• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان کیا واقعی ایک ڈیپ سٹیٹ بن رہا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔محمد وقار اسلم

پاکستان کیا واقعی ایک ڈیپ سٹیٹ بن رہا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔محمد وقار اسلم

واقعی اقوام کو اپنا لوہا منوانے کے لیے بہت سی جسارتیں کرنا ہوتی ہیں ہمت  پیدا کرنی پڑتی ہے تب ہی ان کا مستقبل روشن رہتا ہے اور وہ صفحہ ہستی سے اپنا نام مٹنے نہیں دیتے بلکہ اپنی جرات سے اپنا مقام مزید ممتاز کرتے ہیں۔ 2016ء ترکی کے عوام نے مارشل لاء کو ناکام بنا کر سویلین بالادستی کو فروغ دیا اور بتایا کہ وہ کوئی بھیڑ بکری نہیں جنہیں کوئی بھی ہانکے اور وہ اس کا حکم بجا لانے لگیں۔ کہا جاتا ہے اس کے پیچھے فتح اللہ گولن تھا جو کہ پاکستان میں پاک ترک انٹرنیشنل اسکولز کا سربراہ بھی رہا اس کی سازشوں کو فرض شناس عوام نے ناکام بنایا۔

بہرحال تُرکی وہ ملک ہے جہاں پر ملٹری کو کنٹرولڈ رول دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کا نظام جمہوریت کی ڈگر پر ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی قائدین کی لانچنگ کہیں اور ہی سے کی جاتی ہے جسے وہاں سے تھپکی مل جائے وہ برسرِ اقتدار آجاتا ہے۔ اگر جائزہ لیا جائے تو ہر ملک میں کوئی ایسی کہانی تھوڑے بہت ٹوئسٹ میں سنائی ضرور جاتی ہے۔ ڈیپ اسٹیٹ ریاست کے اندر ریاست کو کہا جاتا ہے ایران کے متعلق بھی یہی افواہیں گردش کرتی رہیں اور پاکستان کے حوالے سے بھی ایسا گمان کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں بھی کسی کو اقتدار سے اتار پھینکنے اور من پسند کے شخص کو منصب اقتدار کرنے کا ریت رواج بنا ہے تاہم اس ڈھکے چھپے انداز میں کیا جاتا رہا ہے لیکن ایسا تاثر واقعی پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہے اسے زائل کرنے کے لیے آئے روز اداروں کو اپنی پوزیشن کلئیر کرنا پڑتی ہے۔

ڈِیپ اسٹیٹ کی موجودگی میں عوامی امنگوں اور خواہشات سے مطابقت رکھتی ہوئی پائیدار عوامی جمہوریت کی امید رکھنا احمقانہ سوچ کے مترادف ہے۔آزادی کتنا خوب صورت لفظ ہے۔ یہ دلفریب خیال دل کو کتنا لبھاتا ہے، دل للچا سا جاتا ہے. یہ کہ آپ بغیر کسی کے دباؤ کے اپنی مرضی سے اپنی زندگی بسر کر سکیں.مکمل آزادی کے ساتھ. مگر غور کریں تو انسان خود اپنی آزادی سلب کرانے کے انتظامات کرتا ہے۔ ایسا خواہشات کے ہاتھوں ہوتا ہے اور خاص طور پہ ان خواہشات کے ہاتھوں جن کو پورا کرنے کے لئے دوسروں کا سہارا لینا پڑے۔

کسی سیانے کا قول ہے کہ ”اپنی ضروریات پہ دھیان دو اور خواہشات کو کم کرو. ضرورت تو فقیر کی بھی پوری ہوتی ہے اور خواہشات بادشاہوں کی بھی ادھوری رہ جاتی ہیں۔ایسا ہی اکثریت حاصل کرنے والی پاکستان تحریکِ انصاف کے کپتان کا ماننا ہے وہ سادگی کی باتیں کر رہے ہیں اور شاہانہ پُرتعیش معیار زندگی کو چھوڑنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔اب پاکستان میں حالیہ انتخابات کوالیکشن نہیں سلیکشن کہنے والے لوگ بھی پائے جاتے ہیں سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے بنے دھاندلی زدہ الیکشن کو رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔جمہوریت تب ہی اپنی اصل حالت میں برقرار رہ سکتی ہے جب تمام ادارے اپنے مدار کے بارے میں متعین ہوں اس سے تجاوز کرنا اپنے لیئے بہت ضروری نہ سمجھنے لگ جائیں خیر گردن میں سریا اور رعونت و تفاخر ذہنوں کو کچجا اور کجلا کر دے کوئی سمجھنے لگ جائے کہ اس کے بغیر کچھ چل ہی نہیں سکتا تو وقت کی ندا اسے روند ڈالتی ہے ایسا ہی نواز شریف کے ساتھ ہوا۔

عمران خان نے اپنی جستجو کو سامنے رکھا اور Goliaths کا دھڑن تختہ کر دیا انہیں ذلت و رسوائی میں تو ڈالا ہی تھا زندان میں بھی پھینک دیا۔ ایک سیاستدان کا بیانیہ تبدیل ہوا اس کا دل کہتا ہے میرے ملک و قوم کے خلاف جب دہشت گردوں نے خونی کھیل شروع کیا تو اپنی جان کی سلامتی اور سیاسی فائدے کے لیے ان کے خلاف قومی آواز کا حصہ نہیں بنا۔ کہ دہشت گردوں پر تنقید کی جرات مجھ میں تھی نہیں اس لیے ذہن میں آیا کیوں نہ اس سفاکیت کو بلیک واٹر، موساد اور را کی کارستانی اور اسلام دشمنوں کی سازش قرار دے سرے سے تنقید کی ضرورت ہی ختم کردوں۔ یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا۔ عوام میں کنفیوژن تو پیدا ہوئی مگر دہشت گرد اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے ہمیں اپنا نمائندہ بھی قرار دیا۔ مجھے احساس ہے ایسا کرکے میں نے اپنی قوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ اب میں قوم کے ساتھ ہوں گا اور دہشت گردوں کو اپنا دشمن سمجھوں گا۔صاحب میں توبہ تائب ہوگیا ہوں مجھے ایک موقع اور دیجیے آپ کا وفادار رہوں گا اغیار کو للکاروں گا جو کہیں گے ویسا کروں گا مجھے منظر نامے سے غائب مت فرمائیے۔۔

ابراہم لنکلن نے کہا تھا کہ بیلٹ بُلٹ (گولی) سے زیادہ طاقتور ہے وہ درست کہتے ہیں کیونکہ الیکشن کے دن ہی عوام یکجا ہوکر اپنی پسند کی حکومت لاتی ہے۔ اس ہی پر یقین رکھتے ہوئے پاکستانیوں نے ووٹ ڈالے حقِ رائے دہی کا اظہار پاک فوج کی حفاظت میں کیا ٹرن آوٗٹ میں کوئی خاصی بہتری نہیں آئی خرچہ دوگنا ہوا اور الیکشن کمیشن کو بے حد ناکامی کا سامنا رہا آرٹی ایس سسٹم کے کریش کر جانے سے لے کر کئی پیچیدگیاں پیش آئیں کسی ایک کو بھی فارم 45 کا نہ دیاجانا کوئی ایسا اعتراض نہیں جس کا فوری دور کیا جانا ممکن نہیں تھا۔ پولنگ عملہ اور پاک فوج کے جوان شکایت کے وقت پولنگ اسٹیشنوں پر ہی موجود تھے۔ پولنگ ایجنٹ بھی پولنگ اسٹیشن کے باہر ہی تھے۔ فوری ہدایت جاری کی جاسکتی تھی اور فارم دیے جاسکتے تھے۔ کچھ قوتوں کے لاڈلے کہے جانے والے عمران خان نے اپنے سے احتساب شروع کرنے اور مسلہ کشمیر کے حل کی بات کر کے مطمئن کیا ہے اور اپنے مدبرانہ ہونے کی مثال پیش کی ہے۔پی ٹی آئی کے لئے حکومت boon ہوگی یا bane اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

ایک بات طے ہے کہ خود اپنی صفائی کے عمل سے گزر کر سسٹم اور جمہوریت مزید طاقتور ہوکر نکلے گی اور عوامی حمایت اس کی پشت پہ ہوگی تو pre poll اور post poll دھاندلی الزامات کو طمطرق سے جھٹلایا جا سکے گا اور ہر چیلنج سے نمٹنا نسبتاً آسان ہوجائے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *