ووٹ کو عزت دو۔۔۔محمد منیب خان

‎”ووٹ کو عزت دو “ گو یہ نعرہ نواز شریف نے  “بظاہر عدالتی “معذولی کے بعد اپنے ووٹروں کو دیا لیکن اگر دل پہ ہاتھ رکھ کے سوچیں تو یہ نعرہ ہر لیڈر اور ہر پارٹی کا ہونا چاہیے۔آج  ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا ووٹ کاسٹ کرے۔ کس کو ووٹ کاسٹ کرے؟ یہ سوال وہ خود سے پوچھے اور جس کو ملک کے حق میں بہتر سمجھے اس کو ووٹ دے دے۔ اس میں لڑنے جھگڑنے یا بدمزگی کا کوئی جواز نہیں۔ آئین پاکستان آپ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ آپ اپنی مرضی کے امیدوار اور جماعت کو ووٹ دیں۔ اس ووٹ کے نتیجے میں چاہے کوئی بھی جیت کر سامنے آئے کم از کم میں اس کے خلاف نہیں ہوں گا۔ چاہے وہ جیتنے والا عمران خان ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میں عمران خان کے سیاسی نظریہ کا قائل ہو جاؤں گا اور اس کے کردار کو تسلیم کر لوں گا بلکہ درحقیقت میں عوام کے انتخاب کو عزت دوں گا۔ کیونکہ یہی ووٹ کی عزت ہے۔ لیکن کوئی بعید نہیں کہ اگر چند ماہ بعد کوئی عدالتی سانحہ عمران خان کو بہا لے جائے گا تو میں اس کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ کیونکہ اب اس کی گنجائش نہیں کہ کوئی اور عوام کے ووٹوں کے ساتھ کھیلواڑ کرے۔

چونکہ تجزیوں کا اتوار بازار لگا ہوا ہے سو اس میں میرا سستا سا تجزیہ یہ ہے  کہ ن لیگ سادہ  اکثریت حاصل کر لے گی۔ لیکن اگر کوئی انہونی اس کے بر خلاف ہوئی تو پھر ایک سیلاب آئے گا۔ اب کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ایک طرف میں عمران کی جیت کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے رہا ہوں اور دوسری طرف ن لیگ کی ہار کو نہ ماننے کا اشارہ۔ تو سادہ  سی گزارش ہے کہ الیکشن ایک سائنس ہےاور چاہے اب وہ زمانہ کافی حد تک گزر گیا جہاں دھاندلی صرف ٹھپے اور جعلی ووٹ کے ذریعے کی جاتی تھی۔ اب سائنسی دھاندلی ہو سکتی ہے   اور اگر کہیں ایسی خبریں آئیں کہ خفیہ اطلاعات پہ کسی مخصوص جماعت کے اکثریتی پولنگ سٹیشنوں پہ دانستہ پولنگ سست کی گئی تاکہ جیت کا مارجن یا تو کم کیا جائے یا اس کو ہار میں بدلا جائے یا پھر  کسی نے کسی بھی ادارے کی موجودگی کی آڑ میں دھونس دھاندلی کی کوشش کی تو یقیناً اس کے بعد ارتعاش پیدا ہوگا ایسا ارتعاش جو اس ناتواں جمہوری نظام کے لیے  نیک شگون نہیں ہوگا۔   اب جھگڑنا نہیں محبت اور احترام سے ملک کو آگے لے کر جانا ہے ۔ احترام مخالف سیاسی نظریے کا، احترام مخالف ووٹ کا اور احترام ہر اس جماعت کا جو جمہوریت اور جمہوری روایت کی امین ہے۔
پاکستان زندہ باد
جمہوریت پائندہ باد!

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *