سمندر۔۔بنت الہدیٰ

سمندر مجھ سے ملنے کو بے قرار ہے مگر ساحل کنارے بچھی ریت میرے استقبال کو تیار نہ تھی۔
پاؤں رکھے ہی تھے کہ دھنسنے لگے۔
“ریت پہ چلنا اتنا مشکل کیوں ہے؟ ”
بہت دِقت  سے میں نے اگلا قدم اٹھایا۔۔
“تکبر ریت کو پسند نہیں۔۔ تمہیں جھک کر چلنا ہوگا اکڑ کر چلنے والوں کو وہ اپنے اندر کھینچ لیتی ہے۔۔۔

سمندر کی ایک موج نے ابھرتے ہوئے جواب دیا اور پھر پلٹ گئی۔۔

میں نے سنبھلتے ہوئے دور تک پھیلے سمندر کے نیلے پانی کی طرف دیکھا جو ابھی بھی مجھ سے دور، پر میرا منتظر تھا۔۔۔۔کچھ قدم اور بڑھائے کہ ایک بپھری ہوئی لہر میرے پیروں سے آ لپٹی۔۔

” تم ساحل کنارے آنے کے لیے میری منتظر رہا کروں گی اور میں تمہارے قدموں کو تھامے تمہیں ہر انتظار سے بچا لوں گی ”

سمندر کی یہی ادا مجھے اس سے اور قریب کردیتی ہے،

تاحدّ نگاہ۔۔ دور تک پھیلا ہوا۔۔۔ لہروں پر حکمرانی کرنے والا سمندر اب میرے سامنے تھا۔
شہر کی آبادی سے دور۔۔
اس کونے میں مجھے یہی چیزیں کھینچ لاتی ہے،
خاموشی، سکوت اور من موجی لہریں،

دیر تک پاؤں پانی میں دیے بیٹھنا اور بے تاثر چہرے کے ساتھ سمندر کی باتیں سننا۔۔
بظاہر خاموش دِکھنے والی ہر موج ایک لمحہ سکوت نہیں رکھتی۔۔ مسلسل بولے ہی چلی  جاتی ہے۔۔
سمندر کی لہروں کا یونہی بولے چلے جانا اور پھر یونہی لوٹ آنا۔۔
اور میرا خاموشی سے انہیں سنتے رہنا۔۔۔
نہ جانتے ہوئے سب کچھ جان لینے کا انوکھا تجربہ رکھتا ہے،
اور میں نے بہت جلد یہ جان لیا کہ سمندر اور میں، ہم دونوں ہی انتظار کے قیدی تھے۔۔
میں سمندر کو اپنا حال بتاتی اور جب سمندر ساری باتیں اپنے اندر سمیٹ لیتا تو واپس لوٹ آتی،
اور سمندر اپنا سارا شور میرے تخیل کے سپرد کر دیتا۔
کہ جس میں انتظار کی لہریں خشکی کے ہر کنارے سے سر پٹختی ہوئی لوٹتی اور بیان کرتیں کہ تلاش کا سفر کتنا کٹھن ہے۔۔۔
سمندر کے پاس ہمیشہ ہی میرے لیے بہت سارے سوالات ہوتے ہیں اور کنارے پہ بکھری سیپیاں جواب تلاش کرنے میں میری مدد کرتی ہیں۔۔
اور اگر میں جواب نہ دے پاؤں تو یہی ریت کے ذرے مجھ سے میری جہالت اور کمزوری کا اعتراف کروالیتے ہیں،
سمندر کے عین وسط میں امڈتی موجیں ہر بار تخلیق کا اک نیا سوال لیے کنارے تک آتی ہیں اور مجھے جواب کی تلاش میں سرگرداں چھوڑ کر خاموشی سے پلٹ جاتی ہیں،
سمندر کی حکمت اور ریت کی دانائی کے بیچ ٹھہرا ہوا مصلحت کا ساحل مجھ سے ہر سوال پر زندگی سے بھرپور ایک شوخ جواب کا مطالبہ کرتا ہے۔۔۔۔

چو سیلیم و چو جوییم همه سویِ تو پوییم
که منزل‌گهِ هر سیل به دریاست خدایا
(مولانا رومی)

ہم سیلاب کی مانند ہیں اور نہر کی مانند ہیں، اور سب تمہاری جانب رواں دواں ہیں۔۔۔۔ کیونکہ، اے خدا، ہر سیلاب کی منزل گاہ سمندر میں ہے!

بنت الہدی
بنت الہدی
کراچی سے تعلق ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *