یہ لائیک (Like) کہاں سے آتے ہیں؟۔۔۔وہارا امباکر

فیس بک پر دو ارب سے زائد ایکٹو اکاؤنٹ ہیں اور یہ گوگل اور یوٹیوب کے بعد انٹرنیٹ کی تیسری سب سے زیادہ مقبول سائٹ ہے۔ فروری 2004 میں ایک کمپیوٹر سے شروع ہونے والی اس ایپلیکیشن کو چلانے کے لئے اب کتنا ہارڈ وئیر اس کے پیچھے کام کر رہا ہے، ایک جائزہ اس کا۔

آپ کی تصویریں، ویڈیوز، دوستوں سے کئے گئے ہنسی مذاق، لائیک اور کمنٹنس دنیا میں چھ مختلف مقامات پر سٹور ہوتے ہیں اور یہ نیٹ ورک مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اگر آپ اس وقت کسی کے پروفائل پیج کو دیکھ رہے ہیں تو اس کو دکھانے کے لئے فیس بک کے سینکڑوں سرور اور ہزاروں الگ الگ سٹور کئے گئے ڈیٹا کو اکٹھا کر کے دکھایا گیا ہے اور یہ سب ایک سیکنڈ سے کم حصے میں فیس بک کے نیٹ ورک میں پراسس ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر تاخیر سے آپ کو نظر آیا تو وہ ترسیل کی تاخیر ہے۔ فیس بک نے 2011 میں اپنا پہلا سنٹر بنایا اور اب نارتھ کیرولائینا، آئیوا، ٹیکساس، نیومیکسیکو، سویڈن، آئرلینڈ اور سنگاپور میں اس کے ڈیٹا سنٹر موجود ہیں۔ صرف آریگن میں اس کا ڈیٹا سنٹر تین لاکھ سکوائر فٹ سے زائد جگہ پر ہے اور مزید پانج لاکھ سکوائر فٹ پر کام ہو رہا ہے۔ فیس بک نے دو سال قبل جو رپورٹ فائل کی تھی اس کے مطابق اس کے نیٹ ورک کے آلات کی مالیت پونے چار ارب ڈالر اور ڈیٹا سینٹر کے انفراسٹرکچر کی مالیت ڈھائی ارب ڈالر تھی۔

فیسک بک کا سب سے نیا سنٹر سویڈن میں دریائے لولیا کے کنارے پر ہے۔ فیس بک کی اس انتخاب پر سٹیٹمنٹ یہ تھی کہ یہاں پر بجلی کا عمدہ نظام (آخری بار یہاں بجلی 1979 میں گئی تھی) اور سرد موسم میں مشینوں کو ٹھنڈا رکھناے میں کم توانائی کا استعمال اس کی وجوہات تھیں۔

تصاویر میں سے ایک ٹیکساس میں ڈیٹا سنٹر کے توسیعی کام کی جبکہ باقی تمام سویڈن کے ڈیٹا سنٹر کی ہیں اور یہ پوسٹ بھی شاید یہیں پر کسی کونے کھدرے میں پڑی ہو گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *