• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • خیبر پختونخوا میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ،یہ کام پورے ملک میں ہونا چاہیے

خیبر پختونخوا میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ،یہ کام پورے ملک میں ہونا چاہیے

SHOPPING
SHOPPING

طاہر یاسین طاہر
کسی بھی ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرے اور شہریوں کی ضروریات کا خیال رکھے۔ریاستیں اپنی یہ ذمہ داریاں اپنےاداروں کے ذریعے پوری کرتی ہیں۔حکومت اور ریاست کے تعلق پہ دفتر بھرے پڑے ہیں،لیکن یہ امر واقعی ہے کہ حکومتیں اگر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں تو لوگوں کو نہ دھرنے دینے پڑیں نہ ہی احتجاج کی کوئی اور شکل سامنے آئے۔ پاکستان کو اس وقت جن بڑے بڑے مسائل کا سامنا ہے ان مسائل کے اگر محرکات کا جائزہ لیا جائے تو تعلیم اور صحت پہ حکومتوں کی عدم توجہی ہے۔یہ امر واقعی ہے کہ ہمارے ہاں صحت اور تعلیم پہ سب سے کم بجٹ خرچ کیا جاتا ہے۔ملک میں دو جماعتی نظام کی اپنی اپنی ترجیحات رہیں،فوجی حکومتوں نے بھی تعلیم اور صحت کے مسائل کو پہلی ترجیح میں نہ رکھا۔پاکستان تحریک انصاف نے البتہ ،کہ جس صوبے میں اس جماعت کی حکومت ہے یعنی کے پی کے،وہاں تعلیم اور صحت میں اصلاحات لانے کے عملی اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔
’’تازہ ترین یہ ہے کہ صوبے کے کم عمر بچوں میں صحت کی ابتر صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔اس حوالے سے محکمہ صحت کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق صوبائی وزیر اعلیٰ نے کم عمر بچوں میں بڑھتی ہوئی غذائی قلت کی سنگینی کے پیش نظر صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا فوری طور پر اطلاق ہوگا۔یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 24 لاکھ بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔چنانچہ صوبائی حکومت نے صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے،اور خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں غذائی کمی کے شکار بچوں کے لیے سٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کئے جائیں گے، جبکہ قوت اور توانائی سے بھرپور فوڈ سپلیمنٹ درآمد کی جائیں گی۔یہ امر بھی درست ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے آسٹریلوی حکومت کے تعاون سے اس حوالے سے ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا منصوبہ بھی ترتیب دیا ہے، جسے منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صوبے بھر میں 500 سے زائد سٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔دوسری جانب عالمی ادرہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ’نیشنل نیوٹریشنل سروے‘ کے مطابق خیبر پختونخوا میں غذائی کمی کی وجہ سے 5 سال سے کم عمر بچوں میں 17.3 فیصد بچے سوکھے پن کا شکار ہیں۔سروے کے نتائج میں کہا گیا کہ سوکھے پن کا تناسب 15 فیصد سے زائد ہونا انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، جبکہ صوبے میں47.8 فیصد بچے پست قامت اور ذہنی کمزوری کا شکار ہیں۔ ‘‘
بے شک اعداد و شمار افسوس ناک ہیں۔ یہ صرف کے پی کے کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ہمیں یاد ہے کہ تھر میں بچے،جانور اور پرندے تک غذائی قلت اور پانی کی کمی کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اسی طرح صوبہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب و شمالی پنجاب میں بھی صحت کی صورتحال قابل رشک نہیں۔ پنجاب میں تو یہ حادثہ بھی ہو چکا ہے کہ لاہور کے نامور سر کاری ہسپتال میں دل کے مریضوں کو جو انجکشن لگائے گئے وہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔ڈینگی،کانگو اور طرح طرح کے وائرس کا پھیلاو اس کے سوا ہے۔ یہ ساری باتیں اس امر کا اشارہ ہیں کہ حکومتوں کی ترجیح تعلیم یافتہ اور صحت مند معاشرہ نہیں ہے۔ یہ بھی ایک شرمناک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں حکمران طبقہ کوئی ایک بھی ایسا سرکاری ہسپتال نہیں بنا سکا جسے عالمی معیار کا تسلیم کیا جائے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر کوئی عالمی سطح کا سرکاری ہسپتال ہو تو حکمران طبقہ اپنے معمول کے چیک اپ تک کے لیے بیرون ملک نہ جائے۔یہاں سرکاری ہسپتالوں میں مریض دھکے کھا رہے ہوتے ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ،کے پی کے حکومت کا اقدام قابل ستائش ہے۔یہ امر بھی واقعی ہے کہ مذکورہ صوبے میں پولیو کے کیسز بھی سامنے آ چکے ہیں،وہاں والدین اپنی بعض قبائلی و عائلی روایات کے باعث بچوں کو پولیو ویکسین نہیں کراتے اگرچہ ایسے چند ایک ہی ہیں۔ حکومتوں کو عالمی اداروں اور دیگر ممالک کے تعاون سے صحت و تعلیم کے حوالے سے شروع کیے گئے پروگرامز کے بارے میں لوگوں کے اندرشعور بیدار کرنے کے لیے بھی زور آور مہم چلانا چاہیے۔کے پی کے ،کی حکومت کا اقدام نہ صرف درست ہے بلکہ لائق تقلید بھی ہے۔اسے انا یا سیاسی کشمکش سے ہٹ کر دیکھا جائے اور پورے ملک میں صحت و تعلیم کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر درست اقدامات اٹھائیں جائیں۔ایک تعلیم یافتہ ،با شعور اور صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی منازل کو تیزی سے طے کر سکتا ہے۔

SHOPPING

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *