اب کے دھاندلی کا نہیں امکاں جاناں ۔۔۔ عامر عثمان عادل

جب سے ہوش سنبھالا سیاست سے شناسائی ہوئی، ہر الیکشن میں ایک ہی شور سنا دھاندلی ہوگئی، جو بھی ہارا اس نے دھاندلی کے نعرے کو گلے کا طوق بنایا اور پھر دما دم مست قلندر شروع عوام  بیچارے اپنا مینڈیٹ ہی ڈھونڈتے رہ جاتے بس اتنی تبدیلی دیکھی کہ پہلے فرشتے ووٹ کاسٹ کرتے تھے اور اب خلائی مخلوق پورے کے پورے انتخابی نتائج کو ہی جام کر دینے پر قادر ہے ۔ بہت سے  دوستوں نے فرمائش کی اس پر بھی کچھ لکھیں میرا جواب  تھا کہ یہ بھاری پتھر مجھ سے کب اٹھایا جائے گا اور بھلا آج تک کسی ہارنے والے نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا

خیر قلم اٹھانے سے پہلے کم از کم سو کے قریب پریزائڈنگ آفیسرز سے براہ راست دریافت کیا حیرت ہے سب کے سب نے اس الیکشن کو صاف شفاف غیر جانبدارانہ اور منصفانہ قرار دیا جس سے بھی سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنے پولنگ اسٹیشنز سے کسی امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کو گنتی کے وقت باہر نکالا تو سبھی نے مسکراتے ہوئے اسکی پر زور تردید کی اور وضاحت کی کہ اس الزام میں کوئی  صداقت نہیں ۔پھر پوچھا وہ مشہور زمانہ فارم 45 نہیں دیا آپ نے  ؟۔۔۔۔ان کا کہنا تھا کیا یہ ممکن تھا کہ ہم کچھ مخصوص پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیتے؟ ان سب نے جو کہا اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے

ہم نے اپنے اپنے پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ کے آغاز سے قبل تمام عملے بشمول پاک فوج کے سپاہی غیر جانبداری کا باقاعدہ حلف لیا
کسی ایجنٹ کو باہر نہیں نکالا گیا ہاں اگر خود کسی کو جانے کی جلدی تھی تو اسے روکا نہیں گیا
اکثر پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کا وقت ختم ہونے پر دروازے بند کئے گئے اور جتنے ووٹرز موجود تھے سب کے ووٹ کاسٹ کئے جانے کے بعد گنتی کا عمل شروع ہوا جو تاخیر کا سبب بنا
فارم 45 کی تیاری ایک مشکل مرحلہ تھا جو وقت مانگتا تھا کچھ پولنگ ایجنٹس بالخصوص خواتین نے اصرار کیا کہ ہمیں جلدی جانا ہے رزلٹ دیا جائے جب انہیں فارم 45 کی تیاری تک انتظار کا کہا گیا تو انہوں نے عام کاغذ پر رزلٹ لینے پر رضا مندی ظاہر کی جس پر انہیں رزلٹ لکھ کر دے دیا گیا۔

خواتین پریزائڈنگ آفیسرز اور ماتحت عملے کیلئے فارم 45 کی تیاری تکنیکی اعتبار سے ایک مشکل مرحلہ تھا جو تاخیر کا سبب بنا اور اسکی تصدیق ایک دوست جو کہ انتخابی عملے کی ٹریننگ پر مامور تھے نے بھی کر دی یہ کہہ کر کہ ہم نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر سے بہت اصرار کیا تھا کہ خواتین کو پریزائڈنگ آفیسر مقرر نہ کیا جائے۔
عملے کو ہدایت تھی کہ جب تک آپ اپنے پولنگ کا رزلٹ آر ٹی ایس سسٹم کے تحت آن لائن بھیج نہ دیں آپ نے پولنگ اسٹیشن چھوڑنا نہیں، پورے پاکستان سے انتخابی عملہ اپنا اپنا رزلٹ آن لائن بھیجنے کی تگ و دو میں پریشان تھا پھر ہدائت ملی کہ جن کا رزلٹ ٹرانسمیٹ نہیں ہو رہا وہ روایتی طریقے سے اپنا رزلٹ آر او تک پہنچائیں۔
میرے ایک عزیز پاکپتن کے دور افتادہ گاوں میں پریزائڈنگ آفیسر تھے انکا کہنا تھا کہ میں اپنا رزلٹ تیار کر کے تمام ایجنٹس کو کاپیاں فراہم کر چکا تھا لیکن ملحقہ زنانہ بوتھ پہ خواتین عملے کو خاصی دیر ہو گئی فارم 45 کی تیاری میں۔

یہ خوش قسمت تھے دو ناکام کوششوں کے بعد ان کا رزلٹ الیکشن کمیشن کو ٹرانسمیٹ ہو گیا۔
رات سحری میں ڈھل چکی تھی تھیلے ڈبے بغل میں دبائے پریزائڈنگ افسران اپنے اپنے آر اوز کے پاس لائنوں میں لگے تھے یہاں بھی ہدائت تھی کہ اس کا رزلٹ وصول کیا جائے گا جس کا آر ٹی ایس کلئیر ہو گا اور آن لائن اوکے یہ بھی تاخیر کی ایک وجہ تھی۔۔۔
پریزائڈنگ افسران نے بتایا کہ فوج کے جوانوں کا رویہ دوستانہ تھا بہت مددگار ثابت ہوئے اور ہر مرحلے پر ہاتھ بٹایا انکی موجودگی میں پولنگ پرامن طریقے سے انجام پائی
ایک جاننے والا جو فوج میں ہے اسکی تعیناتی میانوالی میں تھی 26 جولائی  کو اس کا فون آیا خیریت دریافت کرنے کے بعد پوچھا سناؤ کیسا رہا ا۔۔۔۔س نے جواب دیا الیکشن ڈیوٹی پر روانہ ہوتے ہوئے کمانڈنگ آفیسر نے حلف لے کر بھیجا ہم نے ملک وقوم کی خاطر پوری تن دہی اور ایمانداری سے فرائض سرانجام دئیے لیکن جب سنا کہ سیاستدان ہمیں ہی گالی دے رہے ہیں اور دھاندلی کا الزام بھی تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔۔

اب آتے ہیں مشہور زمانہ آر ٹی ایس کی جانب جو مخفف ہے رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم کا اربوں روپے خرچ کر کے وضع کیا گیا یہ سسٹم انتخابی نتائج کو فوری طور پر آن لائن الیکشن کمیشن کو بھجوانے کیلئے بنایا گیا جس کا مقصد بلا تاخیر انتخابی نتائج کی ترسیل تکمیل اور تشہیر تھا جبکہ روایتی طریق کار میں کوئی  تبدیلی نہیں تھی ہر پریزائڈنگ آفیسر نے اپنے اپنے پولنگ کا مینوئل رزلٹ آر او کو بھی جمع کرانا تھا اور آن لائن بھی اب یار لوگوں نے یہ سمجھا کہ آر .ٹی ایس ہی سب کچھ ہے۔
سوال کہ آر ٹی ایس کیوں بیٹھ گیا تھا کیا جان بوجھ کر اس میں رخنہ ڈالا گیا ،کوئی سازش تھی اگر سازش تھی تو کیا مقاصد تھے جو حاصل کئے جا سکتے تھے سوائے تاخیر کے اور کیا ممکن تھا نتائج کو بدلنا یا کچھ اور لیکن کیسے جبکہ اصل فارم 45 پولنگ ایجنٹس کے پاس بھی تھے اور آر او کے پاس بھی ان تمام سوالوں کا جواب ممکن یے اگر اسکی تحقیق ہو پائے اور اگر اس کے پیچھے بدنیتی ثابت ہو جائے تو ذمہ داران کا تعین کر کے سامان عبرت بنایا جائے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے کچھ معاملات میں تساہل غفلت بد انتظامی اور غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کا مظاہرہ ضرور دیکھنے میں آیا
آپ خیبر سے کراچی تک پوچھ لیجئے کوئی  مشکل نہیں ،میرے آپ کے جاننے والے عزیز کہیں نہ کہیں اس انتخابی عمل کا حصہ رہے ہیں ان سے تصدیق کی جاسکتی ہے کہ کیا آپ بھی اس دھاندلی کے ذمہ دار ہیں جس کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے آپ پر کوئی دباؤ تھا کسی نے دھمکایا؟

ایک بات میری سمجھ سے بالا تر ہے سوشل میڈیا پر دکھایا گیا کہ فلاں جگہ کچرے کے ڈھیر سے کسی سکول کے بینچوں سے بیلٹ پیپرز ملے فرض کریں اگر کسی نے پہلے سے گڑ بڑ کا بندوبست کر رکھا تھا تو کیا یہ کام اتنے بھونڈے طریقے سے کیا جاتا ہے؟ اور جس نے کیا اسے اتنی توفیق نہ ہوئی  کہ ڈھنگ سے انہیں ٹھکانے لگا دیتا۔۔ایک پولنگ اسٹیشن پر رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد کے مطابق بھیجے گئے بیلٹ پیپرز کی تعداد ڈالے گئے ووٹ مستند و مسترد پولنگ ایجنٹس کے سامنے کئی بار گنتی کی کیا تصدیق نہیں کی جا سکتی ؟ پھر یہ بیلٹ پیپرز کچرے کے ڈھیر پر کیا لینے جاتے ہیں جبکہ ہر پریزائڈنگ بچ جانے والی اسٹیشنری بمع مستند و مسترد ووٹ اور کاونٹر فائلز تھیلے میں ڈال کر سر بمہر آر او کو جمع کرانے کا پابند ہوتا ہے تو کیا تمام اعدادوشمار کی مطابقت کو چیک نہیں کیا جاسکتا؟
کیا آج کے دور میں دھاندلی کا امکاں ہے؟
دھاندلی ہے کہاں؟
گڑ بڑ ہے کدھر؟

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *