازش کی حقیقت بتا سکیں۔

انیس سو چہتر میں نوبل پرائز کی تقریب میں جب ملٹن فریڈ مین اپنا نوبل پرائز وصول کرنے کے لیے اٹھا تو آخری نشستوں سے ایک نوجوان نے فریڈمین کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے۔ نوجوان کو پرشکوہ تقریب سے باہر نکال دیا گیا۔ تقریب کے میزبان نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے اس واقعے کا بہت افسوس ہے لیکن خوشی بھی ہے کیونکہ یہ واقعہ اس سے بھی زیادہ برا ہوسکتا تھا!”

لیکن اس سے بہت زیادہ برا چلی کے عوام کے ساتھ ہو چکا تھا۔ لبرل ازم نے ہمیشہ کی طرح چند لالچی سرمایہ داروں کی ہوسِ دولت کے لیے ایک بار پھر سے جمہوریت،  آزادی اور عوامی ترقی کے امکانات کا گلا انتہائی بے دردی سے گھونٹ دیا تھا۔  نکسن،  فریڈ مین،  شکاگو بوائز اور جنرل پنوشے یہ تاریخ کے وہ درندے تھے جنہوں نے پابلو نیرودا اور وکٹر جارا کے وطن کے پرچمِ زریں کو نوچ ڈالا تھا۔

شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *