چلے تھے دیوسائی۔۔۔۔۔۔ محمد جاوید خان/قسط 30

مِنی مَرگ کاسُریلا پانی :۔
مِنی مَرگ کے اِس نالے میں اُجلا پانی بہتا ہے۔شفاف پانیوں کا ترَ نُّم بھی شفاف ہو تا ہے۔ پار جنگل میں دَرختوں کی ٹہنیاں مَچل مَچل کر لہراتی ہُو ئی ہَو ا ؤں کا پتہ دے رہی تھیں۔ہَو ا ئیں ہمیں بھی سرد بوسے دے رہی تھیں،مگرہَو ا کے ساتھ جھُو م جھُو م کر رَقص کرنا صرف شاخوں کو آتا ہے۔وہ اِس فن میں اَزل کی یکتا ہیں۔ پانی دُورسے پتھروں پر اُچھلتا ہُوا بہتا آرہا تھااَورچٹان کے قریب آکر دوحصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔دَائیں طرف کا دَھارا ایک گہرے چھوٹے تالا ب میں گِر رہا تھا۔دَھاروں کا آہنگ موسیقی پیدا کر رہا تھا۔ ٹھنڈی آبی موسیقی۔ندی کی فضا دھاروں کی گُونج میں ڈُوبی ہُوئی تھی۔
اُوپر نُکڑ والی بَستی میں بکریوں کا ایک ریوڑ اَبھی چر کر آیا تھا۔بَستی کے عین اُوپر ذرا سادائیں طرف ایک تنگ پگڈنڈی پر لڑکیاں پانی کی گاگریں اُٹھائے جار ہی تھیں۔خاموش آبی تَرنُّم میں،خاموشی سے خُود منظری ہورہی تھی۔ہمارے وَقت اَورہماری زِندگی کی طرح، اُجلے پتھروں پر دُھلا ہُوا پانی بہہ رہا تھا۔ کِسی دَانشور نے کہاتھا ”ہر شے بہہ رہی ہے“۔ بہنے والا پانی کِسی نئے قالب میں ڈَھل جائے گا دَریا میں اُتر کر دَریا،سمندر میں گِر کر سمندر،جب کہ اَکیلا و تنہاہو کر قطرہ ہو جائے گا۔ پھراِس ایک قطرے کے دَریا و سمندر مُحتاج ہوں گے۔ قطروں میں ندیاں،دَریااَور سمندر پوشیدہ ہیں۔مشرقی سَمت سے اُمڈ اُمڈ کر آنے والے پانی کامنظر دیدنی تھا۔اِس کی رَوانی میں نغمگی تھی۔شور تکلیف دیتا ہے،لیکن یہ سکُون دے رہا تھا۔آبی سُر آگے گُلتری میں جاکر دَریا سندھ کی موجوں میں ڈَھل جائیں گے۔موجوں کی رَوانی میں جلال، ہیبت،خوف اَورڈرہوتا ہے،لیکن یہاں ہر دھار میں ترَ نُّم تھا،توازن تھااَور آہنگ اِن سب کے مَلا پ سے موسیقی پیدا ہو رہی تھی۔یہ مِنی مَرگ کابہتا پانی تھا،سُریلا اَور یخ پانی۔

چلے تھے دیوسائی۔۔۔۔۔۔ محمد جاوید خان/قسط 29
مَپنُو آباد کے اُداس کھیت :۔
خودمنظری کاعمل تھک چُکاتھا۔ہم چٹان سے اُترے اَور گاڑیوں کی طرف چل پڑے،راستے میں وہی احتیاط،آہستگی، مبادہ کہیں پاؤں رَپٹ نہ جائیں،سرد دھاروں میں جِسم گیلا نہ ہوجائے،پتھروں سے پھِسل کر چوٹ نہ آجائے اَور دُھلا ہُوا پانی میلا نہ ہو جائے۔سارے دوست کنارے پر پہنچ چکے تھے۔ہم نے جُوتے پکڑے اَور اُوپر چڑھ آئے۔گھاس پر چلنے سے پاؤں کا گیلاپن ختم ہوگیا اَور پانی کی وجہ سے لگنے والی سردی کُچھ کم ہوگئی۔جُوتے پاؤں میں ڈالے تو راحت مِلی۔گاڑیوں میں بیٹھے اَور مَپنُو آباد کی طرف روانہ ہوگئے۔
تنگ پگڈنڈی نما سڑک،ڈھلوانوں اَور کٹاؤ کے بیچ سَرکتی ہوئی، آگے گُلتری کر طرف بَل کھاتی جارہی تھی۔تقریباً ایک کِلو میٹر کے بعدمَپنُو آباد کی آباد ی ہے۔سڑک کنارے پھیلی ڈھلوانوں سے لوگ گھاس کاٹ رہے تھے۔چائے کے برتن اَور چائے دانیاں اُن کے پاس پڑی تھیں۔کام کے دَوران میں تھک کر،وہ چائے پیتے ہوں گے۔ تازہ دَم ہو کر پھِر کام میں جُت جانے کے لیے۔
ہم نے گاڑی مَپنُو آباد میں ایک دُکان کے سامنے موڑی،بند دُکان کے سامنے محمد اَسلم کھڑے تھے۔نیچے آلوؤں کے کھیتوں میں چندکھیت اُن کے بھی تھے۔آلوؤں نے پھُول نکال لیے تھے۔مَیں نے  اَسلم صاحب سے پُوچھا اِتنے آلو کا کیا کریں گے؟بولے کبھی کبھی ٹھیکیدار آتا ہے اَور لے جاتا ہے، کبھی نہیں بھی آتا۔
مَیں نے پُوچھا: ٹھکیدار کِتنے میں ایک بوری خریدتا ہے؟
محمد اَسلم: ایک ہزار رُوپے میں۔
مَیں: ایک بوری میں کِتنے کِلو آلو ہوتے ہیں؟
محمد اَسلم: بھری ہوئی ہوتی ہے،تقریباً ۰۹ کِلو سے زیادہ۔
مَیں: ٹھکیدار اِتنے کم پیسے کیوں دیتا ہے؟
محمد اَسلم:کہتا ہے مارکیٹ میں ریٹ گِر گیا ہے۔لہٰذا زیادہ مہنگا نہیں خرید سکتے۔
مَیں نے آلوؤں سے سجے کھیتوں کو دیکھا اَو ر دُبلے پتلے محمد اَسلم صاحب کو دیکھا۔پھِر تصور میں ٹھیکیدار کو، جِس کی قیمتی گاڑی اِس پگڈنڈی نما سڑک پر محنت کارَس چُوسنے آتی ہے اَور چمکتی ہُوئی شہروں میں فراٹے بھرتی ہے۔آلو یہاں کی سب سے زیادہ پیدا ہُونے والی فصل ہے۔اِن آلوؤ ں سے بے شمار اَشیا تیار ہوتی ہیں۔چِپس اَور اُن کی طرز کی دیگر کئی اَشیا۔بیرونی سرمائے پر یہ صنعت (پاپڑ،لیز) اَیسے ہی محنت کَشوں کے دَم پر کھڑی ہے۔روزانہ سکولوں،کالجوں،یونیوَرسٹیوں اَور پارکوں میں لاکھوں لوگ آلوؤں سے بنی اَشیا کھاتے ہیں۔اُس حاصل شُدہ سرمائے کا ایک فیصد بھی کِسان کو نہیں مِل پاتا۔ زراعت ہی جہاں ریڑھ کی ہڈی ہَواَور اُسی ریڑ ھ کی ہڈی پر غُربت کا بوجھ لاد ا جاتا رہے، تو یہ کمر کَب تلک کھڑی رہے گی۔آخر غریب کی کمر ہے جُھک جائے گی یا ٹوٹ جائے گی۔
مَپنُوآباد کی طرف سَفر کرتے ہوئے،نالے کے پار گھاس پر ایک چھوٹا سا سُرخ خیمہ لگا تھا۔نہ باہر کوئی آثار تھے،نہ اَندر کی زندگی کا کوئی سُراغ۔لگتا تھا خیمہ گزیں موجود نہیں صرف خیمہ ہے۔ممکن ہے کِسی چرواہے نے یہ خیمہ کہیں سے حاصل کِیا ہو یاپھر دُور پار بَسنے والے گاؤں کے کِسی فرد نے عارضی طور  پر خیمہ زنی کر رکھی ہو۔اِس خیمہ میں صرف تیز ہَو ااَور بارش سے بچا جاسکتا ہے۔سبز گھاس پر سُرخ گول خیمہ،جو بمشکل اَپنے لیے جگہ بنا پایا تھا۔اُس کے اُوپر چٹان اَورنیچے بہتے پانی کی موسیقی تھی۔جِس نے بھی اِس جگہ کوچُنا تھا، اُسے باقی نظارہ مِلے یا نہ مِلے،اُسے ہَو اؤں کی سرسراہٹ اَور بہتے پانی کی گُونج ضرور سُنائی دے گی۔ وہ بھی سکوت کے راج میں۔
ہم واپس مُڑے کیوں کہ شام ہو نے کوآئی تھی۔پرندے اَپنے آشیانوں کو لوٹنے لگے تھے اَور گھاس کاٹنے والے مرد و زَن اَپنی خاموش بَستیوں میں شام بسانے چل پڑے تھے۔دِن بھر کے تھکے ہارے وجود دھرتی پرحُسن اُگانے والے، اِن محنت کَشوں کے ہی دَم سے تو زندگی کی رَونق ہے۔یہ محنت کرتے ہیں تو دُنیا رَاج کرتی ہے۔

جاری ہے ۔۔۔

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *