غلطی کا راستہ اور چین۔۔۔وقار اسلم

دراصل گمراہی کا راستہ بہت آسان ہوتا ہے یہ وہ راستہ ہے جو ہمہ وقت آپ کو اپنی جانب کھینچتا ہے حالات و احوال اس برائی کے راستے کو چننے کے لئے بہت سہل بہت آسان بنا دیتے ہیں تب ہی آپ کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آسانی سے اس جذام کو اپنانا ہے یا مشکل راستہ اختیار کر کے حق کی سربلندی کے لئے کوشش کرنی ہے۔میرا یہ مشاہدہ ہے کہ آج کے اس اشتمالیت سے لبریز دور میں صحیح راستے پر رہنا انتہائی خاردار اور کٹھن ہے ۔انسان کو برائی کی کشش اس قدر مرعوب کرلیتی ہے کہ وہ خطاء کو کرنے میں کوئی سوچ بچار نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بات تو طے ہے کہ ہر اچھائی کا راستہ بہت دشوار ہوتا ہے جبکہ برائی سے لتھڑا ہوا اور طاقت کے نشے میں غرق کردینے والا رستہ بے حد آسان معلوم ہوتا ہے دسترس میں ہوتے ہوئے بھی اگر آپ کسی قسم کی کرپشن سے بچ نکلتے ہیں تو یہ ہی آپ کی اصل کامیابی ہوا کرتی ہے جس کو حاصل کرنا دنیا کے امن کے لئے ضروری ہے۔
انسان چاہے کتنی ہی بلندح کو چھولے۔اپنی بقا کیلئے ،طاقت کے حصول کیلئے ہابیل ، قابیل اور غاروں میں رہنے والوں کی طرح ہم ایک دوسرے کو قتل کرنے سے باز نہیں آسکتے،یہ انسان کی سرشت میں شامل ہے۔رواں صدی کے آغاز میں دوبڑی عالمی جنگیں دیکھنے کے بعد نئی نسل کیلئے ناگزیر ہے کہ وہ بھی جنگ دیکھے گی۔لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ کب ایسا ہوجائے۔ آنے والے چند سالوں میں عین ممکن ہے کہ ہم بھی اپنی آنکھوں سے جنگ دیکھ لیں۔ہوسکتا ہے وہ کوئی علاقائی جنگ ہویا پھر تمام ا قوام عالم پر اس کا اثر پڑے ۔شام میں جو صورتحال چل رہی ہیں وہ کسی بڑی جنگ سے کم نہیں لیکن اس کے علاوہ بھی مسلسل چلتے چند تنازعات کتنے ہولناک ہوسکتے ہیں یہ وہ غلطی کاراستہ ہے کہ جس سے گریز کرنا تمام ممالک اپنی شان کے برخلاف گردانتے ہیں ،یہ کوئی نہیں جانتا سوپر پاور بننے کی دوڑ میں چین وجود میں آنے کے بعد ہی آ گیا تھا امریکہ ان کی روش کو بھانپ گیا تھا یکم اکتوبر چین میں نیشنل ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے اس بار جب یہ منایا گیا تو پوری دنیا چین کو ابھرتی سوپر پاور کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور تمام نگاہیں اسی پر جمی ہوئی ہیں اس قدر تیزی سے اقتصادی ترقی کرنا واقعی حیران کن ہے لیکن کیا کیججے جس ایک اندازے کے مطابق چین غربت کی لپیٹ سے نکلنے والا تھا وہ بس الفاظ کا گورکھ دھندہ ہی نکلا اور چین کی اکثریت غربت کی لکیر پر زندگی بسر کرنے پر اب بھی مجبور ہے دوسری جانب اس کی امریکہ سے تجارتی سرد مہری شدت اختیار کررہی ہے امریکہ کی آمدن چین سے ساٹھ گنا زیادہ ہے لیکن پھر بھی اسے یہی بات خائف کیے ہوئے ہے کہ چین اس سے سوپر پاور کا ٹائٹل چھین کر کہیں اپنے نام نہ کرلے تاہم چین بھی ٹکر دینے سے باز نہیں آتا، جس وجہ سے امریکہ اس کی درآمدات کو گرانے کی ہر ممکن کوشش عالمی مارکیٹ میں کرتا رہتا ہے ۔
چین میں تقافتی انقلاب کا دور1966ء سے لے کر 1976ء تک کے اس عرصے کو کہتے ہیں جس کا آغاز اس وقت کے رہنما ماؤ زے تنگ نے اپنی طاقت کے اظہار کے لیے کیا تھا۔ثقافتی انقلاب کے آغاز سے قبل ماؤزے تنگ کی ،آگے کی طرف عظیم چھلانگ‘کی پالیسی کے تباہ کن اثرات کے باعث کئی مرتبہ قحط دیکھنے میں آئے تھے اورلاتعداد شہریوں کو ایسے المیوں سے گزرنا پڑا تھا کہ پورے کا پورا چینی معاشرہ بدنظمی اورانتشار کا شکار ہوگیا تھا۔

اس دور میں’’ریڈ گارڈ‘‘میں شامل نوجوانوں نے اپنے بڑوں،پارٹی عہدیداروں ،دانشوروں،ہمسایوں اوررشتہ داروں تک کا اس طرح استحصال کیا تھا کہ انہیں کھینچ کھینچ کر ان اجلاسوں میں لے جایا جاتا تھا۔جدوجہد کے لیے نشتیں کہلاتے تھے۔اس کے علاوہ لوگوں کے گھروں پر حملے بھی کیے جاتے تھے اور بہت سے متاثرین تو خودکشی پر بھی مجبور ہوگئے تھے۔
ثقافتی انقلاب کے دور میں جن افراد کو نشانہ بنایا گیا،ان میں سے بہت سے جیلوں میں ڈال دیے گئے یا ہلاک کردیے گئے۔اس بارے میں چین میں ابھی تک کوئی سرکاری اعدادو شمار میسر نہیں ہیں۔ایک مغربی مؤرخ کا اندازہ ہے کہ اس دوران صرف1967ء میں تقریباً پندرہ لاکھ لوگ مارے گئے۔لاکھوں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا اوران کی تذلیل کی گئی۔جس کے نتیجے میں سماجی،اقتصادی اورسیاسی بے چینی نے جنم لیا۔چین کی تاریخ بغاوتوں کی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے۔ماؤزے آٹھ ملین لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد اقتدار میں آیا تھا۔چند دہائیاں قبل باکسر بغاوت میں ایک لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔اس سے بھی پہلے تائپنگ بغاوت میں بھی بیس سے ستر لاکھ لوگ مارے گئے تھے ۔
اس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے چین میں ایک نیا ثقافتی انقلاب ناممکن نہیں ہے۔چین میں پہلے ہی روزانہ کی بنیاد پر پانچ سو سے زائد احتجاج ہوتے ہیں۔ہر سال لگ بھیگ ایک لاکھ فسادات پھوٹے پڑتے ہیں۔رہنما بدعنوان ہیں۔نوجوان ایک نئی بغاوت کے متعلق سوچتے ہیں۔اگر آئندہ مالی بحران اس کے معیار زندگی کونیچے لے آیا تو دنیا کو خون ریزی کی ایک اور لہر دیکھنے کو ملے گی سخت سزائیں دینے کہ باوجود وہاں کرپشن کی شرح اتنی کم نہیں ہوئی کہ وہ ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک بن سکے اب اس غلطی کے راستے کو ترک کرکے تمام ترقی کرتی دنیا کو اپنی عوام کے لائف اسٹائل کو بہتر بنانا ہوگا ان کو اصل ترقی دینا ہوگی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *