پان اور جوش ملیح آبادی۔۔۔۔محمد علی

 تم پان پان کہہ کے میرا پان لے گئے۔۔۔۔ ہوایہ کہ اک بڑی آسامی کے لئے حضرت جوش ملیح آبادی مد ظلہ العالی کو تشویق دلائی گئی اور منت سماجت کرنے کے بعد اس کے لیے امتحان گاہ پہنچے، وہ پوتڑوں کے رئیس تھے، اور لکھنوئی تہذیب کا زندہ نمونہ، دیگر افراد کیا دیکھتے ہیں کہ کالی اچکن میں ملبوس, جیب میں گلاب اڑسے ،ہاتھ میں چاندی کی نقشین ڈبیہ لیے خراماں خراماں اک شخص چلا آتا ہے جسے ابھی کوئی جانتا نہیں ہے، یکایک ہال میں آواز آئی “ارے یہ تو جوش ہیں”۔۔۔

اور یہ سنتے ہی نوکری پانے کوسب کے اندر کی امنگ اور جوش ٹھنڈا پڑگیا، اردو کے خداوندان میں سے ایک جو ہال میں تھے، غالباً مقتدرہ اردو کی کوئی آسامی تھی، اور یہ امتحان تو واقعتاً  بازیچہ اطفال تھا شبیر حسن خاں کے لئے جن کی ٹھوکر میں دنیا کی دولت پڑی رہتی تھی، جوش امتحان میں محو تھے کہ آپ نے چاندی کی ڈبیہ سے پان نکالا،پھر سلیقے سے قوام چکھا اور ڈبیہ رکھ دی، ممتحن آگے آیا اور کہتا ہے ۔۔۔۔

“ہال میں کچھ کھانا پینا منع ہے”۔۔۔

جوش برہمی سے کہنے لگے،ہم نے یہ ملک اپنی تہذیبی روایات کو آگے بڑھانے کے لیے ہی بنایا تھا، اگر ہم وہ نہ کر سکیں تو تف ہے ہم پر اور اس امتحان پر”، وہ اٹھنے لگے اور جانے ہی والے تھے کہ محکمے کا ایک افسر آیا جو جوش کو جانتا تھا، اس نے جوش سے معذرت کی اور کہا آپ شوق سے شغل فرمائیے، آپ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

اب ذرا کوئی حالیہ تاریخ سے واقعہ ہوجائے،(کراچی والے) ایک سابقہ رکن پارلیمان بتاتے ہیں کہ جناب شوکت عزیز صاحب کی وزارت عظمیٰ ( وہ آج کل والی عظمیٰ نہیں) کے دوران ایک ساتھی رکن تازہ گھر کے بنے پان بڑے انہماک سے چباتے رہے اور ہنگام اگال,ایک تھیلی بطور اگال دان لے آئے تھے۔ تو سانپ بھی مرگیا اور لاٹھی وغیرہ۔۔۔۔۔ یہ پان, تیز مصالحے والے کھانے اور (معذرت کے ساتھ) کینہ پروری ہمارا جز ہے، سنگ مر مرپر چل کر ابھی تک پھسل رہے ہیں ہم لوگ اور عقل شریف سے کوسوں دور بھی، تو یہاں یہ مسئلہ ضرور ہے کہ فرط پان/ماوہ/گٹکا سے مغلوب ہو کر، کونوں کھدروں، سڑکوں چوباروں پر،اغلب تعداد لوگوں کی خون(اگال/پیک) اگلتی پھرتی ہے لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ پان خورانی پر مذاق اڑایا جائے، ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ فاصلے کم کرنے کے لیے آپ کتھا لگانا چاہتےہیں لیکن بصد شوق ،تا تا تھیا کر کے چونے پر بات کا اختتام ہوتا ہے۔ اب جب اس سے منہ کٹ رہا ہے تو اس درد کا درماں ڈھونڈیے، کوئی نئی جگت نہ ماریے گا للہ۔

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *