بنگالی بابے، حکیم اور حکمران

من پسند شادی، شریکے کی بربادی،ظالم ساس سے چھٹکارا – گھر بنے خوشیوں کا گہوارہ،یورپ کا ویزہ ہو یا کم عمر دوشیزہ، مالی پریشانی ہو یا ڈھلتی جوانی،نافرمان اولاد ہو یا خاوند جلاد، دشمن کوزیرکرنا ہو یا سیر کو سوا سیر۔امتحان میں ناکامی یا کفیل کی غلامی،سنگدل محبوب آپ کے قدموں میں، محبوب آپ کو پانے کو تڑپے،سوتن کا جھگڑا اولاد کا مسئلہ، شوہر کا غیرعورتوں میں دلچسپی لینا، رشتوں کی بندش،میاں بیوی میں نااتفاقی، بے وفا کی بے وفائی،کاروبار میں رکاوٹ، کالےعلم کا واپس دشمن پر بھیجنا، میرا علم چلے سات سمندر دور کرنٹ کی چال، دشمنوں کا کر دوں برا حال، پُر اثرارعلوم کے ماہر، دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے بابا جی ساتوں براعظموں کا سفر کرتے ہیں، ایڈوانس بکنگ کے بغیر آنے والوں سے ایڈوانس معذرت، کالے و سفلی علم کی کاٹ کے ماہر، اپنی آنکھوں سے مو کل کی چالیں دیکھیں۔ علم چلتا ہے اگر کوئی چلانے والا ہو تو۔ آپ کے مسائل کا روحانی، نفسیاتی اور سائنسی حل، عوام کے بے حد اصرار پر، عامل بنگالی بابا صرف مہینے کی 7 اور9 تاریخ کو آپ کے شہر میں موجود ہوں گے- آپ کی ہر خواہش ہو پوری، بس ایک کال کی دوری۔ ابھی کال کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ذرا تھوڑا آگے چلیے-
پبلک بس میں، بسوں کے اڈے میں یا کہیں بھی، جہاں عوام جمع ہو سکیں، مجمع لگا ہوا ہے، حکیم صاحب کوئی دوائی بیچ رہے ہیں،ڈینگی، پولیو، ٹی-بی، موتیا،گنٹھیا، بہرہ پن، برص، سرعتِ انزال، لیکوریا، آتشک، سوزاک، غرض بلڈ پریشر سے لے کر شوگر تک اور دردِ سر سے لے کر کینسر جیسے موذی مرض تک بشمول زنانہ و مردانہ پوشیدہ امراض (پاکستان کی ہر جگہ اور دیوار پر آپ بھی پڑھ پڑھ کر جان گئے ہوں گے)، ہر بیماری کا علاج حکیم صاحب سڑک پر لیے کھڑےہیں اور پکار رہے ہیں کہ۔۔۔۔
اب جس کے جی میں آئے وہ پائے روشنی-
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا-
تو آپ کا کیا خیال ہے کہ اس بنگالی بابے اور حکیم صاحب کو لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں؟ اگرآپ کا جواب ہاں ہے تو آپ غلطی پر ہیں، اللہ نے ہر آدمی کے حصے کے بیوقوف پیدا کر رکھے ہیں۔ لوگ ایسے بنگالی بابوں کے پاس جاتے ہیں، اور حکیم صاحب کی دوائی بھی بکتی ہے، وہ دوائی جو کھانے، لگانے، مالش کرنے، گھول کر پینےیا جسم کے کسی حصے پر باندھنے کے بعد، اس کے اثرات، بالترتیب موت، عالمِ نزاع، سکرات، بے ہوشی یا پاگل پن، پر ایک عدد علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے لیکن صدقے جائیے اس قوم کے، جو ایسے حادثوں پر ایک صبرِ عظیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ” بَس جی۔۔۔۔۔بندے دا کیہ وَس اے”۔آگے چلیے، یہ اس ملک کے کرتا دھرتا ہیں، یہ بھی کچھ بیچ رہے ہیں، یہ اس قوم کو خواب اور نعرے بیچتے ہیں۔ ان سے پہلوں نے بھی اس قوم کو نعرے اور خواب بیچے، کسی نے ان کو گھاس کھلائی، اورایٹم بم بنایا (اب پتہ نہیں وہ ایٹم بم اس قوم کی حفاظت کر رہا ہے یا قوم ایٹم بم کی)، تو کسی نے ان کو اسلام بیچا، اور اصلی مومن بنایا، قوم اس قدر مومن بنی کہ اب کوئی بھی مومن ان کی آنکھوں میں نہیں جچتا۔
اس وقت دنیا کے حالات دیکھتے ہوئے ہم عالمی طورپر ترقی یافتہ قوموں سے سینکڑوں سال پیچھے ہیں۔ یہ پسماندگی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں، بلکہ “جیہڑا بھنو اوہی لال”والا معاملہ ہے۔ تعلیمی اداروں سے لے کر عدالتوں تک، پولیس، ہسپتال، کو تو چھوڑدیں، یہاں تو مریض کے لیے دوائی تک دو نمبر ملے گی، خوشحالی کا عالم یہ ہے کہ آج سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ پنجاب کے کئی دیہات میں لوگ صرف ایک گردے پر زندہ ہیں۔ چلو، دوائی تو وہی لے گا جس کے پاس پیسے ہوں گے، پانی تک صاف میسر نہیں، جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ زندہ رہنے والوں کا زندہ رہنا تو مشکل تھا اب تو مُردوں کا قبر میں لیٹے رہنا بھی کمال ہے، کہ کوئی قبرستان کی جگہ پر رہائشی کالونی نہ منظور کروا لے اور مُردوں کے اوپر سے بلڈوزر چل پڑے۔ سرکاری دفتروں میں کام کرنے کے لیے رشوت اور کام نہ کرنے کے پیسے۔ اوپر سے آج کل جو”باکمال لوگ” کر رہے ہیں، بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ہر ملک کے ٹی-وی چینل پر دیکھ لیں۔
اوج پر ہے کمالِ بے ہنری،
باکمالوں میں ِگھر گیا ہوں میں!
بنگالی بابوں اور حکیم صاحب کی کامیابی کے بعد اب قوم کے سب دکھوں، تکلیفوں، بیماریوں اور ہمہ جہتی زوال کا تیر بہدف علاج سڑکوں اور پلوں کے ذریعے کرنے کی خوشخبری آئی ہے۔ قوم کے رہبروں سے جب کوئی سوال پوچھتا ہے کہ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے کے دو کروڑبچے سکول نہیں جاتے تو رہبر بتاتے ہیں کہ سڑکیں ہوں گی تو بچے سکول جائیں گے۔ سڑکیں ہوں گی تو عدالتوں سے عام آدمی کو انصاف ملے گا۔ صاف پانی بھی سڑکوں سے ملے گا۔ معاشرے میں بڑھتا ہوا عدم تشدد بھی سڑکیں نہ ہونے کا باعث ہے، ادویات کا نہ ملنا بھی اور چوری چکاری و ڈاکہ زنی بھی، صحتمند اور ملاوٹ سے پاک غذا نہ ملنا بھی سڑکیں نہ ہونے کی ہی وجہ سے ہے۔ حکمرانوں نے”علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے” کو”سڑک بناؤ چاہے چین سے قرضہ لینا پڑے”عملی طورپر سچ کر دکھایا ہے۔ ُان کی نظر اور قوم کا بجٹ، ہر چیز سڑک پر ہے۔ جب تھوڑی سی نظر سڑک سے اوپر اٹھتی ہے تو پھر پُل پر پڑتی ہے، یا پھرقوم کو رنگ برنگی ٹرینوں سے رجھاتے ہیں، جیسے بچوں کو رنگ برنگی قلفیاں دے کر بات منوائی جاتی ہے۔
جس طرح بنگالی بابا ہرمسئلے کا حل ایک کال پر، اور سڑک پر کھڑا حکیم ہر بیماری کا علاج ایک ہی دوا سے کرتے ہیں، اسی طرح پاکستان کےاندرونی، بیرونی اور عالمی مسائل کا حل ہم سڑک سے کریں گے۔ ایک نورتن نے تو سی- پیک کو مسئلہ کشمیر کا حل بتایا ہے۔ سن لو، تارکول اور پاکستان کے مسائل کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے،ہمالیہ سے اونچا، سمندر سے گہرا اور شہد سے میٹھا۔ جیسے جیسے سڑک عوام کے گھروں تک پہنچے گی، انصاف اور علم بھی پہنچے گا۔ تارکول کے ذریعے ہی اس ملک کے ادارے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اب آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ کیوں سڑکیں ضروری ہیں۔مزید ہمارے سب سے مدبر لیڈراپنے ہر جلسے میں فرماتے ہیں کہ سڑکیں بننی چا ہییں کیونکہ سڑکوں سے دل ملتے ہیں اور آپ سب کو تو پتا ہی ہے کہ جب دل سے مل گیا دل، تو جسٹ چِل چِل جسٹ چِل۔

محمد سعید اختر
محمد سعید اختر
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر - سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *