متاثرینِ انسانی اسمگلنگ سے ایک انٹرویو ۔تیمور جمالی

انسانی اسمگلنگ کیا ہوتی ہے، کیسے وقوع پذیر ہوتی ہے، میں اس تمام  عمل سے مکمل لاعلم تھا، یہاں تک میرا اس عفریت کے متاثرین سے بذات خود سامنا نہیں ہوا. 2009 کی ایک روشن صبح تھی، جب مابدولت ترکی کے شہر ارزرم میں اتاترک یونیورسٹی کا طالبعلم تھا۔ دو پولیس والے سیدھا میری جماعت میں گھسے چلے آئے اور استاد صاحب سے مخاطب ہوئے کہ مجھے یعنی مابدولت کو چھٹی عنائیت کی جائے۔ کیونکہ ان کو مجھ سے کچھ کام ہے (ریاستی پولیس سے میری واقفیت اس وقت ہوئی جب پہلی بار خاکسار کا پاسپورٹ گم ہوا تھا)۔

میں نے عرض کیا، حضور اب کیا ہوا ؟ حکم کیا گیا، تھانے چل کے بتائیں گے۔

مابدولت ڈرا، سہما، لاٹ  صاحبان کے ساتھ خراماں خراماں چل دیا۔ تھانے پہنچے تو ایک افسر نے شائستگی سے پوچھا، آپ پاکستان سے ہیں نا؟ میں نے اشارتاً کہا “جی ہاں” ۔ حکم ہوا، آپ کے کچھ ہم وطن آئے ہیں۔ میں پریشان ہو گیا میرا کون آیا ہوگا۔ حوالات کے نزدیک پہنچ کے پتا چلا پاکستان کے کچھ لوگ گرفتار ہیں۔ زندگانی میں پہلی بار افسر کی زبانی سنا کہ یہ لوگ غیر قانونی طریقے سے ترکی میں گھسے ہیں۔ افسر نے مزید کہا کہ ان سب سے الگ الگ سے معلوم کرو کہ یہ کون ہیں، کہاں سے اور کیوں آئے ہیں؟ نیز ان کا مقصد کیا ہے۔

میں ایک تفتیش کار کی مانند قلم اور کاغذ سے لیس میز کے سامنے کرسی پر براجمان ہو گیا۔ افسر ہر ایک کو باری باری بھیجتے تھے اور میں ان سے سوالات کرتا اور ان کے جوابات لکھتا جاتا۔ ان میں سے تین چار افراد کی حالت انتہائی خستہ تھی(دو کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور دو کے پاؤں کے انگوٹھوں میں خون جم گیا تھا جس سے وہ سیاہ گئے تھے، شاید وہ شدید کرب سے گزرے تھے۔) جس پر میں نے پولیس والوں کو کہا کہ ان کو پہلے اسپتال لے جائیں وہیں ان کا بیان لیں گے اور وہ واقعی انہیں لے بھی گئے۔ میرے سوالات پہ جو جوابات حاصل ہوئے وہ نہ صرف کربناک تھے بلکہ درد کا ایک انبار خود میں سموئے ہوئے  تھے۔

80 کی کل تعداد میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب کے شہروں گجرات، گوجرانوالہ، کچھ کا کراچی اور دو کا پشاور سے تھا۔ اس دن میں پہلی بار واحد گردے والے انسانوں سے ملا، ایسا انسان جس نے گردہ اس لیے فروخت کیا کہ اس سمگلر کو پیسے دے کے یورپ تک پہنچ جائے اور اپنے خاندان کی عسرت و افلاس کو مٹا سکے۔ ان میں سے آدھے سے زیادہ لوگ اپنے گردے بیچ کے آئے تھے جن میں اکثریت گجرات کے لوگوں کی تھی۔ جتنے بھی افراد پکڑے گئے تھے سب کے پاس جعلی پاسپورٹس تھے۔

دوسرا انکشاف یہ تھا کہ یہ لوگ تین ایجنٹوں کے ذریعے یہاں تک پہنچے تھے۔ ایک ایجنٹ کا تعلق پنجاب سے، ایک کا بلوچستان سے اور آخر الذکر کا ایران سے تعلق تھا۔ ہر ایجنٹ نے ان سے 2، 2 لاکھ روپے لیے تھے یعنی کل چھ لاکھ وصولے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان کے ایجنٹوں نے ایران تک پہنچایا، ان کا آپس میں رابطہ ہوتا ہے اور ہم سے وعدہ کیا گیا کہ ایران سے ہمارا ایجنٹ آپ کو بزریعہ روڈ استنبول تک پہنچائے گا۔ وہاں سے ہم باآسانی یونان جا سکتے ہیں۔ بلوچستان کا ایجنٹ جو کہ کوئٹہ میں مقیم تھا، خفیہ راستے سے ہمیں ایران لے آیا۔ کس راستے سے کیسے لے آیا نہیں بتایا نہ ہی میں نے پوچھا۔

اس وقت پاک ایران بارڈر پر اتنی سختی اور باز پرس نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن ایران سے آگے ہمیں بہت تکلیفیں اور مصائب  اٹھانے  پڑے۔ ہمیں سرد راتوں میں گھوڑوں پر کئی کئی رات سفر کروایا گیا اور بعض اوقات آدھی روٹی پر ہمیں پورا پورا دن گزارنا پڑا۔ یہ سفر بھوک، افلاس، سختی اور مصائب کا  سفر تھا، مجھے سرخ ہندیوں کی آنسوؤں کی شاہراہ یاد آگئی۔ پہاڑوں پر ہم سے کرد سرمچاروں کا سامنا ہوا جنہوں نے ہم سے ہمارے پیسے بھی چھین لیے۔ ایران کا بارڈر کراس کروا کے ہمیں ایجنٹ نے ایک ٹریلر میں بٹھایا اور یہاں ارزرم میں پولیس نے ٹریلر کھولا تو ہم ڈرائیور سمیت پکڑے گئے۔

پولیس افسر نے مزید کہا کہ ان سے ان کے گھر والوں کے رابطہ نمبر لو اور انہیں فون کر کے کہو کہ ان کے ٹکٹ بھیج دیں۔ کچھ سے تو رابطہ ہوا جنہوں نے ٹکٹ بھیجنے کا وعدہ کیا۔ مگر اکثر سے نہیں ہو سکا۔ جس پر افسر نے کہا کہ ان کو پاکستانی ایمبیسی بھیج دیں گے، وہ جانیں اور ان کا کام جانے۔ ایک شخص راولپنڈی کا پشتون تھا’ جس سے سب سے زیادہ گفتگو ہوئی، جو اس کے بقول دوسری بار پکڑا گیا ہے، مجھے کہا کہ انشاءاللہ اگلی بار ادھر ہی آپ سے ملاقات ہو گی، جمالی بھائی۔ اسے میں نے چوری چھپے ایک سگریٹ کی ڈبی بھی لے کر دی جس کی اسے اشد طلب تھی۔

ایک شخص تو اوصاف اخبار میں کام بھی کر چکا تھا۔ اور اس کے بقول وہ صحافی بھی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ سنا ہے یونان میں بہت پیسہ ہے اس لیے کام چھوڑ کر آ گیا۔ میں نے اسے بتایا بھائی یونان تو خود آج کل قرضوں کے بوجھ تلےدبا ہے۔ باقیوں کو بھی شاید یہی غلط فہمی تھی۔ ان کو بھی میں نے یہی سمجھایا کہ ‘کیوں اپنے گھر والوں کو پریشان کرکے یہ راستہ اپناتے ہو؟کہنے لگے یونان ہم پاکستانیوں کو ویزا نہیں دیتا، اس لیے ہم نے یہ راستہ اپنایا۔

اس کے بعد پولیس والے مجھے تمام غیر قانونی لوگوں کے ہمراہ کورٹ لے گئے اور وہاں ان سے ان کے جرائم کا اقرار کروایا گیا۔ ا س کے بعد میرا بینک اکاؤنٹ نمبر لے کر مجھے اجازت دے دی.

نوٹ : مجھے کچھ دن بعد بطور مترجم کے 160 ترکش لیرا بھی ملے۔ 2010 میں جب میں پاکستان واپس آیا تو یاہو پر پنڈی والے پشتون سے میرا رابطہ ہوا جس نے مجھے اپنی آئی ڈی دی تھی۔ اس پشتون نے اپنے بھائیوں سے خاکسار کو ملوایا اور ملنساری و مہمان نوازی سے پیش آیا۔ دوبارہ پھر ہمارا کبھی رابطہ نہیں ہوا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *