کامریڈ حسن ناصر شہید،جو مر نہ سکا

یہ ذکر ہے اس انقلابی کا جس نے جو سماج کا پہیہ چلانے والے محنت کش انسانوں کی تنگ و تاریک بستیوں اور دھرتی کا سینہ چیر کا اناج اگانے والے کسانوں کے خاک اڑاتے دیہاتوں سے دور پرے ایک پرشکوہ اور پرتعیش محل میں آنکھ کھولی۔ اسے لاکھوں کروڑوں محنت کاروں کے برعکس زندگی کی تمام آسائشیں اور سہولیات حاصل تھیں اور اگر وہ چاہتا تو زندگی کو ان مسرتوں اور تعیش میں گزار دیتا مگر اس نے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا ، یہ انقلاب کا راستہ تھا ایسا انقلاب جسے مزدور طبقے نے برپا کرنا تھا، یہ مزدور راج کے قیام کا راستہ تھا ۔ اس راہ پر پھولوں کی کوئی سیج نہیں تھی بلکہ یہاں قدم قدم پر ظالم طبقات اور ان کے گماشتوں کے پھانسی گھاٹ، کال کوٹھریاں ، بدترین عقوبت خانے اور زندان تھے ۔مگر اس بہادر نوجوان نے دنیا بھر کے ان گنت عظیم انسانوں کی طرح پر تعش محلوں ،تختوں اور تاجوں کو ٹھکرا کر اس راہ کا انتخاب کیا تاکہ سماج کی ریڑھ کی ہڈی یعنی محنت کش طبقہ آزاد ہو سکے۔ مکر ،فریب،جھوٹ ،ظلم وجبراور ایک انسان کا دوسرے انسان کے استحصال پر مبنی وہ دنیا، جسے سرمایہ دار طبقہ ’’رنگ و نور‘‘ کی دنیا قرار دیتا ہے، اُس نے اس میں پنہاں تاریکیوں کو جان لیا تھا، لہذا وہ روشنی کے خالق لیکن تاریک گھروں کے باسی محنت کشوں کی زندگیوں میں تبدیلی کا علم بردار بن گیا۔ اسی جرم کی پاداش میں آج سے 56سال قبل اس جوان رعنا کو جس کی عمر ابھی32سال ہی تھی تاریکی کے دیوتاؤں نے لاہور کے شاہی قلعے میں سولی کا تحفہ دیا لیکن یہ اور بات کہ وہ مر نہ سکا کیونکہ وہ سماج کی زندگی کے ضامن مزدور طبقے کا نمائندہ تھا ۔ محنت کش طبقے کے اس عظیم شہید کو ہم کامریڈ حسن ناصر کے نام سے جانتے ہیں۔

وہ2اگست 1928کوحیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد سید علمدار مختلف اوقات میں حیدر آباد کے مہاراجہ سرکشن پرشاد بہادر ، اور حکومت کے چار صدور اعظم سر مرزا اسماعیل حیدری، نواب صاحب چھتاری اور میر لائق علی کے پرائیوٹ سیکرٹری رہے تھے جبکہ ان کی والدہ زہرہ علمدار کا تعلق بھی حیدر آباد کے ایک نواب گھرانے سے تھا ۔ منہ میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہونے والے حسن ناصر کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جس کا برصغیر کے محنت کش عوام کی اکثریت نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا اور یہ طرزِ زندگی صرف سرمایہ داروں ، جاگیر داروں ،نوابوں اور مہاراجوں کی اقلیت سے ہی مخصوص تھا ۔ اس ماحول میں پروان چڑھتے ہوئے حسن ناصر نے ابتدائی تعلیم گرامر اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں سینیئر کمیبرج کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا ۔ ان کا شمار ذہین طلبا میں ہوتا تھا اور وہ ایک اچھے مقرر بھی تھے۔ انٹر میڈیٹ انھوں نے ہندوستان کی مشہور درسگاہ علی گڑھ سے کیا اور پھر بی اے کرنے حیدر آباد کے نظام کالج آگئے ۔

اس زمانے میں ان کے خالہ زاد بھائی کوکب دری بھی ان کے ساتھ تھے اور انہی کے عم عمر تھے ۔ کوکب دری ایک نوجوان انقلابی تھا جو محنت کش طبقے کے انقلابی علم اور نظریے سے بخوبی واقف تھا۔ اسی کوکب دری کے ساتھ رہ کرحسن ناصر محنت کشوں کے نظریاتی علم یعنی مارکس ازم لینن ازم سے روشناس ہوا۔ اب وہ پہلے والا حسن ناصر نہیں تھا بلکہ اس نے ہندوستان کے محنت کشوں کی انقلابی پارٹی ’’ کمیونسٹ پارٹی‘‘ میں شمولیت اختیار کر لی اور سرمایہ داری جاگیرداری نظام کے خاتمے اور مزدور راج کے قیام کے لیے عملی طور پر کام کا آغاز کیا ۔ 1946میں صرف 18سال کی عمر میں وہ حیدر آباد اسٹوڈنٹس یونین کا راہنما تھا اور اسی سال جب برطانوی سرکار نے نے تحریکِ آزادی کے عظیم راہنما سبھاش چندر بوس ( نیتا جی)کی ’’ انڈین نیشنل آرمی‘‘ کے راہنماؤں پر مقدمات کا آغاز کیا تو حسن ناصر نے اس کے خلاف حیدر آباد میں احتجاجی جلسے ،جلوس اور مظاہرے منظم کیے ۔

1946کا سال ہندوستان کی تاریخ کا ایک انقلابی سال تھا یہی وہ سال تھا جس کے ابتدائی مہینوں میں بمبئی کے جہازیوں نے اپنی مشہور ہڑتال کا آغاز کیا تھا جو ’’جہازیوں کی بغاوت‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی اور اس کا دائرہ ہندوستان بھر پر محیط تھا ۔اس بغاوت کو برطانوی سامراج نے تشدد کے ذریعے دبایا اور بمبئی کی سڑکیں مزدوروں اور ان کے راہنماؤں کے خون سے رنگین ہو گئیں۔ سرمایہ داروں و جاگیر داروں کے مفادات کی ترجمانی کرنے والی جماعتوں ’’کانگریس‘‘ اور ’’مسلم لیگ‘‘ نے اس موقع پر مزدور انقلاب سے خوفزدہ ہو کر یہ ہڑتال فرو کرنے میں برطانوی سامراج کی خوب مدد کی ۔دوسرا اہم واقعہ خود حیدر آباد کی دھرتی پر تلنگانہ تحریک کا ظہور تھا ،کسانوں کی اس تحریک کے تین نعرے’’ زمین، آزادی، اور جمہوریت‘‘ تھے اور اس تحریک نے مسلح رنگ اختیار کر لیا تھا ۔ یہ تحریک تقسیمِ ہند کے بعد بھی کافی عرصے جاری رہی اور یہی واقعات حسن ناصر کے انقلابی نظریات کو مزید پختہ کرنے اور جدوجہد پر آمادہ کرنے کا باعث بنے ۔انقلابی سرگرمیوں کے نتیجے میں سرکار ان کی دشمن ہو گئی تو وہ روپوش ہو گئے اور بعد ازاں حیدر آباد دکن سے بمبئی کے مزدوروں میں انقلابی کام کرنے چلے گئے جہاں انھوں نے کافی عرصے تک انقلابی افکار کا پرچار کیا۔

اگست 1947میں برطانوی راج کے خاتمے اور تقسیمِ ہند کے بعد جب محنت کشوں کی جماعت ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ کے راہنما سجاد ظہیر نے پاکستان میں مزدوروں کی جماعت کو منظم کرنے کے لیے یہاں کا رخ کیا تو ان کے ساتھ آنے والے نوجوانوں میں حسن ناصر بھی شامل تھا، یہ دسمبر کا مہینہ تھا ۔ پاکستان آنے کے بعد اس نوجوان انقلابی نے سندھ کے شہر کراچی میں قیام کیا وہ یہاں جس انقلابی مقصد کے پیش نظر آیا تھا اس کے لیے اس نے انتھک محنت کی ۔ اس کا تعلق تلنگانہ کی انقلابی دھرتی سے تھا جہاں کے بہادر کسانوں کی تحریک نے ایک دنیا کو متاثر کیا تھا چنانچہ وہ سندھ میں ایک اور تلنگانہ کو جنم دینے کے لیے ہاری تحریک میں سرگرم ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے صنعتی مزدوروں میں بھی اپنا کام جاری رکھا ۔انقلابی طلبا راہنما کی حیثیت سے مزدور سیاست میں قدم رکھنے والا کامریڈ حسن ناصر اب کسانوں اور مزدوروں کا راہنما تھا جس میں گودی، تیل ،کپڑے سے لیکر بیڑی بنانے والے مزدور تک شامل تھے ۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی مرکزی کمیٹی کا رکن اور کراچی کا سیکریٹری تھا۔ 1949میں جب پورٹ ٹرسٹ اور ٹراموے کے مزدوروں کی ہڑتال کے سلسلے میں پارٹی راہنما گرفتار کیے گئے تو اس موقع پر حسن ناصر نے روپوش ہو کرنہ صرف سرگرمیاں جاری رکھیں بلکہ پارٹی کی تنظیمی ذمہ داریاں بھی پوری کرتے رہے۔

1951میں محنت کشوں کی جماعت کی سرگرمیوں سے خوفزدہ ہو کر جاگیر داروں، سرمایہ داروں اور عالمی سامراج کے مفادات کی ترجمانی کرنے والے حکمرانوں کی ایما پر انقلابیوں کے خلاف مظالم کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ا اس سلسلے میں کئی ایک انقلابی ’’راولپنڈی سازش کیس‘‘ کے نام پر جیلوں میں ڈال دئیے گئے جن میں حسن ناصر بھی شامل تھے ۔وہ ایک سال تک لاہور کے شاہی قلعہ میں اسیر رہنے کے بعد 1952میں رہا ہوئے اور پھر سے پارٹی کے انقلابی کام میں مشغول ہو گئے۔ 1954میں حکمرانوں نے امریکی سامراج کی حلقہ بگوشی میں جہاں بہت سے دیگر مزدور دشمن اقدامات کیے ان میں ایک ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ پر غیر قانونی طور پر پابندی بھی تھی ۔ ایک بار پھر انقلابیوں کے خلاف جبر ،تشدد اور گرفتاریوں کا آغاز ہوا تو حسن ناصر گرفتار کر لیے گئے اور انھیں کمیونسٹ پارٹی سے لاتعلقی اختیار کرنے کو کہا گیا جس سے انھوں نے صاف طور پر انکار کر دیا۔آ خر 13دسمبر 1955کوحسن ناصر پاکستان سے دو سال کے لیے جلاوطن کر دیئے گئے یہ عرصہ انھوں نے حیدر آباد دکن میں گزارا۔ کامریڈ حسن ناصر1957 میں ہندوستان کے ساتھیوں کے منع کرنے کے باوجود واپس پاکستان آ گئے تاکہ محنت کشوں کے انقلاب کا کام جاری رہے۔ یہاں ایک بار پھر انھوں نے روپوشی کے عالم میں سرگرمیوں کا آغاز کیا اور یہ سارا عرصہ مزدوروں کے درمیان گزارا۔ اس زمانے میں جب نیشنل عوامی پارٹی کا قیام عمل میں آیا تو پارٹی کے فیصلے کے مطابق حسن ناصر اس کے آفس سیکریٹری بن گئے ۔ 1958میں ایوب خان کا مارشل لاء لگا اور پھر ایک بار بڑے پیمانے پر انقلابیوں کے خلاف ظلم وستم کا سلسلہ شروع ہو گیا، بہت سے انقلابی گرفتار ہوئے جبکہ بہت سے روپوش ہوگئے جن میں حسن ناصر بھی شامل تھے۔ 6اگست1960کو حسن ناصر کراچی سے گرفتار کر لیے گئے اور انھیں لاہور کے بدنام زمانہ شاہی قلعہ منتقل کر دیا گیا ۔ مغل عہد میں تعمیر ہونے والا شاہی قلعہ ہمیشہ سے باغیوں اور انقلابیوں کا زندان و مقتل رہا ہے، اسی مقام پر انگریزوں نے آزادی کے متوالوں کو پابند سلاسل رکھ کر ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے، مگر یہی وہ مقام ہے جس سے آزادی کے سپوت اور انقلابی سرخرو ہو کر نکلے ،کبھی اپنے پیروں پر تو کبھی دار پر سرفراز ہونے کے بعد۔ ان میں بھگت سنگھ سے لیکر سبھاش چندر پوس کے ساتھی جے پرکاش نرائن ،بابا گورمکھ سنگھ اور حسن ناصر جیسے انقلابی شامل ہیں۔

اگرتقسیم کے بعد انگریزوں ہی کے تربیت یافتہ لوگوں نے اس قلعے کو انہی مقاصد کے لیے استعمال کیاتو یہاں انقلابی روایات کا تسلسل کامریڈ حسن ناصر بھی اپنے آدرش سے غداری نہ کرتے ہوئے اشتراکی آدرش کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دے گیا ۔ اس عقوبت خانے میں کامریڈ حسن ناصر پر بدترین تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ 13نومبر1960کو دورانِ اسیری شہید ہوگئے۔ سرکار نے ان کی موت کو خود کشی کا نام دینے جیسی شرمناک حرکت بھی کی مگر اس میں اسے ناکامی اور نامرادی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آیا ۔ ان کی شہادت کے بعد ان کی والدہ زہرہ علمدار حیدر آباد دکن سے ان کی لاش لینے کے لیے پاکستان آئیں ۔ اس سلسلے میں بھی کا فی روڑے اٹکائے گئے اور جب وہ یہاں آ گئیں تو قاتلوں نے ان کے بیٹے کی لاش غائب کر کے کسی اور کی لاش ان کے سامنے رکھ دی تاکہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ان کے جھوٹ کا بھانڈا نہ پھوڑ دے ۔ مگر ان سامراجی گماشتوں اور محنت کش عوام کے دشمنوں کا بھانڈا تو ایک عرصہ قبل ہی بیچ چوراہے پھوٹ چکا تھا ۔یوں حسن ناصر جو اس دھرتی کے مزدوروں ، ہاریوں اور کچلے ہوئے انسانوں کی زندگی میں انقلاب برپا کرنے آیا تھا اس جرم کی پاداش میں زینتِ دار بنا دیا گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے اسی خاک کا حصہ بن گیا ۔ چلی کے عظیم انقلابی شاعرکامریڈ پابلو نرودا کے الفاظ میں:

’’ میں تمہارے سیاہ باجرے کی روٹی کا ایک نوالہ، تمہاری گریبان کی ایک دہجی بن گیا ہوں‘‘۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *