وطن عزیز کے غانم المفتاح توجہ کے منتظر ہیں/ثاقب لقمان قریشی

قطر میں دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے ایونٹ فٹ بال ورلڈ کپ کا افتتاح ہوا۔ افتتاحی تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اسکا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ تلاوت کسی نارمل قاری نے نہیں بلکہ ایک معذور نوجوان غانم المفتاح سے کروائی گئی۔ قطر کو ایل-جی-بی-ٹی افراد کے حقوق کو تسلیم کرنے کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے۔
غانم سے تقریب کا افتتاح کروایا گیا۔ پھر قرآنی آیات کے ذریعے دنیا کو امن، سلامتی اور مساوات کا پیغام دینے کا مقصد اپنی ترجیحات کو واضح کرنا تھا۔
غانم کی پیدائش 2002ء میں ہوئی۔ جڑواں بھائی بھی ہے جنکا نام احمد المفتاح ہے۔ جو بالکل نارمل ہے۔ غانم ریڑھ کی ہڈی کے موذی مرض کا شکار ہیں۔ ڈاکٹرز کا خیال تھا کہ یہ پندرہ سال سے ذیادہ نہیں جی سکیں گے۔
ابتدا میں غانم کو سکول والے داخہ دینے کو تیار نہ تھے۔ بچے ان سے ڈرتے تھے۔ انکے ساتھ کھیلنا پسند نہیں کرتے تھے۔ غانم بچپن سے خوش مزاج ہیں۔ فٹ بال سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں۔ بچپن میں ہاتھوں میں جوتے پہن کر عام بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے۔
غانم نے معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیا۔ عام انسان کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ غانم قطر کے کم عمر ترین کاروباری شخصیت ہیں۔غانم غریسہ آئس کریم نامی کمپنی چلا رہے ہیں۔ جسکی قطر میں چھ برانچز ہیں اور اس میں ساٹھ ملازمین کام کر رہے ہیں۔ غانم پورے خلیج میں اپنی آئس کریم کا کاروبار پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔غانم نے اپنے خاندان کی مدد سے الغانم فاؤنڈیشن کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بھی قائم کیا ہے۔ جو دنیا بھر کے معذور افراد کو مفت ویل چیئر فراہم کرتا ہے۔ غانم کھیلوں کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ تیراکی کے دو سو میٹر کے مقابلے میں حصہ لے چکے ہیں۔ فٹ بال کے کھیل سے بچپن سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں۔ پیرا اولمپین بننا چاہتے ہیں۔ غانم ہاتھوں کے بل خلیج کی بلند ترین پہاڑی چوٹی جبل الشمس کو سر کرچکے ہیں اور مستقبل میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ 2017ء میں غانم ہاتھوں کے بل عمرے کی سعادت بھی حاصل کرچکے ہیں۔ سیاست میں ڈگری کر رہے ہیں اور مستقبل میں قطر کا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
غانم کی ہمت اور صلاحیت کو داد دینی چاہیئے۔ وطن عزیز کے معذور افراد بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ میں ایسے بہت سے معذور افراد کے انٹرویوز کر چکا ہوں جنھوں نے وسائل کی کمی کے باوجود تعلیم مکمل کی اور اب ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔
جس زمانے میں اکلوتا پی-ٹی-وی ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور سینٹرز کے الگ الگ ڈرامے ہوا کرتے تھے۔ جن کی مدد سے چاروں صوبوں کی ثقافت اور مسائل سے آگہی ملتی تھی۔ بچوں کیلئے الگ پروگرام ہوا کرتے تھے۔ مارننگ شوز قراتہ لعین صاحبہ اور تارڑ صاحب جیسے لوگ کیا کرتے تھے۔ جو بچوں اور بڑوں کی بھر پور رہنمائی کیا کرتے تھے۔ گیم شوز نیلام گھر جیسے ہوا کرتے تھے۔ سب سے بڑھ اکیلے پی-ٹی-وی پر معذور افراد کو بھی نمائندگی دی جاتی تھی۔
آج مارننگ شوز کی میزبانی اداکار اور اداکارائیں کرتی ہیں۔ ٹاک شوز صحافیوں کے بجائے اینکرز کرتے ہیں۔ گیم شوز میں سوال جواب کے بجائے طوفان بدتمیزی کی جاتی ہے۔ خبروں میں مسائل کی نشاندہی کے بجائے بات کا بتنگڑ بنایا جاتا ہے۔ ریٹنگ کیلئے پراپیگنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے۔
چینلز میں معذور افراد کی نمائندگی کیلئے میں نے 2017ء میں اے-آر-وائی کو خط لکھا جس کے بعد گیم شوز میں معذور افراد نظر آنے لگے۔ اسی سال میں نے ہم ٹی-وی کو بھی خط لکھا۔ جس کا نتیجہ ہم ٹی-وی کے نئے چینل پر منیبہ مزاری کے شو کی صورت میں نکلا۔ میں نے اس وقت کے چیئرمین پی-سی-بی نجم سیٹھی کو معذور افراد کو مفت ٹکٹ فراہم کرنے کی درخواست بھی کی جو منظور نہیں ہوئی۔
سماعت سے محروم افراد ملک کی آبادی کا پانچ فیصد ہیں۔ جن کے پاس نہ تو ملک گیر سائن لینگویج ہے اور نہ ہی میڈیا پر نمائندگی۔ کچھ عرصہ قبل مجھے سابقہ ڈی-جی سپیشل ایجوکیشن کا انٹرویو کرنے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ سپیشل ایجوکیشن کے ستر فیصد اساتذہ کو بھی سائن لینگویج نہیں آتی۔ سماعت سے محروم افراد چند مخصوص ڈگریاں کرسکتے ہیں۔ مجھے اس خاموش دنیا کو دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں نے ان کی آواز بننے کی کوشش تو کی لیکن سائن لینگویج نہ آنے کی وجہ سے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کرسکا۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں رہنے والا ہر رنگ، نسل، فرقے اور مذہب کا شخص اس ملک کا شہری ہے۔ اسے اپنی مرضی کے مطابق جینے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیئے۔ ملک کے ہر شہری کیلئے انصاف اور آگے بڑھنے کے لیئے یکساں مواقعوں کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
معذور افراد ملک کی آبادی کا بیس فیصد حصہ ہیں۔ جنھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ قطر نے کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹ کا افتتاح معذور بچے سے کروا کر دنیا کو انسانیت کا درس دیا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہماری حکومت بھی معذور افراد کی نمائندگی کے لیئے جلد کوئی بڑا اقدام اٹھائے گی۔ سائن لینگویج کو ہر شخص کیلئے لازمی قرار دے کر ابلاغ کے ایک اور ذریعے میں اضافے کے ساتھ سماعت سے محروم افراد کا عوام کے ساتھ ٹوٹا رابطہ بحال کروائے گی۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply