مارکسسٹ یوسف عزیز(شاہ محمد مری)

میر یوسف عزیز کی صدائے حق نے انگریز کی تمام جکڑ بندیوں کو توڑ دیا ۔ اس کی للکار بلند سے بلند تر ہوتی گئی۔ اس کے خیالات وسیع سے وسیع تر ہوتے چلے گئے اور اس کے حامی بڑھتے چلے گئے۔اسی زمانے میں اس نے عنقا کوخط میں لکھا تھا کہ’’صمد اور کرد کے جیل جانے کے بعد میرے لیے سرداری لعنت تھی جس سے قدرت نے آزاد کردیا۔‘‘
وبرطانیہ میں ایک برس سے زیادہ عرصہ رہا۔ دلچسپ بات ہے کہ جب قادر بخش نظامانی 1934 میں خفیہ طورپر سوویت یونین گیا تو یوسف عزیز مگسی نے اس کی زبردست حوصلہ افزائی کی تھی۔ چنانچہ اب خود اُس کا سوویت یونین جانے کا پکا ارادہ بنا۔ وہ چاہتا تھا کہ انگلینڈ جا کر وہاں سے اپنے خوابوں کے مرکز سوویت یونین دیکھ آئے مگر انگریز سامراجی حکومت کو یہ منظور نہ تھا اور ہمارا یہ بزرگ کئی دیگرنا تکمیل یافتہ عوامی سماجی حسرتوں میں اِس ایک بڑی حسرت کا بھی اضافہ کرچلا۔ اس نے خواہ جتنی بھی سوویت یونین جانے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ قدرت خدا کی، کہ برطانیہ میں وہاں کی کمیونسٹ پارٹی سے اس کا رابطہ ہوا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے جو لیڈی سیکرٹری رکھی وہ برطانوی کمیونسٹ پارٹی کی رکن تھی۔

آزادیوں سے محبت کرنے والے لوگ غیبی انداز میں کمیونزم کی طرف ہی آ جاتے ہیں!۔۔۔۔اس کے انگلستان کے سفر کی تفصیلات کا دو تین خطوط کے علاوہ کوئی ماخذ مجھے نہ مل سکا۔ لیکن ان خطوط سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ میر یوسف علی خان کی سوچ کو بہت وسعت نصیب ہوئی۔ وہ پہلے تو خلافت تحریک سے بہت متاثر تھا۔ پوری دنیا میں مترقی مذہبی (اسلامی) انقلاب لانا چاہتا تھا۔ فرنگ کی ہر بات سے نفرت کرتا تھا حتیٰ کہ وہ اپنی تحریروں میں ڈارون اور اس کا نظریہ ماننے والوں کو انتہائی حقیر گردانتا تھا اور لگتا ہے کہ محض انگریز کو بھگانا اور اس کی جگہ ایک مسلمان حکومت قائم کرنا (ایک ہلکی پھلکی روشن خیالی کے ساتھ) اس کا مطمع نظر تھا۔ مگر برطانیہ میں اسے سیکولر، صنعتی اور کیپٹل ازم والا ایک معاشرہ دیکھنے کو ملا۔ اسے سیاست، ثقافت اور تمدن کی نشوونما میں معیشت کے کلیدی رول کا احساس ہوا۔ یورپ سے متعلق اس کے دماغ میں موجود ساری رائے بدل گئی۔ اس نے ان نئے حقائق کو تسلیم کیا اور اپنے خیالات اپنے دوستوں تک پہنچانے میں نہ تو کوئی ندامت محسوس کی نہ ہی تامل کیا۔ ایک خط میں لکھتا ہے۔
’’ یورپ کے متعلق آپ کے علمایانِ دین کی تمام باتیں غلط، یکسر غلط، بخدا کہ غلط۔۔۔ یورپ بہت آزاد ہے‘‘ –

وہ وہاں خواتین کی آزادی سے متاثر ہوا۔ وہاں کی عورتوں کو حاصل حقوق کا موازنہ ہمارے ہاں کی عورت کی حالت سے کرتے ہوئے اسے بہت صدمہ ہواتھا ۔ میر یوسف علی خان مگسی یورپ کی عورت کے متعلق لکھتا ہے ۔
’’ آپ سے بازار میں، ریستورانوں میں، پارٹیوں میں آزادانہ عورتیں ملیں گی، باتیں کریں گی، کھیلیں گی، سنائیں گی اور رشتہ دار دخل نہیں دیں گے۔ مگر اخلاقی لحاظ سے وہ برائی جو آپ کے دراز ریش حضرات ان سے منسوب کرتے ہیں، ایک فیصدی پائی جائیں گی۔ یہاں کی عورت اپنی عصمت کی حفاظت آپ کے رسم و رواج کے مطابق پردے اور تلوار و بندوق کے ڈر کے ذریعے نہیں کرتی، ان کا معیار کچھ اور ہے۔۔۔ آپ کے مولویوں کی بنائی ہوئی عورت پردے میں رہے گی، مرد کی شکل نہ دیکھ کر محض نظر کی جبریت پر عامل ہوگی۔ وہ مذہبی، دیندار، نمازی کہلائے گی مگر معاف فرمائیے گا کہ پچاس فیصد جب ورثا کی غیر موجودگی میں آنکھ کا کوئی اشارہ ملے گا تو ہمہ تن خون ہوکر بہہ جائے گی۔ یہ ہے نتیجہ پابندیوں کا۔ جذبات و خیالات، جو رسم و رواج کی پابندی سے راہ نہیں پاتے، عورت کو باغی، عیاشی کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔ وہ Day Dreaming میں اوقات بسر کرتی ہے اور یہ دماغی عیاشی اس کے کریکٹر کو بہت نازک اور ناپائیدار بنا دیتی ہے۔۔۔ یہاں کی عورتیں ہر قسم کی آزادی سے بہرہ ور ہیں۔مردوں سے کھیلتی ہیں، ننگی ننگی ٹانگیں رکھتے ہوئے بازاروں میں پھرتی ہیں۔ دریاؤں میں تیرتی ہیں۔ جس چیز کو اچھا سمجھتی ہیں، انہیں خوف نہیں ہوتا کہ والدین مزاحم ہوں گے۔ آزادانہ تعارف پیدا کرکے سیر کرتی ہیں۔ اس کی وجہ سے انہیں دماغی عیاشی کی اُس بدترین شکل سے واسطہ نہیں پڑتا جیسے کہ آپ کے علاقے میں ہے‘‘۔

سماجی امور میں عورتوں کی شمولیت کی اہمیت ، اُس کے بعد اس نے کبھی فراموش نہ کی۔ وہ بلند آواز سے کہتا رہا ’’آزادی کا حصول بلوچ خواتین کی شمولیت کے بغیر ناممکن ہے‘‘۔جناب محمد امین کھوسہ کو ایک خط میں جناب یوسف عزیز مگسی نے لکھا۔ ’’ایک دن آئے گا جب بلوچوں کو مظلوم لڑکیوں کے حقوق دینے ہوں گے‘‘ ۔ میریوسف علی خان اِس حد تک تبدیل ہوا کہ2 جون1934 کو ایک خط میں دوست کو لکھا ’’۔۔۔آپ مجھے سردار نہ لکھا کریں۔ خدا نے اس نحوست سے نجات دلا دی ہے‘‘۔مگسی صاحب کے وہاں پر ایک معاشقے کے بارے میں مجھے کوئی اور ثبوت نہ ملا، ماسوائے ایک حوالے سے جس کے مطابق ’’ مگسی لندن میں محبت میں گرفتار ہوا تھا۔۔۔۔۔۔‘‘

دلچسپ بات ہے کہ لندن سے واپسی پر یوسف عزیز نے ایک زور دار مضمون بعنوان ’’سیاسیات مقدم ہے یا اقتصادیات ‘‘ لکھا۔اس مضمون کا ایک پیرا گراف دیکھیے۔۔۔۔۔’’ وہ اشخاص جو دو وقت کی روٹی پیٹ بھر کر کھانے کی استطاعت رکھتے ہیں ، کیا انگلیوں پر نہیں گنے جا سکتے ؟۔ ہمارے دیہات کی منتشر آبادی ، جن کو نہ سونے کا ڈھنگ ہے، نہ کھانے کی تمیز اور پھر سردار پرستی، بیماریوں سے بھرے ہوئے غلیظ گھروں اور سال ہا سال کے پرانے کپڑوں کا، جو جراثیم کا آشیانہ بنے ہوئے ہیں، استعمال درد ناک نہیں؟‘‘۔

مگر اس کی یہ آواز ہماری کسی سیاسی پارٹی کی راہنما نہ بن سکی۔ ہم اس کی باتوں سے صرف اپنی سہولت کی باتیں اٹھاتے رہے۔ اپنے جلسوں میں لہک لہک کر اس کی نظمیں پڑھتے رہے مگر باوجود بہت سے مواقع کے ہم نہ تو اپنی بچیوں کو تعلیم دے سکے اور نہ عورتوں سے متعلق اپنے غیرانسانی رویوں میں تبدیلی لا سکے اور نہ ہی انہیں دل سے برابری کے حقوق دینے کا ارادہ کر سکے۔ مگسی صاحب، اے میرے بزرگ! یقیناً ایک دن آئے گا جب بلوچ مظلوم لڑکیوں کے حقوق دیں گے!!اس کا ذ ہنی میلان بتدریج سوشلزم کی طرف گامزن رہا۔ اس نے اپنے قریبی دوست جناب امین کھوسو کو کارل مارکس کی تصانیف اور انقلابِ روس کی تاریخ کو پڑھنے کا مشورہ دیا،’’میں آپ کو ذیل کا ایک مشورہ ضرورعرض کروں گا۔ اگرآپ نے ماناتو میں بہت مشکور ہوں گا، کارل مارکس کی تصنیف ’کیپٹل‘ اور۔۔۔’دنیا کے دس ہلاکت آفریں دن‘ کو ضرورپڑھیں‘‘۔

اسی خط میں وہ اپنی سیاسی لائن اِس طرح بیان کرتا ہے؛
’’بھائی صاحب! یہ سارے حصہ دار ہیں، جھگڑا صرف بانٹنے کا ہے۔ یہ سرمایہ دار ایک دوسرے کو پلیٹ فارم پر دھمکیاں دے کر اپنے لیے اچھا حصہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ غریبوں سے لوٹ کھسوٹ کی بندش کا افسوس اور غم نہ تو ہماری کانفرنس والوں کو ہے اور نہ آپ کی نیشنل کانگریس کو۔ میں تو اس موجودہ تحریک سے مایوس ہوتا جا رہا ہوں اور کوشش میں ہوں کہ بلوچستان کے اندر کوئٹہ، جھل، سبی، نوشکی اور مستونگ میں کسانوں اور مزدوروں کی ایک یونین بن جائے جس کے مقاصد محاصل اور بٹائیوں کی ظالمانہ لوٹ کو معتدل درجے پر لانے کے لیے سرمایہ داروں سے اپنے حقوق حاصل کرنا اور مزدور کے لیے، جن میں ریلوے کی تعمیر کے ہر قسم کے مزدور ہوں، اجرت کے نرخ اور اوقات کار کو مناسب سطح پر لانا ہو‘‘۔

ہم نے دیکھا کہ رفتہ رفتہ ارتقا کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے اس کا ذہنی میلان بتدریج سوشلزم کی طرف گامزن رہا۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اس نے اپنے دوستوں کو خطوط کے ذریعے انجمن سے برطانیہ نواز عناصر کو باہر نکالنے، اور خود کو بلوچستان کی مکمل آزادی اور ایک سوشلسٹ نظام کے لیے وقف کرنے کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔
زلزلہ، زلزالہا:
میر یوسف علی خان ایک سال لندن میں جلا وطن رہنے کے بعد 31 جنوری 1935 کو واپس کراچی پہنچا۔ وہاں سے سکھر اور پھر وہاں سے ڈھاڈر گیا اور ایک ہفتہ تک خان احمد یار خان کے ساتھ رہا۔ مئی1935 کے تیسرے ہفتے میں وہ بلوچستان واپس آیا اور کوئٹہ میں سرکاری ڈاک بنگلے میں اقامت گزیں تھا کہ 30 اور 31 مئی1935 کی درمیانی شب 3 بج کر 5 منٹ کو وادی کوئٹہ، مستونگ اور قلات کے ہولناک زلزلہ میں وفات پا گیا۔اس کی عمر اس وقت27 برس تھی۔

تاریخ کی یہ حرکت بھی دلچسپ ہے کہ آج کوئی نہیں جانتا کہ خان بہادر نواب میر شمس شاہ مطلق العنان وزیراعظم (1935-1918) ریاست قلات بھی اسی 31 مئی1935 کے کوئٹہ زلزلہ کی نذر ہوگیا اور یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ تکبر و جلال بھرا یہ ظالم حکمران کوئٹہ کے ریلوے سوسائٹی کے قبرستان میں سخی سمندر شاہ بابا کے پہلو میں دفن ہے۔بلوچستان صدموں میں سے گزرنے والا پی ایچ ڈی خطہ ہے۔ مگر کچھ صدمات ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے خود آسمان روتا ہے۔اس زلزلے کی تباہیاں تاریخ میں کبھی فراموش نہ ہوں گی اور یوسف عزیز کی موت تو پوری تحریک کا سکتہ تھی۔ یوسف عزیز مگسی کی صورت میں ایک مر دِقلندر مرگیا اور بہت پہلے ایک زبردست بات کر گیا،’’ اگر مرگئے تو معراجِ زندگی اور اگر زندہ رہے تو کام کریں گے، ہم کسی طرح بھی خسارے میں نہیں۔ ہاں خسارے کی صرف ایک صورت ہے کہ نہ مریں اور نہ کام کریں‘‘۔

(ڈاکٹر شاہ محمد مری کی عشاق کے قافلے سیریز میں یوسف عزیز مگسی و معاصرین پہ لکھی گئی کتاب سے منتخب شدہ)

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *