احرام مصر ایک پراسرار سچ

چار گتے لیں ان کو ریاضی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے برابر اس طرح کاٹیں کہ نیچے سے اوپر کی طرف جاتے ہوئے وہ ایک تکون کی شکل اختیار کر لیں جیسا کہ اہرام مصر ہیں.ایک بات کا خیال رکھیں کہ ا ن کی لمبائی چوڑائی میں کوئی فرق نہ ہو بالکل ٹھیک پیمائش پر مشتمل تکون ہوں.اب ان چاروں کو ٹیپ یا گوند سے جوڑ لیں.ایک بات کا خیال رکھیں ان کے چاروں کونوں کو کسی نہ کسی سمت میں ہونا چاہیے.ایک کونا مشرق میں ہو تو ایک مغرب میں آپ اس کے لیے قطب نما کی مدد لے سکتے ہیں. لیجیے ایک بڑا اہرام مصر نہ سہی پر ایک چھوٹا اہرام مصر ضرور تیار ہے.یقین نہیں آ رہا چلیں کوئی بات نہیں دو گلاس دودھ کے لیں ایک کو اپنے بنائے ہوئے اہرام کے نیچے رکھ دیں ایک ساتھ ہی کھلی فضا میں رکھ دیں،اب دیکھتے رہیں جیسے ہی باہر رکھا ہوا دودھ خراب ہوجائے تب اہرام کے نیچے والا گلاس اٹھا کر دودھ کو دیکھیں بالکل تروتازہ پائیں گے۔جی ہاں اہرام نما عمارت کوئی بھی کہیں بھی کیوں نہ ہو وقت دھیما ہو جاتا ہے ۔اب بھی تجربات سے یقین نہیں آ رہا تو کوئی سبزی لیں اس کے ساتھ بھی تجربہ کریں اہرام والی سبزی اس وقت بھی تازہ ہوگی جب اہرام کے باہر رکھی سبزی خراب ہوچکی ہوگی۔

اس طرح آپ مختلف چیزیں اہرام کے نیچے رکھ کر تجربات کر سکتے ہیں،ٹھہریے آپ اپنے آپ کو تجربے کے لیے پیش کیوں نہیں کرتے۔۔۔ہاں جی ایک بڑی اہرام نما عمارت بنائیں اس کے نیچے سو کر دیکھیں،آپ بے خوابی کے مریض تھے؟ سوتے ہوئے ڈراؤنے خواب آتے تھے؟ اپنی بڑھتی عمر سے پریشان ہیں؟ جلدی مرنا نہیں چاہتے؟ کچھ عرصہ اہرام کے نیچے سونے کے بعد آپ خود کو ان تمام بیماریوں سے دور جاتا ہوا محسوس کریں گے۔انسان موت کو شکست تو نہیں دے سکتا پر کچھ عرصے کے لیے ٹال تو سکتا ہے۔جی ہاں تین سائنسدانوں نے اہرام کے نیچے سو کر زندگی گزاری ،سب کی موت اسی سال کی عمر کے بعد ہوئی اور تندرستی میں ہوئی اور طبعی موت ہوئی۔یہ کیسے ہو سکتا ہے مصر کا حسن دنیا بھر میں مشہور ہو اور اہرام میں عورتوں کے لیے کوئی خاص بات نہ ہو؟

خواتین سپیشل:
اہرام کے نیچے پندرہ بیس دنوں کے لیے پانی رکھ دیں،اب پانی اٹھا کر چہرے کا ہلکا سا مساج کریں ،آپ کا چہرہ دمک اٹھے گا داغ چھائیاں دور ہوجائیں گی اور میک اپ پر رقم ضائع کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی.مرد حضرات بھی اس آفر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں آخر ہمیں بھی تو سجنے سنورنے کا حق ہے.اب آجاتے ہیں اس عمارت کی بناؤٹ پر:
بناؤٹ میں ریاضی کا ایسا بہترین استعمال کیا گیا ہے کہ ریاضی کے اصولوں کو دیکھ کر جدید سائنس بھی ششدر رہ جاتی ہے اور سائنسدانوں کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں،آج کے ایک سپر کمپیوٹر کو جب ایک اہرام کا ڈیزائن تیار کرنے کا کام دیا گیا تو اہرام کا ڈیزائن اور استعمال کیے گئے ریاضی کے اصول اتنے پیچیدہ تھے کہ سپر کمپیوٹر کو صرف ڈیزائن بناتے ہوئے ایک ہزار (1000) گھنٹے لگ گئے،سینکڑوں ٹن وزنی پتھروں کو اس مہارت سے ایک دوسرے کے اوپر رکھا گیا ہے کہ ان کا درمیانی فاصلہ ایک انچ کے پچاسویں حصے کے برابر ہے،تصور کریں سینکڑوں ٹن وزنی پتھر اور جوڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ بھی نہیں کہ ایک سوئی اندر جا سکے.ہے نا مہارت کا منہ بولتا ثبوت؟

اہرام کا نام سنتے ہی ہمارے دل میں اہرام مصر کا نام فوراً آجاتا ہےلیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ یہ اہرام پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں،جی ہاں چین سے لے کر شمالی امریکہ تک اور حتی کہ سمندروں میں بھی کئی عمارتیں اہراموں کی شکل میں ملی ہیں.خود مصر میں سو سے اوپر اہرام موجود ہیں لیکن مصر میں قاہرہ سے باہر غزہ کے مقام پر 3 اہراموں کا گروپ خوفو، خافرہ اور مینکاؤرا دُنیا کے عجائبات میں پہلے نمبر پر ہے.غزہ میں سب سے بڑا ہرم خوفو (Khufu) یا چیوپس (Cheops) ان میں سب سے بڑا ہے ۔جو 13 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے.جو کہ سولہ فٹبال گراؤنڈز جتنا ہے.اس کی ابتداء میں بلندی 482 فٹ تھی جو ایک منزل گرنے سے اب اندازاً 450 فٹ رہ گئی ہے۔ اس کی چوڑائی 755 مربع فٹ ہے اور اس کی تعمیر میں 2500000 چونے کے پتھر کے بلاک استعمال کیے گئے جن میں ہر پتھر کا وزن 2.5 ٹن سے لے 300 ٹن تک جا پہنچتا ہے۔ان کی تاریخ تکمیل اندازاً 2600 سے 3000 قبل مسیح کی بیان کی جاتی ہے۔اہرام مصر کی بنیاد چوکور ہے لیکن ان کے پہلو تکون نما ہیں. یہ تکونیں اُوپر جاکر ایک نکتے پر مل جاتی ہیں. ہر زاویہ بالکل سیدھ میں موجود ہے۔ایک دیوار شمال کی طرف بالکل عمود میں ہے۔کہا جاتا ہے کہ خوفو کا اہرام بیس سال کے قلیل عرصے میں تیار ہوا،اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھروں کو اہرام سے آٹھ سو کلومیٹر دور موجود شہر اسوان (Aswan) سے لایا جاتا تھا.

ہر فرعون مصر اپنے لیے الگ اہرام تعمیر کراتا اور اس کی لاش کو مرنے کے بعد حنوط شدہ ممی بنا کر اہرام کے وسط میں لیکن نچلے حصے میں رکھ دیا جاتا اور اس کا خزانہ بھی ساتھ رکھا جاتا تاکہ آئندہ جنم کی صورت میں بندہ گھاٹے میں نہ رہے.اگر خوفو کے اہرام کو تیس سینٹی میٹر کی چوڑائی میں کاٹا جائے تو پورے فرانس کے چاروں طرف ایک میٹر اونچی دیوار بنائی جا سکتی ہے،ان اہراموں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان کا درجہ حرارت ہمیشہ زمین کے اوسط درجہ حرارت کے برابر رہتا ہے،یعنی بیس(20) ڈگری سیلسئیس باہر چاہے آندھی ہو بارش ہو گرمی ہو سردی اندر کا موسم مستقل رہتا ہے،3800 سال تک اس کے سرپر دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت کا تاج سجا رہا۔جو لنکن کیتھیڈرل نے توڑا جس کی بلندی 160 میٹر ہے.اہرام کے بارے میں سب سے پہلا ذکر ہمیں یونانی تاریخ دان ہیروڈوٹس کرتے ہوئے نظر آتا ہے.جس نے تقریباً 450 برس قبل مسیح میں مصر میں قدم رکھا۔اور وہاں کے لوگوں کو بطور گائیڈ ساتھ لے کر اہراموں کا معائنہ کیا اور گائیڈز کے علم کے مطابق ہی اس نے اپنی کتاب لکھی.لیکن ایک بات یاد رکھیں مصری گائیڈ انتہا کے جھوٹے ہوتے ہیں،اور ہیروڈوٹس خود بھی دروغ گوئی سے پاک نہیں تھا، بلکہ اکثر تحاریر میں دلچسپی کے لیے جھوٹ گھڑتا تھا،اس کے مطابق یہ تمام اہرام مصریوں نے بنائے تھے.
اس کے علم کا حاصل یا تو وہ مقامی گائیڈز تھے یا پھر وہ بھونڈی پینٹنگز جو اہراموں کی دیواروں پر بنائی گئی تھیں.

ہیروڈوٹس کے مطابق تقریباً ایک لاکھ مزدوروں اور کاریگروں نے مل کر بیس سال کے عرصے میں خوفو کے اہرام کی تعمیر مکمل کر دی ہر وقت بیس ہزار مزدور کام کرتے رہتے تھے. ہر گھنٹے میں دو سے تین پتھر لگائے جاتے. اس طرح تقریباً تیس لاکھ پتھروں سے اہرام کی عمارت معرض وجود میں آئی. کچھ مذہبی حوالے سے بھی بات کر لیتے ہیں۔1
:احمد رضا خان بریلوی :
ا ن کی تحقیق کو ہوبہو ویکی پیڈیا سے نقل کیا ہے ۔ان کی تعمیر حضرت آدم علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام سے 14 ہزار (14000) برس پہلے ہوئی۔ نوح علیہ السلام  کی امت پر جس روز عذابِ طوفان نازل ہوا ہے پہلی رجب تھی، بارش بھی ہورہی تھی اور زمین سے بھی پانی ابل رہا تھا۔ بحکم رب العٰلمین نوح علیہ السلام  نے ایک کشتی تیار فرمائی جو 10 رجب کو تیرنے لگی۔ اس کشتی پر 80 آدمی سوار تھے جس میں دو نبی تھے(حضرت آدم وحضرت نوح علیہم السلام)۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اس کشتی پر حضرت آدم علیہ السلام کا تابوت رکھ لیا تھااور اس کے ایک جانب مرد اور دوسری جانب عورتیں بیٹھی تھیں۔ پانی اس پہاڑ سے جو سب سے بلند تھا 30 ہاتھ اونچا ہوگیاتھا۔دس محرم  کو چھ(6) ماہ کے بعد سفینہ مبارکہ جودی پہاڑ پر ٹھہرا۔ سب لوگ پہاڑ سے اترے اور پہلا شہر جو بسایا اس کا ”سوق الثمانین” نام رکھا۔ یہ بستی جبل نہاوند کے قریب متصل ”موصل” شہر (عراق) میں واقع ہے۔اس طوفان میں دو عمارتیں مثل گنبد ومنارہ باقی رہ گئی تھیں جنہیں کچھ نقصان نہ پہنچا۔ اس وقت روئے زمین پر سوائے ان (دو عمارتوں) کے اور عمارت نہ تھی۔ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی (5750سال) پونے چھ ہزار برس پہلے کے بنے ہوئے ہیں کہ ان کی (سیدنا آدم علیہ السلام) آفرینش کو (7000) سات ہزار برس سے کچھ زائد ہوئے لاجرم یہ قوم جن  کی تعمیر ہے کہ پیدائش آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے (60000) ساٹھ ہزار برس زمین پر رہ چکی ہے۔”

غرض ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اہرام کا بننا سب جنات کی کارستانی ہے.اگر دیکھا جائے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ جنات جیسی قوم کو اتنی بڑی تعمیر کرنے کی ضرورت کیوں پڑی وہ بھی انسانوں سے پہلے پھر اس کے بعد ا ن کی کوئی ایسی تعمیر نظر نہیں آتی جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ جنات کی بنائی ہوئی ہے.بیت المقدس کے بارے میں اگر کہا جائے کہ وہ جنات کی بنائی ہوئی ہے تو وہ جبری طور پر بنوائی گئی ہے.یعنی ایک حکم پر بنائی گئی ہے.لیکن پندرہ سے بیس ہزار سے پہلے جب انسانی قدم نے زمین کو نہیں چھوا تھا تب جنات کو اس جبری کام پر کس نے مجبور کیا؟

2:خلیفہ مامون الرشید:
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسلامی دنیا کے وہ واحد بادشاہ ہیں جن کو علمی اور تحقیقی کام کا شوق تھا اور اس کے لیے ان کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے اعلان کر رکھا تھا جو شخص اسے ایک کتاب لکھ کر دے گا یا کسی غیر ملکی کتاب کا ترجمہ عربی زبان میں کرے گا وہ ا س کو اس کتاب کے وزن کے برابر سونا دے گا. اور ساتھ میں کتاب میں موجود علمی مواد کے لحاظ سے انعام و اکرام سے بھی نوازتا. اس وجہ سے دنیا بھر سے سکالرز اور سائنٹسٹ مامون الرشید کے پاس اکٹھے ہوگئے ۔اس وقت مصر اسلامی دنیا کے سامنے سرنگیں ہو چکا تھا.جب خلیفہ کو کچھ عجیب و غریب عمارتوں کا پتا چلا اور ساتھ میں یہ بھی کہ اس میں مصری بادشاہوں کو اپنے خزانے کے ساتھ دفنایا گیا ہے.مامون الرشید اپنے ساتھ سینکڑوں تحقیق کاروں کو لے کر نکلا اور آج کل جہاں ابوالہلول کا مجسمہ ہے جو کہ اس وقت مٹی میں دب چکا تھا اس کے اوپر پڑاؤ ڈالا. ا نہیں سخت مایوسی اس وقت ہوئی جب انہیں اہرام میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نہ ملا.آخر کار خلیفہ نے اہرام کو توڑ کر راستہ بنانے کا حکم دیا. اہرام اتنا مضبوط تھا کہ اس پر کوئی بھی چیز اثر نہیں کر رہی تھی پھر انہوں نے یہ طریقہ نکالا کہ پتھروں کو پہلے گرم کرتے پھر اس کے اوپر ٹھنڈا پانی ڈال دیتے جس سے پتھر تڑخ جاتے اور اس طرح روز ایک فٹ کے حساب سے روز آگے کا راستہ بنانے لگے.آخر کار ا ن کی پہنچ کوئین چیمبر اور کنگ چیمبر تک ہوئی جہاں پر خزانہ تو دور ممیاں بھی نہیں تھیں. مامون الرشید دل برداشتہ ہو کر وہاں سے چلا گیا اور سارا کام وہیں پڑا رہ گیا.
مقامی آبادی جو پہلے توہم پرستی کی وجہ سے اہرام کے قریب نہیں جاتی تھی انہوں نے جب دیکھا کہ کئی مہینوں سے پڑاؤ ڈالے ہوئے بادشاہ کو کوئی اثر نہیں ہوا تو ان کا ڈر خوف ختم ہوگیا اور پھر اہرام کے اوپر لگے ہوئے روغنی ٹائلوں کو بھی اتار لیا گیا اور لوٹ مار کا ایک بازار سرگرم ہوا اور اگر کوئی ثبوت اہراموں کے اندر بچا بھی تھا تو اس کو لوٹ لیا گیا.

3:بدھ ازم
بدھ ازم میں ان اہراموں کو خاصی اہمیت حاصل ہے ان کے مطابق یہ اہرام زیر زمین دنیا کا راستہ ہیں.اور روحانیت کا مرکز ہیں.جب دنیا میں کوئی بڑی مصیبت آئی تو روحانی پیشوا نیچے چلے گئے. اس زیرزمین دنیا میں ان کے روحانی پیشواؤں کی حکومت ہے اور ان کا مرکزی فرضی شہر تبت کے نیچے ہے جہاں پر دلائی لامہ اور روحانیت میں آگے بڑھے ہوئے شخص حکومت کرتے ہیں.اب اگر سوال کیا جائے کہ چلو مان لیتے ہیں جب تک زمین کے حالات ٹھیک نہیں تھے تب تک تو وہ نیچے رہتے لیکن جب زمین کے حالات ٹھیک ہوگئے تب وہ اوپر کیوں نہیں آئے؟

نپولین بونا پارٹ:
نپولین نے اہراموں کی شہرت سن رکھی تھی اس نے مصر پر حملہ کرکے غزہ پر قبضہ کرلیا اور پھر اس نے اہراموں کو بنیادوں سے کھود کر اندر جانے کا راستہ کھلوایا. اس کے بعد کام کو روک دیا گیا اور نپولین اکیلا اندر داخل ہوا،کافی دیر تک وہ اندر رہا جب وہ باہر نکلا تو اس کے چہرے پر کافی گھمبیر خاموشی تھی ،اس نے اپنے مصاحبین کو سامان اٹھا کر چلنے کا کہا.اس دوران وہ بالکل خاموش رہا. کہا جاتا ہے کہ نپولین اہرام کے اندر کسی ایسی جگہ چلا گیا جہاں پر براہ راست اہرام کی شعائیں پڑ رہی تھیں ان شعاعوں نے اس کے دماغ کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کر دیا تھا اور اس نے اپنا مستقبل دیکھ لیا تھا.کہا جاتا ہے اپنی موت سے قبل اس نے اپنے غلام کو بتا دیا تھا اب اس کی موت آچکی ہے. ایک تھیوری گیلی ریت کی ہے جو کہ ایک پینٹنگ کو دیکھ کر بنائی گئی ہے.اس پینٹنگ میں فرعون کی گاڑی کے آگے پانی پھینکا جا رہا ہوتا ہے اور غلام گیلی ریت پر گاڑی کھینچتے جا رہے ہیں.آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس تھیوری پر عمل کرنے کی کوشش کی تو یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ریت کو گیلا کرنے سے قوت کے استعمال میں نصف کمی ہوجاتی ہے.لیکن اگر اس طریقے کو سچ مان لیا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ اتنے ٹن وزنی پتھروں کو کشتیوں میں لادا گیا پھر ا ن کو ریت پر گھسیٹ کر اہرام تک پہنچایا گیا.لیکن ان کو اہرام کے اوپر کیسے پہنچایا گیا؟ کیونکہ ریت تو اہرام کے ایریا سے باہر تھی.اور پھر ا ن کو اس طریقے سے فٹ کیسے کیا گیا کہ ان کے اضلاع میں انچ کے دسویں حصے کے برابر بھی فرق نہیں.اور ایک کاغذ کو بان کے جوڑوں کے درمیان داخل نہیں کیا جاسکتا.

ایک اور تھیوری مارین کلمنیز کی ہے
ان کو ایک تصویری تحریر (Hieroglyphs) کی پینٹنگ ملی جن میں بہت سارے لوگوں نے رسیوں کے ذریعے اڑنے والے پرندے کو کنٹرول کیا ہوا تھا جس کے پر کافی لمبے اور بڑے تھے. پہلے تو ا ن کو سمجھ نہیں آئی مگر پھر ان کے ذہن میں ایک خیال آیا کہ شاید ایک پتنگ کو ہوا کے زور سے قابو کیا گیا ہے
اور اس کو اہراموں کے پتھر اٹھانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے.اس نے اپنی تھیوری کو ثابت کرنے کے لیے مختلف یونیورسٹیوں سے رابطہ کیا آخر کار کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ نے ان کو سپنانسر کر لیا اور ان کے ساتھ ایک ایرانی سائنسدان نے کام کرنا شروع کردیا،پہلے پہل انہوں نے چھوٹے پتنگوں سے پتھروں کو عمود میں سیدھا کرنے کی کوشش کی اور کامیاب ہوئے.پھر انہوں نے کچھ ٹن وزنی پتھروں کے ساتھ تجربات کیے اور ہوا کی سپیڈ اس وقت بیس سے تیس ناٹیکل ہونے کے باوجود انہوں نے کئی ٹن وزنی پتھروں کو عمود میں کھڑا کرنے میں کامیابی حاصل کی مگر ان کو ہوا میں اڑانے کے قابل نہ ہوسکے.
اس طرح یہ تھیوری بھی تھیوری ہی رہی.

اب چلتے ہیں ایک حیرت انگیز تجربے کی طرف ۔۔۔۔فورشے ملر ہٹلر ایک جرمن ماہر فلکیات تھا،دوسری جنگ عظیم سے پہلے جرمنوں کو مصر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی لیکن کسی طرح وہ چھپ کر اہراموں تک پہنچ گیا،کافی عرصے تک کنگ چیمبر میں رہنے کے باوجود اسے کوئی قابل ذکر بات نہیں ملی.سوائے ان پینٹنگز کے جو دیواروں پر بنائی گئی تھیں. ایک دن وہ چھت کا معائنہ کر رہا تھا کہ اسے ایک سوراخ ملا جو خوش قسمتی سے ٹیڑھا ہونے کی وجہ سے بند نہیں ہوا تھا.پہلے اس نے سوچا یہ سورج کی روشنی کے لیے بنایا گیا ہے،لیکن یہ تو بالکل شمال میں تھا جہاں سورج کی روشنی کبھی آبھی نہیں سکتی،اس نے باقی تین اہراموں کا معائنہ کیا وہاں بھی اسی طرح کے سوراخ موجود تھے مگر مٹی کی وجہ سے بند ہوچکے تھے ملر نے لوہے کی سلاخوں سے ان کو دوبارہ کھلوایا. اسی دوران جرمنوں پر سختی ہونے لگی اور وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر امریکہ چلا گیا اور وہیں کی شہریت حاصل کر لی اسی دوران وہ پیرامڈز سے جڑی ہر کتاب کا مطالعہ کرتا رہا،ایک دن اس نے ایک ماہر فلکیات کا بیان پڑھا کہ مصریوں کا کسی عمارت کی عمر معلوم کرنے کا عجیب طریقہ کار ہوتا ہے ،وہ عمارت میں قطبی تارے کی سیدھ ایک لمبا سوراخ بناتے ہیں۔جس میں اگلے سال قطبی تارا نظر نہیں آتا. اس طرح قطبی تارے کا سوراخ کی سیدھ سے فاصلے سے کسی بھی عمارت کی عمر معلوم کی جا سکتی ہے. ملر یہ بات پڑھ کر اچھل پڑا ،وہ فوراً مصر کے سفر پر نکل پڑا اس بار وہ اپنے ساتھ جدید قسم کے آلات بھی لایا تھا.اب اس نے سوراخ سے قطبی تارے کا فاصلہ ناپا اور اچھل پڑا کیونکہ اس طرح خوفو کے اہرام کی عمر پندر ہزار (15000)سال بن رہی تھی جبکہ باقی دونوں اہراموں کی عمر14 ہزار آٹھ سو اور ساڑھے14 ہزار بن رہی تھی.

تو کیا مصری اس تخلیقات کے بانی نہیں تھے کیونکہ مصری تو آج سے پانچ ہزار سال پہلے ہی دریائے نیل کے کنارے آباد ہونا شروع ہوئے تھے. انہوں نے اپنی تحقیق کی سچائی پرکھنے کے لیے ساتھ ہی ایک چھوٹے پیرامڈ کی عمر ماپنے کا فیصلہ کیا جس کی عمر کا تخمینہ تین ہزار سال قبل مسیح لگایا جاتا تھا.اس نے اس کے سوراخ سے قطبی تارے کا فاصلہ ناپا اور ناقابل یقین منظر سامنے آیا کہ اس پیرامڈ کی عمر واقعی کوئی تین ہزار سال قبل مسیح بن رہی تھی.فورشے ملر ہٹلر کوئی تاریخ دان تو تھا نہیں بلکہ وہ تو ایک ماہر فلکیات تھا اس لیے اس نے اپنا کام ادھر ہی ختم کر دیا.لیکن ان کی تحقیق نے اپنے پیچھے سوالوں کا پہاڑ کھڑا کر دیا. اسلامی مورخین کے مطابق انسانی زندگی آج سے دس ہزار سال پہلے شروع ہوئی تھی. اگر ان کی بات کو سچ مانا جائے تو پندرہ ہزار سال پہلے اس دنیا پر جب کوئی انسان نہیں تھا تب ان اہراموں کی تعمیر کا ذمہ دار کون تھا؟

کیا احمد رضا خان بریلوی کے مطابق جنات ہی ان کی تعمیر کے ذمہ دار تھے؟یا پھر ان کو کسی خلائی مخلوق کا کارنامہ سمجھا جائے؟جب سے سائنس ترقی کرتی جا رہی ہے طویل العمری میں بائیو کاسمک انرجی کے کردار پر یقین بڑھتا جا رہا ہے.اب بات کرتے ہیں پیٹ فلے نیگن کی جس کو اس بات کا یقین تھا کہ اہرام بائیو کاسمک انرجی کا خزانہ ہیں اور اس وقت کی ترقی یافتہ قومیں جنہوں نے اہراموں کی تعمیر اس لیے کی تھی کہ وہ اس سے بائیو کاسمک انرجی کا ذخیرہ حاصل کر سکیں اور وہ کامیاب ہوگئے اور ابھی تک اس قوم کے افراد موجود ہیں،جن کو موجودہ دور میں یو ایف اوز کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہےخیر اس کی تھیوری سچ ہو نا ہو لیکن یو ایف اوز کو پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے۔حکومتوں کے جھٹلانے کے باوجود اڑن طشتریاں اپنی موجودگی پوری دنیا میں ثابت کر چکی ہیں.اب بات کرتے ہیں کیوگلیا کی جو انیسویں صدی کے اوائل میں مصر پہنچا.اور اہراموں نے اس پر جادو کر دیا اس نے اپنی ساری جائیداد فروخت کر دی لیکن اہراموں کے راز کو وہ بھی نہ پاسکا. مزدوروں کے کھدائی کراتے کراتے وہ کئی نئے حصوں تک پہنچا مگر اسے کچھ نہ مل سکا.اور پھر اس کی دولت ختم ہوگئی اور وہ اہرام میں رہنے لگا اور گائیڈ بن کر دوسروں کو اہرام کی سیر کرانے لگا. کچھ عرصے بعد اسے ہاورڈ نام ایک مہم جو ملا ان کی دوستی ہوگئی.اور پھر ان دونوں نے اہراموں کی کھدائی کا کام پھر سے شروع کر دیا.

ہاورڈ کی بدمزاجی کی وجہ سے اس خاندان والے بڑی خوشی سے اسے اپنے آپ سے دور رکھنے کے لیے پیسے دینے لگے. کافی عرصے تک کچھ نہ مل سکا.اور کیوگلیا دلبرداشتہ ہو کر وہاں سے واپس چلا گیا.مگر ہاورڈ وہیں رکا رہا اور ہر روز کے حالات اپنی ڈائری میں لکھتا رہتا.ایک دن کھدائی کے دوران ان کو ایک نیا کمرہ ملا جہاں پہلے کوئی داخل نہیں ہوا تھا. اس کمرے میں کافی نایاب تصاویر کے ساتھ فرعون شی اوپس کا نام کھدا ہوا ملا. فرعون شی اوپس کی پینٹنگز غزہ سے ہزاروں میل دور ایک غار میں بھی مل چکی تھیں.اور شی اوپس نامی فرعون خو فو سے کافی عرصہ پہلے گزر چکا تھا.اگر اہرام خوفو نے بنوائے تھے تو اہرام کے دور دراز کے کمرے میں فرعون شی اوپس کی باقیات کا ملنا کیا معنی رکھتا ہے؟ ہاورڈ اس کے بعد واپس چلا گیا اور اس نے ایک کتاب لکھی۔۔آپریشن کیریڈ آن ایٹ پیرامڈ ایٹ غزہ ان 1837،جس میں اس نے اپنے شب و روز بیان کیے اور اپنی تحقیق لکھی.ایک بات یاد رہے مصری صرف کانسی کے استعمال سے واقف تھے.
وہ لوہے سے نا آشنا تھے.کچھ یہی اصول مدنظر رکھ 2007 میں نوجوان ماہرین کی ایک ٹیم نے تجربہ کرنا چاہا کہ کانسی کو استعمال کرتے ہوئے کچھ چٹانوں کو تراشا جائے اور پھر ان کو اہراموں تک لے جایا جائے.انہوں نے اس کا بجٹ دس ملین ڈالر رکھا.جو کہ خوش قسمتی سے ایک ٹی وی چینل اور پیرامڈ کارپوریشن کا سپانسر کیا ہوا تھا.غرض انہوں نے پرانے دور کو مدنظر رکھ کر تمام اوزار پرانے استعمال کیے تھے.کچھ چٹانوں کو تراشتے تراشتے اتنی کانسی استعمال ہوئی کہ ان کے خیال کے مطابق پوری دنیا کی کانسی بھی ایک اہرام کی تعمیر کے لیے ناکافی ہوگی.اور کچھ چٹانوں کو اہراموں تک پہنچا کر ہی ان کا بجٹ ختم ہوگیا اور یوں ان کا آپریشن ناکام رہا.

ڈاکٹر جیسوپ یو ایف اووز کے بہت بڑے حامی تھے. وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بنے ہوئے اہراموں کو خلائی مخلوق کا بنا ہوا سمجھتے تھے. ان کے خیال میں مصریوں میں کیا پوری دنیا میں ایسی قابلیت تھی ہی نہیں کہ وہ اس طرح کی عمارتوں کی تخلیق کرتے. آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ اہرام مصر مشہور ہیں لیکن اہرام یا اہرام نما عمارتیں پوری دنیا میں موجود ہیں. جنوبی امریکا جہاں پر ا ن کی تہذیب کی شروعات ہوئی تھیں وہ علاقہ بھی اہراموں سے بھرا ہوا ہے. وہاں پر کئی اہرام ایسے ہیں جن کی اونچائی ا ن کی چوڑائی سے کہیں زیادہ ہے.سیڑھی دار اہرام پتھروں کی رگڑ کی قوت سے بنائے گئے ہیں.ڈھائی سو ٹن وزنی پتھروں کو سطح زمین سے چھ ہزار فٹ اوپر لے جانا آج کے جدید ترین ہیلی کاپٹر کے بس کی بات نہیں ہے.ہاں ہوائی جہاز اتنا وزن اٹھا سکتے ہیں مگر مطلوبہ مقام تک بالکل درست سمت میں پہنچانا ا ن کی اوقات سے باہر ہے.حد یہ کہ اڑھائی اڑھائی سو ٹن وزنی پتھروں کو چھ ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچایا گیا.
اور پھر ا ن کو ایک دوسرے کے اوپر دو دو کلو وزنی پتھروں کو جس طرح رگڑا جاتا ہے اسی طرح رگڑ کر نیچے والے پتھروں کو پیالہ نما اور اوپر والے پتھروں کو گولائی کی شکل دے کر اس طرح جوڑ دیا جاتا ہے کہ ان کے درمیان انچ کے دسویں حصے کے برابر بھی جگہ نہیں بچتی.

یاد رہے کہ یہ پتھر سینکڑوں ٹن کے تھے۔جنوبی امریکہ میں موجود سیکسا ہومان کا قلعہ بھی کچھ اسی اصول پر بنایا گیا ہے.اہرام چین میں بھی موجود ہیں مگر بہت دور دراز کے علاقوں میں ہونے کی وجہ سے زیادہ مشہور نہیں ہیں. اور جو اہرام دریافت ہوئے ہیں وہ بھی اتفاقیہ.ایک امریکی سیاح رابرٹ پچاس دن چھکڑوں سے سفر کرنے کے بعد ایک قصبے میں پہنچا تو اس نے وہاں پر پکی اینٹوں سے بنا ہوا اہرام دیکھا جو کہ چوتھائی میل کے رقبے پر پھیلا ہوا تھا.یہ علاقہ چین کے دور دراز کے صوبے شی شان میں ہے.سب سے دلچسپ بات یہ کہ برمودا کے سمندر میں بھی ایک اہرام دریافت ہوا ہے.یاد رہے یہ علاقہ دس ہزار سال پہلے سمندر میں ڈوب چکا تھا.اور اب برمودا کا علاقہ اڑن طشتریوں کے حوالے سے کافی شہرت رکھتا ہے.میں آپ کو یو ایف اووز کے متعلق بتاتا چلوں
UFO مخفف ہے انگریزی کے حروف Undefined Foreign Objects مطلب ایسی چیزیں جو اس دنیا کی ہی نہیں ہیں. اڑن طشتریاں بے آواز ہوتی ہیں اور ا ن کی سپیڈ کو آواز کی رفتار سے بھی تیرہ گنا تیز ریکارڈ کیا گیا ہے.

بات ہورہی تھی ڈاکٹر جیسوپ کی تو انہوں نے اڑن طشتریوں کو اہراموں کی تعمیر سے جوڑا اور وہ ہر یونیورسٹی میں لیکچر دینے جانے لگے اور اپنی تحقیقات پر اٹھنے والے سوالات کے جواب دینے لگے. لیکن اسی دوران امریکی حکومت نے یونیورسٹیوں کو ڈاکٹر جیسوپ کے لیکچر نہ لینے کی ہدایت کی. یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ ایک خالص علمی اور تحقیقی کام حکومت کی نظروں میں کیوں کھٹکنے لگا؟ڈاکٹر جیسوپ نے ہمت نہیں ہاری اور بہت سارے اخبارات اور میگزین کے ذریعے اپنا موقف دوسروں کر سنانے لگے. لیکن اسی دوران ان کی غیر متوقع موت واقع ہوگئی.اپریل 1967 کی ایک رات کو ڈاکٹر جیسوپ اپنی گاڑی میں مردہ پائے گئے.ان کی گاڑی کے دھوئیں والے سلنسر کو ایک پائپ سے جوڑ کر گاڑی کے اندر پائپ کو لایا گیا تھا اور ا ن کی موت دم گھٹنے سے ہوئی. پولیس نے اس کیس کو خودکشی کا کیس قرار دے کر کیس داخل دفتر کردیا. ا ن کی غیر متوقع موت اور حکومت کا ان پر اپنا کام روکنے کا دباؤ اپنے پیچھے بہت سارے سوالات چھوڑ گیا. خیر کبھی نہ کبھی تو سچ آشکار ہوگا.جاتے جاتے آخر میں، میں آپ کو ایک دلچسپ حقیقت بتاتا چلوں مصر کے تین بڑے اہراموں میں سے ایکسرے نہیں گزرتی جبکہ وہاں موجود باقی تمام اہراموں میں ایکسرے گزر جاتی ہے اور اندر کا چٹھا کٹھا نکال کر سامنے رکھ دیتی ہے.

عامر اشفاق
عامر اشفاق
میں نعرہ مستانہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *