وہاں کچھ تھا/ڈاکٹر حفیظ الحسن

صدیوں سے انسان یہ سمجھتے رہے کہ زمین کائنات کا مرکز ہے۔ اُنکے نزدیک سورج، چاند، ستارے سب زمین کے گرد گھومتے تھے۔ یہ کائنات انسان کے لیے بنی تھی اور انسان اس کائنات کی سب سے اہم شے تھا۔
پھر 17 وی صدی میں ایک اطالوی ماہرِ فلکیات گلیلیو آیا۔ اُس نے صدیوں کے اس فرسودہ نظریے کو خاک میں ملا دیا۔ گلیلیو نے کہا سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہےاور باقی سیارے جیسے کہ زہرہ بھی۔صدیوں سے رائج کسی نظریے کے خلاف بات کرنا جرم ٹھہرا۔اور کیوں نہ ہوتا اس سائنس کی حقیقت نے کئی لوگوں کے بظاہر مضبوط تصورات کے محلات کو ریت کے گھروندے بنا دیا۔ گلیلیو پر زندگی تنگ کر دی گئی۔
مگر علم کا راستہ کہاں رکتا ہے۔ایک خیال جو جڑ پکڑ لے وہ اُس طوفانی ریلے کی طرح ہوتا ہے جو راہ میں آئی ہر رکاوٹ کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے۔
آج گلیلیو کے بعد سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ہم خلاؤں میں جا رہے ہیں، کائنات کی کھوج میں مصروف ہیں۔ آج ہمارا کائنات کا تصور فرسودہ یا فرضی قصے کہانیوں پر مبنی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔
علمِ فلکیات اور جدید سائنس میں ترقی سے ہمارا کائنات کا تصور بہتر سے بہتر اور حقیقت پسندانہ ہو رہا ہے۔
بیسویں صدی کے اوائل تک ہم نظامِ شمسی اور ملکی وے کے بارے میں کافی کچھ جان چکے تھے مگر پھر 1924 میں ایڈوین ہبل آئے۔ اُنہوں نے مشاہدات کے ذریعے ثابت کیا کہ ہماری کہکشاں اس کائنات میں واحد کہکشاں نہیں ، بلکہ ہمارے علاوہ کئی اور کہکشائیں بھی موجود ہیں ۔ ایڈوین ہبل نے یہ بھی بتایا کہ کائنات تیزی سے پھیل رہی ہے۔
بیسویں صدی کے اختتام تک ہم خلا میں ہبل ٹیلیسکوپ بھیج چکے تھے، زمین پر بڑی بڑی فلکیاتی مشاہدہ گاہیں تعمیر کر چکے تھے۔ ہم جان چکے تھے کہ کائنات کتنی وسیع ہے۔ یہاں اربوں کہکشائیں اور ان میں اربوں سے بھی زیادہ ستارے ہیں۔ مگر ہم یہ نہیں جان سکے تھے کہ آیا دوسرے ستاروں کے گرد بھی ہمارے نظامِ شمسی جیسا کوئی سیاروں کا نظام موجود ہے۔ گو سائنس میں یہ خیال صدیوں سے چلا آ رہا تھا، نیوٹن سے لیکر دوسرے کئی سائنسدان گاہے بگاہے یہ خیال پیش کر چکے تھے کہ دوسرے ستاروں کے گرد بھی سیارے موجود ہونگے مگر اسکا ثبوت کوئی نہیں تھا اور ہوتا بھی کیسے؟
کئی نوری سال دور کسی ستارے کے گرد معمولی سے سیارے کو ڈھونڈنا کونسا آسان تھا؟ ستارے تو روشنی دیتے ہیں سو نظر آتے ہیں مگر سیارے ؟ وہ تو محض ستاروں کی روشنی کو منعکس کرتے ہیں تو نوری سالوں کی مسافت پر موجود سیاروں کو ڈھونڈنا؟ یہ کچھ ممکن نہیں لگتا تھا۔
پھر 90 کی دہائی آئی۔ سوئٹزرلینڈ کے دو ماہرین فلکیات
کائنات میں بائنری ستاروں کے سسٹمز کا مشاہدہ کر رہے تھے۔بائنری ستارے وہ ستارے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے گھومتے ہیں۔یہ سائنسدان ان ستاروں کے مدار
اور گھومنے کی رفتار کے متعلق جان رہے تھے۔
انکی نظر زمین سے 50 نوری سال دور سورج جیسے ایک ستارے جسکو 51 Pegasi کہا جاتا تھا، پر تھی۔
اُنہیں گمان تھا کہ وہاں کچھ ہے۔ اس ستارے کی روشنی کی ویوویلنتھ میں معمولی تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو کسی ستارے سے نہیں بلکہ اسکے گرد گھومتے کسی بڑے سیارے سے ممکن ہے۔یہ سیارہ مشتری کی سائز کا ہو سکتا تھا۔
مزید مشاہدات سے یہ معلوم کیا گیا کہ یہ مشتری جیسا سیارہ دراصل گرم سیارہ ہے اور یہ اپنے ستارے کے
گرد چار دن میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔
اس سیاروں کو نام دیا گیا Pegasi 51 b. اس دریافت نے دوسری ستاروں کے گرد زمین یا زمین جیسے سیاروں کی تلاش کی راہیں کھول دیں۔اس دریافت پر 2019 میں فزکس کا نوبل انعام ان دو سائنسدانوں کو دیا گیا۔
آج ہم قریب 5000 ایسے سیارے ڈھونڈ چکے ہیں جو کائنات کے دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے ہیں۔ انہیں Exoplanets کہا جاتا ہے۔فلکیات کی دنیا میں آج زمین جیسے سیارے اور ان پر زندگی کے آثار ڈھونڈنا سائنس کا ایک جدید اور اہم موضوع ہے۔
ممکن ہے اس صدی کے آخر تک ہم یہ جان پائیں کہ ہمارے علاوہ بھی دوسری زمینیں موجود ہیں جن پر زندگی ہے یا کوئی اور مخلوقات بستی ہیں۔
یہ ہمارا کائنات کے متعلق یہ دعویٰ بھی شاید ختم کر دے کہ ہم اس کائنات میں کوئی بہت اہم شے ہیں۔
۔
ہم کہ تنہا ہیں کائناتوں میں
یا کہ تنہا ہے ہم میں کائنات؟

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply