ذات کی اسیری سے آگے۔۔۔۔۔۔ابو بکر

دوستووسکی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ کسی بھی شائستہ آدمی کو گفتگو کا سب سے زیادہ لطف اسی وقت آتا ہے جب وہ خود اپنے بارے میں باتیں کر رہا ہو۔
یہ کچھ زیادہ غلط بات بھی نہیں ہے۔ ہم کسی اور موضوع پر اتنا علم نہیں رکھتے جس قدر خود اپنے بارے میں رکھتے ہیں۔ اپنے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے پہلا گواہ بھی انسان خود ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنا سچ کتنا جھوٹ بول رہا ہے۔ لیکن یہ بھی درست نہیں کہ ہم اپنے بارے میں مکمل علم رکھتے ہیں۔ ہماری اپنی ذات کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ ہم سے اجنبی ہی رہتا ہے۔ جوں جوں آدمی خود پر غور کرتا ہے خود آشنائی کی برتر سطح کے قریب ہوجاتا ہے۔ دونوں پہلو برابر اہم ہیں۔ آدمی کو یاد رکھنا چاہیے  کہ ابھی وہ اپنے آپ سے پوری طرح واقف نہیں اور اسے یہ اجنبیت کم کرنے کی کوشش عمر بھر جاری رکھنی ہے۔ آدمی پر جب تک اپنا آپ آشکار نہ ہو وہ خود بیگانگی کا شکار رہتا ہے۔کسی بھی حساس شخص کے لیے خود بیگانگی کا تصور کرنا ہی ہولناک ہے۔ یہ حالت ایسی ہی ہے کہ جیسے ہم اپنی زندگی گزار ہی نہ رہے ہوں بلکہ کسی اجنبی شخص کا کردار ادا کرتے ہوئے اس کی زندگی گزار رہے ہوں۔ اپنے بارے میں گفتگو کرنا، اپنی ذات پر غور کرنا، اس اجنبی شخص سے باتیں کرنا جو ہمارے اندر زندہ ہے، باطن پر توجہ کرنا، یہ سب اہم ہے۔ لیکن اس میں کسی بھی پیشرفت کے لیے اخلاص اولین شرط ہے۔ آپ کو خود سے مخلص رہنا چاہیے۔ یہ آسان نہیں ہے۔ آدمی اکثر و بیشتر اپنی طرف داری پر مائل رہتا ہے۔ چونکہ اپنا پہلا گواہ بھی وہ خود ہے لہذا یہ طرف داری جھوٹی گواہی کے برابر ہے۔آدمی اپنے بارے میں جھوٹی گواہیوں کی غیر محسوس عادت کا شکار رہتے ہیں۔

ہمارے تعصبات، ہماری خواہشات اور مفادات، یہ سب بھی ہماری ذات کا حصہ ہیں۔ ان پر غور کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا اہم ہے کہ آدمی ان کے زیراثر درست نتیجہ سے دور نہ ہوجائے۔ پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر انسان یکتا و منفرد ہے اسی طرح اس کے احساسات بھی یکتا و منفرد ہیں۔ بہت سے لوگ خود اپنے سامنے بھی اپنی شخصیت کے ان حصوں کا اعتراف کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں جو معاشرتی و اخلاقی طور پر موزوں نہیں سمجھتے جاتے۔ اکثر افراد جو اپنی ذات کا سچ برداشت نہیں کر سکتے وہ اپنی شخصیت کے ناپسندیدہ حصوں پر شرمندہ رہتے ہیں اور مختلف تاویلات کا سہارا لیتے ہوئے ایک دوغلی زندگی گزارتے ہیں۔ سارتر نے اسے ‘ بیڈ فیتھ ‘ کا نام دیا ہے۔ خود پر غور کرتے ہوئے بیڈ فیتھ سے بچنا از بس اہم ہے۔ آدمی کو چائیے کہ وہ واشگاف ہوجائے۔ جو ہے اسے تسلیم کرے اور اس کا سامنا کرے۔ ممکن ہو تو اس سے جنگ کرے۔اگر کسی سے جنگ کرنا ضروری ہے تو وہ خود اپنے آپ سے ہے۔ خود پیکاری حساس زندگی کی لازمی شرط ہے۔ اس پیکار کی اولین کامیابی آزادی کا حصول ہے۔ فرد بیڈ فیتھ سے نکلتے ہی دوغلی اخلاقیات سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اسے ننگے سچ سے الجھن نہیں ہوتی کیونکہ وہ ایسی کسی اخلاقیات کا اسیر نہیں رہتا جس میں ننگا پن معیوب ہو۔ جو ہے اور جیسا ہے اسے مان کر آگے بڑھتا ہے۔ وہ ہوئے جانے کی حالت کا پاس رکھتا ہے۔

اس پہلو سے جون ایلیا کی بیشتر شاعری خود جون ایلیا کے گرد گھومتی ہے۔ کسی بھی شائستہ کلام کی طرح اس شاعری میں بھی انسان کا جو تصور موجود ہے وہ دراصل شاعر خود آپ ہے۔ جون ایلیا کے ضمن میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ اس نے جس طرح اپنے آپ کو دیکھا اور محسوس کیا اسی طرح بیان کردیا۔ اس نے کسی نام نہاد اخلاقی و مذہبی تاویل کی آڑ لیکر خود سے چھپنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ اس انسان کے محسوسات ہیں جو خود کو اپنی تمام حشر سامانیوں سمیت قبول کر چکا ہے۔ہمارا شاعر یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ ایک جیتا جاگتا انسان ہے جو ہر آن کسی تازہ حالت میں ہے۔ شاعر خود آشنائی کے اس پرملال مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں اسے نظر آتا ہے کہ کچھ بھی سالم اور حتمی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اس کی اپنی ذات بھی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک حصہ جس سے وہ واقف ہے اور دوسرا حصہ جو اس سے اجنبی ہے۔ شاعر اپنی ذات کا یہ بنیادی تضاد اپنی زندگی کے ہر منظر میں دیکھتا ہے۔ کبھی وہ خوش تو کبھی اداس ہے اور کبھی کبھی تو وہ خوشی سے ملال اور اداسی سے انبساط ڈھونڈنے لگتا ہے۔ وہ ہر نیا وعدہ کرتے ہوئے یہ سوچنے لگتا ہے کہ اسے ایفا کی عادت بھی نہیں ہے۔ اپنے گھر سے شدید محبت رکھتے ہوئے بھی اس کا دل وہاں نہیں لگتا۔ وہ خدا کا قائل نہیں ہے لیکن اکثر اسے یاد بھی کرنے لگتا ہے۔ وہ جب کسی انسان سے متاثر ہوتا ہے تو اس سے دور ہونے لگتا ہے۔ وہ جس لڑکی سے اظہار محبت کرنا چاہتا ہے اس سے منہ پھیرکر گزرتا ہے۔ ہمارا شاعر کسی بھی معاملہ میں یکطرفہ نہیں ہے۔لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ بھی یہ جانتا ہے کہ تصویر کے دونوں رخ بھی جھوٹے ہو سکتے ہیں۔ ہمارا شاعر سچ اور جھوٹ سے آگے گزر کر اشیا تک پہنچنا چاہتا ہے اور انہیں ایسے دیکھنے چاہتا ہے جیسے وہ ہیں۔ شاعرسمجھتا ہے کہ سچ اور جھوٹ دراصل ہماری توجہ حقیقت سے ہٹا دیتے ہیں۔ شاعر بتاتا ہے کہ ہماری نظر کو تربیت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ چیزوں کو اس صورت میں دکھاتی ہے جس صورت میں یہ خود انہیں دیکھنا چاہے۔اس کے نزدیک نظر کی تربیت ہے کہ آنکھیں پھوڑ لی جائیں۔ شاعر دل سے بھی مطمئن نہیں ہے۔ وہ اسے جھوٹے گمانوں کا قیدی کہتا ہے۔شاعراپنے کانوں سنے پر اعتبار بھی نہیں کرتا کیونکہ کانوں کو وہی بھلا لگتا ہے جو یہ سننا چاہتے ہوں۔ شاعر مشورہ دیتا ہے کہ ہمارےلیے بہترین آواز وہ ہے جو ہماری سماعتوں میں زہر گھول دے۔ اپنی اسی حقیقت پسندی کے باعث ہمارا شاعر شدید اذیت پسند بھی ہے۔ وہ جان چکا ہے کہ جہاں حقیقت کو دیکھنے کےلیے ہمیں اپنے آرام بخش تعصبات سے دور جانا پڑتا ہے وہیں حقیقت جاننے کے بعد ہماری کوئی آسائش باقی نہیں رہتی۔ کیوں؟۔۔۔۔

کیونکہ حقیقت خودبھی نہایت تلخ ہے۔ شاعرکے نزدیک حقیقت اس لیے تلخ ہے کیونکہ وہ ہم سے بے نیاز ہے اور اسے ہماری خواہشات اور جستجو کی کوئی پرواہ نہیں۔ کوئی عام انسان اگر اس نتیجہ تک پہنچے تو وہ بوکھلا جائے لیکن ہمارا شاعر جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کسی بھی معاملے میں یکطرفہ نہیں ہے اور دوسرے رخ سے بھی آگے دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے تو خوش ہوتا ہے کیونکہ یہ نتیجہ اس کی ذات کے بنیادی تضاد کو دور کر دیتا ہے۔ اس کی ذات کا بنیادی تضاد یہ تھا کہ وہ ہر معاملہ میں ہاں اور نہیں کے درمیان رہتا تھا۔ اب جب شاعر کو علم ہوا کہ حقیقت اس سے بے نیاز ہے تو وہ خود اپنی ذات کی دوئی کی تکلیف سے بھی آزاد ہوجاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ سچا یا جھوٹا ہونے سے ، وفادار اور بے وفا ہونے سے ، مخلص یا کینہ پرور ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ حقیقت ان سب سے الگ ہے۔ اب شاعر کی روزمرہ عادت یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر تضاد کو پوری شدت سے محسوس کرتے ہوئے یہ سوچتا رہتا ہے کہ کسی بھی حالت سے کیا فرق پڑتا ہے۔ شاعر بیڈ فیتھ سے آگے گزر چکا ہے لیکن اسے کوئی نئی مصروفیت میسر نہیں آسکی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *