اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط10)۔۔سلمیٰ اعوان

کلو زویم۔ آرچ آف کونسٹنٹائن، پیلاٹن ہل
اور مسٹر اُفیذی سے ملنا

o روم کی بلندوبالا عمارات کی پیشانیوں پر روم کی عظمتوں کی کہانیوں کی ماتھا پٹیاں سجی ہیں۔ ایک ابدیت والا شہر۔
o مذہبی انتہا پسندی کی جنونیت اگر قبل مسیح تھیں تو بعدمسیح بھی ویسی ہی جارحانہ تھیں۔
o آج کے ماڈرن امریکہ کا تشّددکے لئے ذوق و شوق اور محبت بھی ماضی کے رومن شاہوں جیسی ہی ہے۔
o رومی سلطنت کی عمر ایک ہزار سال۔ پانچ سو سال عروج اگلے پانچ سو سال زوال کے۔

tripako tours pakistan

صبح کا ناشتہ بڑا بھرپور تھا۔دودھ کا جلا چھاچھ کو پھونک پھونک کرپیتا ہے۔بڑے ہوٹلوں کے بین الاقوامی قاعدے کُلیوں سے واقف ہونے کے باوجود وینس والا تجربہ بڑا عجیب سا تھا۔شاید اسی لئیے شہر کے مرکز اور ایک مناسب ہوٹل ہونے کے باوجود میرے اندر گومگو والی کیفیت تیار ہونے تک رہی۔
پتہ نہیں ناشتہ ملے گا کہ نہیں۔ہوٹل تو خاصا بڑا ہے۔سوچتے ہوئے یونہی پوچھ بیٹھی۔
”بریک فاسٹ۔“
راہداریوں میں بھاگتے دوڑتے ویڑوں میں سے ایک نے ہاتھ کے اشارے سے ایک طرف جانے کی راہنمائی کی۔
لیجئیے باچھیں کِھل گئیں۔ناشتے کا بازار سجا پڑا تھا۔وینس والی تلخی پر بھی پھوار سی برس گئی۔تاہم احتیاط اور باریک بینی کا عنصر میزوں پر سجی اشیاء کے جائزے میں بڑا محتاط اور چوکس سا رہا۔ہاں البتہ دودھ،دہی اور جوس کے معاملے میں حالات معمول کے انصاف سے بھی بڑھ کر تھے۔بسم اللہ کے ہتھیار کو نفسیاتی حربے کے طور پر ساتھ رکھا۔چور نظروں سے سروس کرتی عورتوں پر بھی کڑی نظریں رکھیں کہ کہیں اُن کی نظروں میں نہ آؤں کہ ایک دوسرے سے کہتی پھریں۔
”ہیں بڑی پیٹو ہے۔چار بندوں کا دودھ دہی ڈپ گئی ہے۔ناں بھئی ناں۔ ابھی رہنا ہے مجھے یہاں۔“
زیادہ لمبے چوڑے چکروں میں نہیں پڑی۔سڑک پر آتے ہی سیدھی اُسی دکان پر گئی جس کے بارے کل پتہ چلا تھا کہ “ہوپ آن ہوپ آف” کا ٹکٹ اِدھر سے مل جائے گا۔بنگالی سیلز مین نے سبز رنگ کی ایک اور بس سروس کا کہا جس کا ٹکٹ اٹھارہ یورو کا تھا۔
”ارے نہ بھائی اسی سُرخ والی کا دو مجھے۔دو یورو کو بچا کر کیا کرنے ہیں۔اتنی مشکل سے تواِس پبلک بس کمپنی کے بس سٹاپوں کا مخصوص ڈیزائن کھوپڑے میں آیا ہے۔بسوں کی پہچان ہوئی ہے۔اب نئے سیاپوں میں پڑوں دو ٹکے بچانے کیلئے۔“
تو بس کہاں سے ملے گی؟وہ مسئلہ بھی حل ہوگیا۔
دو قدم پر بس سٹاپ تھا۔صبح نو بجے بس نے یہاں سے روانہ ہونا تھا اور شام چھ بجے یہیں اُتارنا تھا۔سڑک کی ایک کراسنگ کے بعد ریلوے اسٹیشن سے ذرا ادھر جائے مطلوبہ تھی جہاں بس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی کھڑے تھے۔میں نے موبائل پر ٹائم چیک کیا۔نوبجنے میں ابھی پندرہ منٹ باقی تھے۔
پہلے میں نے سوچا اوپر کی منزل پر جاتی ہوں۔نظاروں کی لوٹ مار میں آسانی رہے گی اور مزہ بھی آئے گا۔پھر دھوپ کا سوچ کر ارادہ بدل دیا۔روم اِن دنوں بہت گرم تھا۔یوں بھی سیڑھیاں اُترنے چڑھنے سے پرہیز ہی رہے تو اچھا ہے۔
خوبصورت سیاہی مائل سڑکوں کی سورج کی روپہلی روشنی میں چمک دمک اور کناروں پر گہرے سبز درختوں کی ہریالی۔ بھئی کیا بات تھی اِس حسین امتزاج کی۔شاندار گاڑیوں،بسوں،سیاحوں کے پُروں کا ان شاہراہوں پر چلنے کے انداز اور اُن میں چھلکتے کہیں کہیں متانت، اتراہٹ اور کہیں چُلبلے رنگ دیکھ کر مزہ آتا تھا۔اس پر طرّہ بلندوبالا عمارات کا وسیع وعریض پھیلاؤ جن کی پیشانیوں پر روم کی عظمتوں کی کہانیوں کے سلسلوں کی ماتھا پٹیاں سجی ہیں۔
کل شام مسز سمتھ کے پاس تھی۔ خوش تھیں کہ روم جارہی ہوں۔A Roman Holidayاور بن حرBen-Hur جیسی شہر ہ آفاق فلمیں میں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں قیام کے دوران دیکھی تھیں۔ اُس کا تاثر ابھی تک تھا۔ مسز سمتھ نے رات لفظوں سے جو تصویریں بنائیں انہوں نے ساری رات اسی فسوں میں رکھا تھا۔
کیا بات تھی اس قوم کی جس کی سلطنت کا دائرہ سکاٹ لینڈ سے لے کر مصر شام اور میسو پو ٹیمیا (موجودہ عراق) تک پھیلا ہوا تھا۔ہوا کے جھونکوں میں عظمت رفتہ کی خوشبو تھی جو چہرے سے ٹکراتے ہی اس کی لطافت سے آشنا کرتی تھی۔
پانچ سو قبل مسیح اور پانچ سو بعد مسیح کا یہ شہر جو جمہوریت کا علمبردار تھا تو بادشاہت کو پروان چڑھانے کا سہرا بھی اسی کے سر سجا تھا۔بربری لوگوں کا ایک چھوٹا سا قبیلہ جو تاریخ میں امر ہوگیا۔ اسی قبیلے نے ایک عظیم الشان سلطنت کی بنیادیں رکھیں اور پھر کیسے آہستہ آہستہ سکڑتے ہوئے ایک شہر کے حجم میں قیدبھی ہوا۔اِس عروج و زوال کی بڑی دلچسپ داستانیں اس کی پشت پر بکھری ہوئی ہیں۔
پہلے پانچ سو سالوں میں جب روم کی فوجوں نے پورے اٹلی کے جزیرہ نما اور اس سے بھی پرے کے علاقے اپنی حکمرانی میں شامل کئیے تب روم ایک جمہوریت تھی جسکے حکمران اس کے منتخب سینیٹرز ہوتے۔
اگلا پانچ سو سال کا دور اسکے دنیا میں پھیلاؤ اور زوال کا تھا۔روم تب ایک سلطنت اور حکمران فوجی ڈکٹیٹر تھے۔
جولیس سیزر کی یادآئی تھی۔اقتدار اور جاہ و حشمت کا خواہش مند حکمران جس نے جمہوریت اور بادشاہت کے درمیان ایک پل کی طرح کام کیا۔بڑی کرشماتی شخصیت کا مالک۔اس ایک پر کیا۔اُس وقت کے بیش تر جرنیل ایسی ہی دیوملائی اور طلسماتی شخصیتوں کے مالک تھے۔سُلاsulla، کریسس Crassus پومپئی pompey۔
جولیس سیزر تو خیر زمانوں اور صدیوں بعد پیدا ہونے والا دیدہ ور قسم کا انسان جس کی جُملہ خوبیوں میں ایک مصر کی ملکہ قلو پطرہ کا عاشق اور دوسرے The Gallie Wars کا مصنف ہونا بھی تھا۔ تو یہی وہ تھا جس نے رومن آئین کو معطل کرکے آمر کا تمغہ سینے پر سجا لیا تھا۔اپنے چار سالہ دور اقتدار میں یہ آمریت اِس درجہ جارحانہ ہو گئی کہ سینیٹرز اِس فکر میں مبتلا ہو گئے کہ کوئی دن جاتا ہے جب وہ بادشاہت کا تاج سر پر رکھ لے گا۔
تو یہ مارچ ہی کے دن تھے۔ خوبصورت، چمکدار اور شگوفوں کے پھوٹنے کے۔ جب اُن سب سینٹیرز نے اُسے پار لگانے کا منصوبہ بنایا۔ حملے میں وہ بھی شامل تھا،وہ یعنی جولیس کا گہرا دوست ہی نہیں اس کا پروردہ آگسٹس۔
ارے اس بارے بھی کتنی روایتیں، حکایتیں، کتنے افسانے ہیں۔ سیزرکا ناجائز بچہ بھی انہی قیافوں کی فہرست میں شامل ہے۔
پس تو انہی سینیٹرزکی باہم سازشوں نے جلد ہی تختہ دار پر لٹکا دیا۔
اقتدار پھر اس کے متبنیٰ بیٹے آگسٹس نے سنبھالا۔ جولیس تو دنیا سے چلا گیا۔اب اللہ بھلا کرے شیکسپیئر کا کہ اُس کے جانے کو بھی امر بنا دیا۔ وگرنہ تو تاریخ جانے والوں سے بھری پڑی ہے۔ تو جو تصویر شیکسپیئر نے کھینچی ہے اُسے بھی ایک نظردیکھ لیں۔
تو وہ تیز ی سے پلٹا۔ وہ یعنی جولیس اور اس نے دیکھا۔ اپنے دوستوں اور خیر خواہوں کو، اپنے بدخواہوں پر بھی نظر ڈالی مگر وہ پتھر ہوگیا تھا۔ اس کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ جانے کیسے اس کی زبان سے نکلا۔
”بروٹس تم بھی۔“
اب یہ بھی اللہ جانے یا شیکسپیئر جانے کہ ایسا کچھ کہا بھی گیاتھا یا سارا شاخسانہ اس کے قلم کا ہے؟ہاں یہ ضرور ہوا کہ اس کے نام کا دوسرا حصّہ نام نہ رہا رومن سلطنت کا ٹائیٹل بن گیا۔
یہ آگسٹس کا زمانہ تھاجب روم اپنی بلندیوں کو چُھورہا تھا۔سکاٹ لینڈ سے مصر اور تُرکی سے مراکش تک۔
اور کلوزویم Colosseum آگیا تھا۔
گاڑی نے سڑک کے کنارے اُتار دیا۔دھوپ تیز اور بے حد چمک دار تھی۔بجری بچھے راستے پر فوراً سپرس کے درخت کے نیچے رُک کر مسرت و تشکر سے لبریز نگاہوں سے گردوپیش کو دیکھا۔ذرا دور اُترائی میں پُرہیبت گول محرابی سلسلے والی 2000سالہ پرانی عمارت جو رومن انجنیرنگ کی کلاسیکل مثال ہے وقت اور موسموں کے ہاتھوں بظاہر شکست خوردہ مگر انتہائی قابل توجہ تمکنت سے کھڑی تھی۔
تھوڑا ساآگے چلنے پر دورویہ سپرس کے درختوں سے سجی سڑک پر آگئی۔دائیں بائیں لوگوں کے پُرے چلتے تھے۔اردگرد کے بکھرے منظروں سے لُطف اٹھاتے کونسٹنٹائن محراب کے پاس رکناپڑا۔
رنگا رنگ لوگ اور رنگا رنگ زبانیں محراب کے گردا گرد وسیع پختہ میدان میں بکھری ہوئی تھیں۔یہ بھی کیا شاہکار چیز ہے۔چہار جانب آرٹ کے نمونوں کی کندہ کاری سے گھتی اور ہر نمونے میں تاریخ کی یاد اپنے چہرے پر سجائے۔سہولت کیلئے لمبے چوڑے تذکرے کی بجائے مختصراً اتنا ہی کافی ہے کہ یہ اُس اہم واقعے کی نمائندہ ہے جس نے عیسائیت کی تاریخ کو نیا موڑ دیا۔
شہنشاہ کونسٹنٹنConstantineنے جب اپنے حریف میکسنٹسMaxentiusکو ملوئین برجMilvian Bridge کی لڑائی میں شکست دی۔اُس رات اُس نے آسمان پر کراس دیکھا تھا۔وہ تو عیسائیت کا جانی دشمن تھا۔گو ماں اور بہن عیسائی تھیں۔بس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ یہودیت کو کہیں دفع دور کرتے ہوئے عیسائیت کی گود میں یوں گرا کہ ساری مغربی دنیا کو اِس رنگ میں رنگ دیا۔
کیامزے کی بات کہ 300بعد مسیح میں آپ عیسائی ہونے کے جرم میں قابل قتل تھے۔ کجا کہ آپ قتل ہوسکتے ہیں اگر آپ عیسائی نہیں۔واہ مذہبی جنونیت کی انتہا ہیں۔
رومن آرٹ نے اپنی انتہاؤں پر پہنچ کر ماضی کے بادشاہوں کو پرشکوہ بنا دیا تھا۔ٹاپ پر ٹراجن اور آگسٹس کے مجسمے تھے۔ ٹراجن بھی رومن تاریخ کا بڑا لائق فائق شہنشاہ تھا۔ Hadrian اور مارکس کے زمانوں تک عروج کی دیوی مہربان رہی۔ یہ سب دو صدیوں کا معاملہ تھا۔ اگلی تین صدیاں زوال کی نذر ہوئیں۔ جسامت میں سکڑا۔ سائز میں کم ہوا۔ کرپشن کی بیماری، بے حدوحساب فوج اور حکومتی شاہ خرچیاں۔
وہ شہرہ آفاق بیماریاں کل بھی تھیں،آج بھی ہیں اور آنے والے کل میں بھی رہیں گی۔ ماضی میں سلطنتوں کے ڈنڈے ڈولیاں گرانے کا باعث، عصر حاضر میں تاج شاہی گرانے کا باعث،اور آنے والے وقتوں میں بھی انھی کی پردھانی چلے گی۔
یہ شہنشاہDiocletian تھا جس نے سلطنت کو دو مساوی حصوں میں تقسیم کر دیا۔ کونسٹیٹن Constantine نے اپنا پایہ تخت قسطنطنیہ کو بنایا(یعنی موجودہ استنبول)۔
تقریباً پندرہ لوگوں پر مشتمل اُدھیڑ عمر لوگوں کا ایک ٹولا گائیڈ کے ہمراہ قریب آکر رُک گیا۔صورتوں سے یورپی لگتے تھے۔گائیڈ کی آواز اتنی اونچی اور انگریزی کا لب و لہجہ اتنا صاف اورواضح تھا کہ میری پوری توجہ اُس نے کھینچ لی تھی۔
یاد رکھیں رومی سلطنت ایک ہزار سال قائم رہی۔پانچ سو سال اسکی بڑھوتری اور پھیلاؤ کے، اگلے دوسو سال اس کے انتہائے کمال پر پہنچنے کے اور آخری تین سو سال اس کے زوال کے۔
گروپ میں سے دو تین لوگ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
”لیجئیے دو فقروں میں عظیم سلطنت کی قصہ کہانی کنارے بھی لگ گئی۔“
گائیڈ نے بھی خوش دلی سے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کی۔
یہ قصہ کہانی بھی لُطف دینے والی ہے۔ کہ ہر ایک نے الزام دوسرے پر دھرا۔عیسائیوں کے ایک طبقے کا کہنا تھا کہ تباہ تو انہیں (یعنی باقی مذاہب کو) ہونا ہی ہونا تھا۔کوئی اخلاقیات رہیں ان کمبختوں کے پاس۔
اب یہ بت پرست بھی ڈھاڈے نکلے۔انہوں نے الٹا الزام عیسائیوں پر دھرا۔
ریاست کے سوشلسٹ کون سا کم تھے۔انہوں نے بیانگ دہل کہا کہ جب ماردھاڑ اور جنگ و جدل کی لتیں پڑجائیں تو لوگوں کی فلاح و بہبود کا خیال کہاں رہتا ہے؟لوگوں کے معاشی حالات خراب ہیں تو حکمرانوں کو کیا؟بس علاقے پر علاقہ فتح کرتے جاؤ۔
رہ گئے جمہوریت پسند انہوں نے آمروں پر اور آمروں نے جمہوریت والوں کو رگیدا۔
یوں وقت کی عظیم سلطنت اپنا وجود قائم ہی نہ رکھ سکی۔جرمنی اور ایشیا کے جنگجو لوگوں نے جزیرہ نما اٹلی کو نہ صرف تاراج کیا بلکہ اس روم کو بھی لوٹ کر لے گئے۔کہ جب آخری شہنشاہ باہر نکلا تو بتیاں بجھ گئیں اور دھیرے دھیرے پورا یورپ جہالت اور غربت کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔
گائیڈ بھی ایک نمبر ڈرامے باز دکھتا تھا۔آواز ”اندھیروں میں ڈوب گئی“کے ساتھ پہلے مدھم سی اور پھر جوشیلے سے انداز میں اُبھری۔
پر روم زندہ رہاکیتھولک چرچ کی گود میں۔روم کی آخری نسلوں کا ریاستی مذہب عیسائیت ہی تھا۔اب نیا ڈرامہ شروع ہوگیا کہ پہلے تو شہنشاہوں نے پوپ کا تاج سروں پر سجالیا۔دونوں نے خود کو پاپائے روم Pontifex اور Maximus کہلوانا شروع کردیا۔
دوسرا نمبر سینیٹرز کا تھا خیر سے وہ بشپ زBishops کا روپ دھار بیٹھے۔تقریروں کے ماہر اور خطیب لوگ پادری بن گئے اور Basilicas کو گرجاگھروں میں منتقل کردیا گیا اور دیکھ لیں روم کی شاہانہ عظمتوں نے اسے ابدیت والا شہر بنا دیا۔
مجمع میں سے کِسی نے سوال کیا۔
”یہ بتائیے کہ پوپ کیا کھیتولک تھا؟“
ہنسی کا ایک ریلا سارے میں بہہ گیا۔ایک دو اور ایسے ہی اونگے بونگے سوال ہوئے۔معلوم ہوتا تھا جنرل نالج میں یورپی بڑے ہی غریب ہیں۔سچ تو یہ تھا کہ گائیڈ کا کیا انداز تھا کِس دلچسپ انداز میں اُس نے عروج و زوال کے المیوں کو نئے حالات سے آہنگ کیا۔مزہ آگیا تھا سارے قصے کو سُن کر۔
آرچ سے کلوزویم جانے والا ایک راستہ گول پتھروں والا تھا۔ذرا دھیان سے چلنا پڑتا تھا۔میں کچھ دیر بعد جب میدان میں پہنچی تو وہی گائیڈ اپنے گروپ کے ساتھ کھڑا نظرآیا۔
میں نے سوچا کہ بہتی گنگا میں نہانا نہیں تو منہ دھونے میں کیا حرج ہے؟ابھی ابھی ہاتھ تو میں نے دھوئے تھے اور مزہ بڑا آیا تھا۔
وہ ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا تھا۔میں قریب چلی گئی تھی اور دیکھتی تھی کہ اشارہ سپرس درختوں کی جانب تھا۔
تو یہاں کبھی کانسی کا سوفٹ لمبا نیرو کا مجسمہ تھا جو اب نہیں تھا۔
روم کی تاریخ کا ایک بدنما باب۔ماں کو قتل کرنے،حاملہ بیوی کو ٹھڈے لگا کر موت کے منہ میں دھکیلنے،ہزاروں بے گناہ عیسائیوں کو قتل کرنے جن میں سینٹ پیٹر جیسی مقدس ہستی شامل تھی۔
تو خواتین وحضرات اس کی زندگی کے اُس شہرہ آفاق ایپی سوڈepisode کی بھی چند جھلکیاں دیکھ لیں۔
تو یہ نیروکلاڈیس سیزر محل کی چھت پر بیٹھا تقریباً دو فٹ لمبی بانسری ہونٹوں سے لگائے آنکھوں سے سازندوں کو موسیقی کا کوئی سُر شروع کرنے کا حکم دیتانیچے روم کی کچی آبادیوں کو دیکھتا تھا جہاں آگ کے شعلے لمبی لمبی زبانیں نکالے غریبوں کے گھر اور اُن کے بچے نگل رہے تھے۔ نیچے محل کے سامنے لوگوں کے ہجوم تھے۔ چیختے چلاتے لوگ۔ آگ پھیلتی جا رہی تھی۔ پورا روم لپیٹ میں آ چکا تھا۔ عورتیں، بوڑھے، بچے جل مرے تھے۔ پورا روم راکھ کا ڈھیر بنا پڑا تھا۔
پھر اِس ڈھیر پر خواہشوں کے لا متناہی سلسلوں کا پھیلاؤ ہوا۔ نیا شہر عالیشان محل۔ مگر عظیم الشان محل باڑیوں کے لئے پیسہ کم پڑ گیا۔ خزانہ خالی ہوگیا۔ ہنگامے اور احتجاج کرنے والوں نے محل کا گھیراؤ کر لیا۔ جان بچانے کے لئے بھاگا تو کہیں جگہ نہیں مل رہی تھی۔ایک غلام کے کچے گھر میں داخل ہوا۔ یہاں سلین تھی۔ بدبو تھی۔ روشنی نہیں تھی۔ کتنے ہی دن وہاں ٹھہرا۔ بپھرے ہوئے لوگوں کا تعاقب جاری تھا۔ پھر معلوم ہوگیا۔ تو خودکشی ہی زیادہ بہتر نظر آئی کہ مشتعل ہجوم نے تکّہ بوٹی کر دینی تھی۔
”تو اے بندے توکب جانے گا کہ ٹھکانہ تو دو گز زمین ہی ہے۔“
میں خود سے کہتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
بڑی لمبی قطار تھی جو ٹکٹ کیلئے لگی کھڑی تھی۔اسی میں لگنا پڑا تھا۔مجھے دوسرے راستوں کا پتہ چل گیا تھامگر ان کے پروگرام بڑے تیز رفتار اور بھاگ دوڑ والے تھے۔اس میں رومن فورم اور Capital Hill اور کچھ مزید جگہیں شامل تھیں۔
کلوزویم بھی اپنے اندر ایک پورا جہاں سمیٹے ہوئے تھا۔بہرحال ٹکٹوں کا نظام تیز تھا۔ سکیورٹی چیکنگ کے مرحلے بہت منظم تھے۔ ٹکٹ کو ٹرن سٹل سے مس کرنے اور میٹل ڈیٹکڑوں کی سارے جسم پر پھیرا پھرائی سے فراغت پاتے ہی آگے دھکیل دی گئی۔
کلوزویم میں داخل ہونا گویا صدیوں کی تاریخی کتاب کو کھولنا تھا۔اندر داخل ہونے سے قبل ہی اِس چار منزلہ عمارت نے عجیب سا سحر پھونک دیا تھا۔
کہیں دوہزار سال سے بھی زائد کی یہ قدیم ترین تعمیر دراصل رومن انجینئرنگ کا بھی ایک شاہکار ہے۔ یہ رومن بھی کس پایے کے لوگ تھے۔ یہی تھے کنکریٹ اور گول محرابوں کے بانی۔
”اُف‘‘ یوں محسوس ہوتا تھاجیسے میں صدیوں قبل کے وقت کی کسی ٹنل میں داخل ہو ئی ہوں۔
اس کی راہداریوں میں چلنا اور اپنے اردگرد بلندوبالا دیواروں کا گھیراؤ،اسکے چھتے ہوئے طویل محرابی صورت گلیارے خنکی اور ہیبت سے لبریز ہر قدم پر روکتے اور کچھ سناتے ہیں۔
کتابوں کا ایک بک سٹور اندر کھینچ کر لے گیا تھا۔کچھ دیر وہاں بیٹھی انکی پھولا پھرولی کی۔ہر منزل کیلئے راستے کھلتے تھے۔تاہم لفٹ بھی تھی اور بیٹھنے کیلئے لمبے لمبے خوبصورت سنگی بینچ بھی تھے۔کچھ چلنے کے بعد سستاتی۔نظارے دیکھتی۔تاریخ میں تانکا جھانکی کرتی اور کھڑی ہوجاتی۔تیسری منزل پر کھڑے مجھے محسوس ہوا تھا۔جیسے میں موت کے کنوئیں میں کھڑی ہوں۔چاروں طرف پرہیبت عمارتوں نے گھیراؤ کررکھا ہے۔
تو تعمیر تب ہوئی جب رومن سلطنت عین اپنے عروج پر تھی۔ یہ اُس سلطنت کے جاہ وجلال اور شکوہ کاآئینہ دار ہے۔اس کا اصلی نام فلیویئنFlavian ایمفی تھیٹر تھا۔اس تما شا گاہ میں گلیڈی ایٹرGladiator مقابلے کی آڑ میں ہزاروں تماشائیوں کے سامنے موت کا وہ کھیل کھیلتا تھاجو ظالمانہ حد تک بے رحم تھا۔
رومن بادشاہوں نے اپنی سفاک فطرت کی تسکین کیلئے جب موت کے اِس کھیل سے لُطف اندوز ہونا اور لوگوں کو بھی محظوظ کروانا شروع کیا تو پھر اُن کی خواہش تھی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اِسے دیکھیں اور گلیڈی ایٹروں،جنگی مجرموں اور جنگلی جانوروں کے اِس وحشیانہ کھیل کو موت تک ہر انداز اور ہر زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے خوش ہوں۔ انسان جس کے پاس طاقت اور اقتدار ہے کتنا سفاک ہے؟
صدیوں پہلے بھی ایسی ہی فطرت کا اظہار کرتا تھا اور صدیوں بعد آج بھی وہی سب کچھ ہے۔بس ذرا اندازبدل گئے ہیں۔بنانے والا شہنشاہ Vespasian Flavianتھا۔فلیوئین اُنکا خاندانی نام تھا۔
سال 721 ADتھا۔
یہ کیسی مزے کی بات تھی کہ جب میں بینچ پر بیٹھی ذرا سستاتی اور گردوپیش کو دیکھتی تھی مجھے لوگوں کے جتّھے گائیڈوں کے ہمراہ بھیڑ بکریوں کے اُن ریوڑوں کی طرح دکھتے تھے جو گلّہ بان کے اشاروں کے ساتھ ساتھ اسکی رہبری میں حرکت کرتے ہیں۔ایک گروپ میرے بالکل پاس آکھڑا ہوا تھا۔گائیڈ اُس ظالمانہ کھیل کی منظرکشی کررہا تھا۔
عین اُس وقت مجمع میں سے ایک نوجوان لڑکی کی آواز بلند ہوئی تھی۔
”آج کے ماڈرن امریکہ کا تشّدد کیلئے ذوق و شوق اور محبت بھی ماضی کے رومن شاہوں جیسی ہی ہے۔“
زور دار قہقے بلندو بالا دیواروں کے دائروں میں گونجنے لگے۔مزہ آیا تھا یہ بات سُن کر۔ کتنی سچی اور کھری بات۔ لڑکی جس نے ہنستے ہوئے یہ کہا تھا میرے سامنے ہی تھی۔یہی کوئی تیس،چوبیس سال کی تھی۔منہ چوم لینے کو جی چاہتا تھا۔
خدا کا شکر تھا کہ لفٹ کے پاس ہی باہر جانے والے راستے پر واش روم تھا۔اچھا بڑا اور خاصا صاف ستھرا۔اب ایک جگہ بیٹھ کر میں نے بیگ سے سیب اور کیلے نکالے۔دودھ کی بوتل ساری خالی کی اور ڈسٹ بن میں پھینکی کہ چلو بوجھ تو کم ہو۔
دو تین ٹولوں کو اپنے سامنے کی سمت جاتے دیکھ کر کِسی سے پوچھا۔
”اسطرف کیا ہے؟“
نیرو کا گولڈن ہاؤس۔اور میمر ٹائن بندی خانہ Mamertine Prison۔رُک کر میں نے سوچا میں جاؤں اسطرف۔ تاریخی جگہوں کی کشش دامنِ دل کو کھینچتی تھی اور بدنی ہمت مایوس کرتی اور کہتی تھی کہ روم کی جس اینٹ کو اٹھاؤ گی نیچے سے تاریخ کا پٹارہ نکلے گا۔احتیاط پسندی کا کہنا تھا کہ سکون سے چلو۔ آرام آرام سے جو اور جتنا دیکھ سکتی ہو دیکھو۔ کھپنے والی عمر نہیں تمہاری۔
کچھ دیر بعد اُٹھی اور نیرو کے گولڈن ہاؤس کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ اب چپ چاپ چلی جا رہی ہوں۔ یہ کلوزویم کے بالمقابل ہے۔ نرے کھنڈرات تھے۔ کبھی کی شاہانہ عظمتیں خاک کا ڈھیر ہوئی پڑی تھیں۔ گوورلڈ ہیریٹیج نے بہت بار مرمتوں سے اِس مردے کو کھڑا کرنے کی کوششیں کیں۔ مگر مردے کو مکھن کی کتنی چپڑ چپرائی ہو سکتی ہے۔ ہر پانچ دس سال بعد اِسے دوا دارو کی ضرورت پڑتی ہے۔
وسیع وعریض محلات کی یہ صورت جائے عبرت۔ ایک کمرے کے عین وسط میں کھڑا اس کا مجسمہ۔ کہیں محرابی صورت کمروں کا سیمی سرکل میں پھیلاؤ۔
یہ نیرو بھی روم کی تاریخ کا کتنا بد نما باب تھا۔ ماں کو قتل کرنے، حاملہ بیوی کو ٹھڈے مار مار کر موت کے منہ میں دھکیلنے، ہزاروں معصوم اور بے گناہ عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے جن میں سینٹ پیٹر جیسی مقدس ہستی بھی شامل تھی۔
اس کی زندگی کا وہ شہرہ آفاق ایپی سوڈ بھی کتنا زبان زد عام ہے۔ ایک جگہ بیٹھی تو جیسے فلم کی طرح منظر سامنے آتے گئے۔
تو یہ نیرو کلاڈلیس سیزر محل کی چھت پر بیٹھا تقریباً دو فٹ لمبی بانسر ی ہونٹوں سے لگائے آنکھوں سے سازندوں کو موسیقی کا کوئی سُرشروع کر نے کا حکم دیتا، نیچے روم کی کچی آبادیوں کو دیکھتا اور محظوظ ہوتا تھا۔آگے کے شعلے لمبی لمبی زبانیں نکالے غریبوں کے گھروں اور اُن کے بچے نگل رہے تھے۔ نیچے محل کے سامنے لوگوں کا ہجوم تھا۔ چیختے چلاّتے لوگ۔ آگ پھیلتی جا رہی تھی۔ روم لپیٹ میں آچکا تھا۔ عورتیں، بوڑھے، بچے جل مرے تھے اور پھر یہاں وہاں ہر جانب خوبصورت شہر راکھ کا ڈھیر بنا تھا۔
پھر اس ڈھیر پر خواہشوں کے لامتناہی سلسلوں کا پھیلا ؤ ہوا۔ نیا شہر اور عالیشان محل۔
مگر عظیم الشان محل باڑیوں کے لئے پیسہ کم پڑگیا۔ خزانہ خالی ہوگیا۔ لوگ بھوک اور بے روزگاری کے ہاتھوں مرنے لگے۔ تب ہنگامے جاگ اٹھے اور احتجاج کرنے والوں نے محل کا گھیراؤ کر لیا۔ سینیٹرز کا بھی ضمیر جاگا۔ انہوں نے بھی دہائی دی کہ وہ عوام کا دشمن ہے۔ جان بچانے کے لئے بھاگا تو کہیں جگہ نہیں مل رہی تھی۔ ایک غلام کے کچے گھر میں داخل ہوا۔ یہاں سلین تھی، بدبو تھی۔ روشنی نہیں تھی۔ کتنے ہی دن وہاں ٹھہرا۔ بپھر ے ہوئے لوگوں کا تعاقب جاری تھا۔ کھوج کر لیاگیا۔ خودکشی ہی زیادہ بہتر نظر آئی کہ مشتعل ہجوم نے تکہ بوٹی کر دینی تھی۔ اُسی غلام کے چھرے سے اپنی گردن کاٹ لی۔
ہاں ایک روایت سزائے موت دئیے جانے سے بھی ہے اور یہ بھی کہ مرتے ہوئے اس نے مجمع کو دیکھتے ہوئے حسرت زدہ انداز میں کہا تھا۔
”میں ایک انمول ہیرا۔ میں ایک عہد ساز فنکار۔ افسوس بے قدری دنیا نے میری قدر نہ کی۔“
واہ رے انسان تیری خوش فہمیاں
بس حقیقت یہی ہے کہ ٹھکانہ تو بس دو گز زمین ہی ہے
میں خود سے کہتے ہوئے آگے بڑھ گئی تھی۔
اپنے سامنے پہاڑی پر میں مٹیالے رنگوں کے ایک طویل سلسلے کو دیکھتی تھی یہ Palatine Hillتھیں۔جہاں بیٹھی تھی وہاں میری عمر کے تین لوگ اور بیٹھے تھے۔دو مرد اور ایک عورت یقینا وہ بھی سستا رہے تھے۔لاس ویگاس سے تھے۔گُھلنے ملنے والے،بغیر وجہ کے بھی مسکراہٹیں بکھیرنے والے۔مسٹر اُفیذی،مسز لدرا اُفیذی اور اُن کی دوست۔
یہ لوگ ابھی رومن فورم اور پیلاٹن ہل دیکھ کر آرہے تھے۔مرد نے بتایا کہ دونوں جگہوں کا دیکھنے سے تعلق ہے مگر پھیلاؤ اور پستہ قامت پہاڑی سلسلے تھکانے والے ہیں۔
تھوڑی سی بات چیت سے جانی تھی کہ رومن فورم ہی وہ جگہ ہے جہاں قدیم شہر کی بنیادرکھی گئی تھی۔یہیں وہ سات پہاڑیاں ہیں جن پر آغاز میں شہر بسا۔ قدیم شہر میں ہونے والے ہر اہم اور غیر اہم واقعے کا تعلق اسی مقام سے ہے۔ مختصراً مغربی تہذیب یہیں پروان چڑھی۔
”ہائے میں نے حسرت سے اوپر دیکھا تو مجھے کب یہاں لایا جب دانے ہی بک گئے۔“
کچھ ایسا ہی تاریخی ورثہ پیلاٹن ہل پر بکھرا ہوا ہے۔Remusاور Romulusکے گھر لیویا اور آگسٹس کا عظیم الشان محل،فلاں فلاں کے محل۔محلات کی لام ڈوریاں اور عجائب گھر جس میں دھرے مجسمے اور چیزیں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ اُن کی زندگیاں کیسی شاہانہ تھیں۔
مختصر سی تفصیل مضطرب کرنے کیلئے کافی تھی۔جوش اضطراب میں کھڑی بھی ہوگئی کہ پیاسا کنویں کے کنارے پر پہنچا ہوا تھا۔مگر ہمت اور طاقت کا بوکا پاس نہیں تھا۔اب کنویں میں چھلانگ لگانے والی بات ہی تھی نا۔
بوتل منہ سے لگائی کہ اندر کی بے چینی پر چھینٹے پڑجائیں۔ذرا سے سکون میں آنے پر خود سے کہا۔
”سیدھا راستہ ناپ اور منہ زور جذبوں کو نکیل ڈال۔کوئی گٹا گوڈا اُتر گیا تو بیٹھی رہنا۔تھوڑے سے بھی جائے گی۔“
کہیں اضطراب میں یہ اظہار مسٹر اُفیذی uffizi سے بھی ہوگیا۔اچھا ہی ہواہوگیا۔چیزوں کا روشن پہلو دیکھنے والا،مسٹرچیئر فل کی طرح مسٹر اُفیذی جس نے بڑ ی ہی دانائی کی بات کی۔
”آپ خدا کا شکر ادا نہیں کرتی ہیں کہ دور دیس سے تعلق کے باوجود آپ روم میں بیٹھی ہیں۔اٹلی کے ہی کتنے لوگ ہونگے جو کبھی روم نہیں آئے۔اور اگر ویٹی کن کی زیارت کیلئے آئے بھی ہوں گے تو بس وہیں سے واپس ہوگئے ہونگے۔جو نعمت میسر آتی ہے اور جس وقت آتی ہے اُسکا شکریہ ادا کریں۔آپ نے کلوزیم دیکھا۔بہت اچھا۔پیلاٹن ہل نہیں دیکھی۔کوئی بات نہیں۔ہم نے بھی سینٹ پیٹرز کا قیدخانہ اور نیرو کا گولڈن ہاؤس نہیں دیکھے۔انسان سب کچھ نہیں دیکھ سکتا۔“
میرے دل میں ٹھنڈک اُتری۔میں نے انکا نام،ای میل ایڈریس کا پی پر لکھا۔وہ لوگ ویٹی کن سٹی دیکھ کر آرہے تھے۔لگے ہاتھوں میں نے یہ بھی پوچھ لیا کہ وہاں کیا کیا دیکھوں؟رات کتابوں کی پھولا پھرولی نے بہت کچھ بتا دیا تھا۔اتنا بہت کچھ تو دیکھنا ممکن ہی نہیں تھا۔
”بس ویٹی کن میوزیم کافی ہے۔سسِٹن Sistine Chapel کو ذرا اچھی طرح دیکھیں۔
ڈھیر سارا شکریہ ادا کیا۔خدا حافظ کہا۔
واپسی کا راستہ دھوپ میں اٹا پڑا تھا۔”ہائے اندر سے آہ نکلی تھی۔
سٹاپ پر کراچی کے ایک جوڑے سے ملاقات ہوئی۔میں تو درخت کے نیچے بیٹھ گئی تھی۔لڑکی پاس آکر کھڑی ہوئی تو پاکستانیت نے فوراً توجہ کھینچ لی تھی۔بڑی بیبی سی بچی ہنی مون کیلئے آئی ہوئی تھی۔لڑکا بھی خوش شکل اور خوش اطوار دکھتا تھا۔ابھی باتوں کی محفل نے رنگ نہیں پکڑا تھا کہ میری بس آگئی۔”میری بس“کہتے ہوئے میں تو یوں اس کی طرف بھاگی کہ جوڑے کو خداحافظ کہنا بھی یاد نہ رہا۔
ویٹی کن کا بھی بڑا اشتیاق تھا۔ مگر میری ایک عجیب سی عادت ہے کہ میں ہر شہر کو آخری تحفے کی صورت میں وصول کرتی ہوں۔ ویٹی کن کا انوکھا تحفہ اسے ابھی مجھے سنبھال کر رکھنا اور آخر میں مزے لے لے کر دیکھنا تھا۔
بس میں بیٹھی اور ساتھ ہی میں نے سوچ لیا تھا کہ مجھے اب دو گھنٹوں کے لئے کہیں نہیں اُترنا۔ بس میں بیٹھے بیٹھے نظاروں کی رِم جھم برسات میں نہانا ہے۔ منظروں سے آنکھیں لڑاتے ہوئے انہیں اپنے قلب ونظر میں اُتارنا ہے۔
اسی طرح ایک تو ٹانگوں کو آرام مل جائے گا۔ گو اس وقت میں خود کو خاصی توانا، تازہ دم اور ہشاش بشاش محسوس کر رہی تھی۔ کھانے پینے اور تھوڑے سے آرام نے تازگی دی تھے۔ پانی کی دو اور دودھ کی ایک بوتل خرید کر بیگ میں گھسیڑی تھیں ۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply