قدیم عبادت گاہ (7)۔۔وہاراامباکر

SHOPPING

گوبیکلی ٹیپے کی تعمیر تقریباً بارہ ہزار سال پہلے ہوئی۔ یہ عظیم اہرام کی تعمیر سے سات ہزار سال پرانا ہے۔ اور اس کو نیولیتھک آبادکاروں نے نہیں، خانہ بدوشوں نے بنایا ہے۔ اور اس سٹرکچر کی سب سے حیران کن بات وہ مقصد ہے جس کے لئے اسے بنایا گیا۔ یہودی بائبل سے بھی تقریباً دس ہزار سال قبل ملنے والا قدیم ترین انسانی سٹرکچر ایک عبادت گاہ تھی۔

گوبیکلی ٹیپے میں پینسٹھ فٹ تک کے قطر کے دائرے ہیں۔ ہر دائرے کے درمیان میں T کی شکل کا ستون ہے۔ سب سے اونچا ستون اٹھارہ فٹ اونچا ہے۔ اس کی تعمیر کے لئے بہت بھاری پتھر لائے گئے ہیں۔ بھاری ترین کا وزن سولہ ٹن ہے۔ اور یہ اس وقت کی تعمیر ہے جب دھات کے اوزار بھی نہیں تھے۔ پہیہ نہیں تھا اور جانور سدھائے نہیں گئے تھے۔ یہ جب بنایا گیا، اس وقت شہر نہیں تھے جہاں پر لیبر کو منظم کیا جائے۔ نیشنل جیوگرافک نے اس پر تبصرہ کیا ہے، “یہ دریافت کہ گوبیکلی ٹیپے کی عمارت قدیم طرزِ زندگی والوں نے بنائی، ویسا ہے جیسے کسی نے اپنے تہہ خانے میں جمبو جیٹ بنایا ہو”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے سائنسدان جنہوں نے یہ دریافت کیا، 1960 کی دہائی میں استنبول یونیورسٹی اور شکاگو یونیورسٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں مٹی میں کچھ سلیں نظر آئی تھیں۔ پہلے انہوں نے اسے بازنطینی دور کا قبرستان سمجھا۔ اینتھروپولوجی کی کمیونیٹی میں اسے کوئی خاص اہمیت نہیں ملی۔ پھر 1994 میں ایک مقامی کسان کو ہل چلاتے وقت ایک دفن شدہ بھاری ستون نظر آیا۔ اس پر ایک آرکیولوجسٹ کلاس شمٹ نے کھوج لگانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا اسے دیکھنے پر یہ ری ایکشن تھا، “اس کو دیکھنے کے ایک منٹ کے اندر ہی مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ میں نے اب انتخاب کرنا ہے۔ میرے پاس دو چوائس ہیں۔ واپس چلا جاوٗں اور کسی کو نہ بتاوٗں یا پھر اپنی باقی تمام عمر اسی جگہ پر کام کرتے گزار دوں”۔ انہوں نے دوسرا انتخاب کیا۔ 2014 میں اپنی وفات تک وہ یہیں کام کرتے رہے۔

گوبیکلی ٹیپے لکھائی کی ایجاد سے پہلے کا ہے۔ اس میں کوئی ایسے الفاظ نہیں لکھے گئے جس سے یہاں کی رسومات کے بارے میں کوئی انفارمیشن ملے۔ لیکن یہاں پر تصاویر ہیں۔ اور یہ غاروں کی تصاویر جیسی نہیں جو ہمیں ہزاروں سالوں سے ملتی رہی ہیں۔ یہ ان جانوروں کی تصاویر نہیں جنہیں یہ لوگ شکار کرتے تھے۔ نہ ہی یہ روزمرہ کے معمولات کی تصاویر ہیں۔ یہ انسانی تخیل کی تصاویر ہیں۔ اس میں سانپ، شیر، بچھو بھی ہیں اور دو ٹانگوں پر کھڑے ہونے والا گیدڑ بھی۔

جن لوگوں نے یہ بنایا ہے، بہت محنت، لگن اور جذبے سے کیا ہے۔ کیونکہ یہ جس جگہ پر ہے، اس کے قریب اور کچھ نہیں۔ ایسے کسی طرح کے شواہد نہیں ملے جو بتاتے ہوں کہ کسی نے بھی کبھی اس علاقے میں رہائش اختیار کی ہو۔ نہ پانی کے سورس، نہ گھر، نہ آتشدان۔ جو ملا ہے، وہ ہرنوں اور بھینسوں کی ہزاروں ہڈیاں جو یہاں آنے والے شکار کر کے ساتھ لاتے ہوں گے۔ یہاں پر یاترا کرنے والے خانہ بدوش ساٹھ میل تک کا سفر بھی کر کے آیا کرتے تھے۔

“گوبیکلی ٹیپے بتاتا ہے کہ سوشیوکلچرل تبدیلیاں پہلے آئیں، زراعت اور آبادی بعد میں۔” یہ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے آرکیولوجسٹ آئن ہوڈر کا کہنا ہے۔ گروہ بنانا، اکٹھے ہونے کے مقامات اور رسومات پہلے آئے۔ اور یہ وہ مدار تھے جن کے گرداب میں گاوٗں بسے۔ وہ بستیاں جہاں سب کو اکٹھا کرنے کا محور معنی ہائے زندگی کے مشترکہ نظام تھے۔ گوبیلکی ٹیپے اتنا پرانا ہے کہ یہ وہ وقت تھا جب انسانی جینس کی نوع ہومو فلروسینسس معدوم ہوئی تھی۔ ابھی کچلی دار شیروں کا وقت تھا۔ اور یہ عمارت اس چیز کا ثبوت ہے کہ انسان نے محض عملی زندگی اور صرف بقا کے چکروں سے ہٹ کر سوال سوچنا شروع کر دئے تھے۔ یعنی اس دنیا اور اس میں اپنی جگہ کے بارے میں سوال۔ “مشترک اقدار، انفرادیت اور خودغرضی کا زوال، اجتماعیت کا آغاز اور اخلاقی نظام ۔۔ یہ پیچیدہ نیولیتھک معاشروں کا انقلاب تھا”۔ ہوڈر کا اس پر یہ تبصرہ ہے۔

جانور خوراک حاصل کرنے کے لئے کئی طرح کے پرابلم حل کرتے ہیں، کئی جانور سادہ اوزار بھی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایک ایکٹیویٹی جس کا کبھی بھی مشاہدہ انسان کے سوا کسی بھی مخلوق میں ابتدائی صورت میں بھی نہیں کیا گیا، وہ اپنے وجود کو جاننے کی جستجو ہے۔ جب پیلیولیتھک کے آخر اور نیولیتھک کے شروع کے لوگوں نے محض زندہ رہنے سے زیادہ کی تلاش کی اور “غیرضروری سچ” جو اپنے اور اس دنیا کے بارے میں تھے، ڈھونڈنا شروع کئے تو یہ انسانی فکر کا سب سے معنی خیز قدم تھا۔ (غیرضروری اس لئے کہ زندہ تو ان کے بغیر بھی رہا جا سکتا ہے)۔ اور اس لحاظ سے گوبیلکی ٹیپے صرف مذہب کی ہی نہیں، سائنس کی تاریخ کا بھی بہت بڑا سنگِ میل ہے۔ یہ ہمارے وجودی شعور کی جست کی علامت ہے۔ “یہ دنیا کیا ہے؟ میں کون ہوں؟” یہ انسانی فکر کے ہزاروں سال پہلے کئے گئے سوال تھے۔

اپنی ذات سے ہٹ کر اور زندہ رہنے کی جدوجہد سے بالا ہو کر کئے جانے والے غیرضروری سوالات جنہوں نے ہمیں اکٹھا کیا ہے۔ بستیاں بسائی ہیں، تمام تخریبی اور تعمیری انسانی کاوشوں کی بنیاد ہیں۔ بارہ ہزار قبلِ مسیح میں اس عمارت کو بنانے والے انسان آرام و آسائش کی، فراغت کی، اچھی اور متنوع خوراک کی زندگی کو ترک کرنے کا انتخاب کر رہے تھے۔ یہ فکر کا انتخاب تھا۔ یہ سٹرکچر ہمیں بتاتا ہے کہ غیرضروری سوالات نے ٹنوں بھاری پتھر اٹھا کر کی جانے والی تعمیر جیسے غیرضروری کاموں کو جنم دیا۔ اور دوسرے غیرضروری کاموں کو، جن میں سائنس، فلسفہ، آرٹ، لٹریچر جیسی بظاہر بے مقصد لگنے والی کاوشیں ہیں۔

بظاہر بے مقصد لگنے والی حیران کن اور شاندار گوبیکلی ٹیپے فکر کے اس انتخاب کی علامت ہے۔ وہ جس نے آج کی معاشرت ممکن بنائی۔ حراری کے مطابق، “یہ وہ دہلیز تھی جس کو پار کر لینے کے بعد واپسی کا راستہ بند ہو گیا”۔

SHOPPING

(جاری ہے)

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *