بوٹ کو عزت دو ۔۔۔ معاذ بن محمود

وہ پریشان تھا۔ گزشتہ کئی سالوں میں یہ پہلی بار تھی کہ اسے اس قدر کھل کر یہ کام کرنا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آج عوام کی بڑی تعداد باہر ہوگی۔ اسے معلوم تھا کہ آج محلے والوں سے لے کر دوست، یار اور رشتہ دار سامنے ہوں گے۔ پھر بھی اسے یہ بولڈ کام کرنا تھا۔ وہ اپنی بری عادت سے اس قدر مجبور تھا کہ وہ یہ سب کرنے کو تیار تھا۔

وہ ساری رات بستر پہ اپنی انگلی کے پوروں کا جادو دکھاتا رہا۔ اس کی محنت نے ایک ہی رات جانے کتنے لوگوں کو سکون فراہم کیا۔ خود وہ بے سکونی کی حالت میں اضطراب کے ہاتھوں پریشان رہا۔ کیا مجھے اپنی تمام راتیں یوں ہی دوسروں کو خوش کرتے گزرا کرے گی؟ صبح ہونے تک اس کا ذہن ماؤف ہونے کے قریب تھا۔ اب کی بار چند آخری لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اسے مزید وقت لگانا پڑا۔ اب وہ ایک بار پھر اپنے ہاتھوں اپنی انگلیوں کا استعمال شروع کر چکا تھا۔ بہت سے لوگ اس کے ہاتھوں سکون حاصل کر رہے تھے۔ کئی لوگ اس آسودگی کے لیے جانے کتنے دن اس کے ہاتھوں کا انتظار کیا کرتے تھے۔ صبح صادق تک وہ تھکن سے چور نیند کی آغوش میں جا پہنچا۔ 

صبح آنکھ کھلی تو طبیعت مکدر تھی، انگلیاں دکھ رہی تھیں اور منہ کا ذائقہ عجیب سا تھا۔ شاید رات کی محنت اب تک اس کے بدن اور روح کو بے آرام کیے ہوئے تھی۔ مگر آج کا دن اہم تھا۔ آج سے پہلے کئی سال جو کام وہ اپنے بستر پر کرتا رہا آج وہی کام اس نے دنیا کے سامنے کرنا تھا۔ وہ تذبذب میں تھا۔ یہ موقع کبھی کبھار ملتا ہے۔ ہاں دنیا اسے شرم و حیا سے عاری کہے گی لیکن خود کو روکنا بھی اس کے لیے ممکن کہاں تھا۔ اس سے استفادہ کرنے والا ہر شخص اسے پیسے کئ پیشکش کرتا مگر یہ تو اس کا شوق تھا جو اسے یہ سب کرنے پہ مجبور کرتا۔ 

وہ بستر سے اٹھا۔ منہ ہاتھ دھو کر غسل کیا۔ الماری میں موجود سب سے بہترین لباس پہنا اور بال کاڑھنے کے بعد باہر کھلی فضاء میں نکل پڑا۔ راستے میں چند رقیب ٹکرائے جنہوں نے اس پہ طعنہ زنی کی کوشش کی مگر اسے کسی قسم کی سبکی محسوس نہ ہوئی۔ دنیا اس کے چہرے کو دیکھ کر سمجھ چکی تھی کہ وہ جذبات میں کس قدر مغلوب تھا۔

آہ! یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے!

اور پھر بالآخر اسے وہ نظر آ ہی گیا جس کی اسے تلاش تھی۔ نظریں چار ہونے پر اس نے اپنے جذبات کے زیر اثر آنکھوں ہی آنکھوں میں سوال کیا۔ اس کا موجودہ محبوب ساڑھے چھے فٹ کا ایک گبرو جوان تھا جو اپنی رنگت، مونچھوں اور شکل سے پنجابی معلوم ہوتا تھا۔ 

اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، فرط جذبات سے سیدھا گبرو جوان کے آگے جھک گیا۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر اس نے اپنا کام شروع کر دیا۔ مونچھوں والا جو بظاہر ایک سخت گیر شخصیت کا مالک محسوس ہوتا، اس لطف و تسکین سے محروم تھا جو وہ اسے دیے جارہا تھا۔ لیکن وہ شرمندہ بھی تھا کیونکہ سارا زمانہ اسے دیکھ رہا تھا۔ تمام نظریں ان دونوں پہ جمی چکی تھیں جیسے کہہ رہی ہوں “دیکھا! ہم نہ کہتے تھے ناجائز رشتہ موجود ہے؟”  

“شپڑ شپڑ” کی وہ آواز اسے بے انتہا تسکین دے رہی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اگلے کئی گھنٹے جوان کے جوتے چاٹنے میں لگا ڈالے مگر پولنگ بوتھ پہ کھڑا بوٹوں والا جوان دنیا کی نظروں میں موجود حدت محسوس کر گیا اور اسے ہاتھ سے جھٹک کر کھڑا کر دیا۔ اس کی زبان اور چہرا بوٹ کی سیاہی میں لتھڑا ہوا تھا۔ اس نے محبت بھری نگاہوں سے جوان کو دیکھا، ایک نظر ارد گرد موجود دنیا والوں پہ ڈالی۔ اگلے پولنگ بوتھ کی جانب نکل پڑنے سے پہلے اس نے ایک زور دار نعرہ لگا کر پچھلی کئی راتوں اپنی سوشل میڈیا تپسیا کا لب لباب دنیا کے منہ پہ دے مارا۔ 

“بوٹ کو عزت دو”۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *