معاشرے میں بڑھتا جنسی و گھریلو تشدد۔۔کشف چوہدری

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے محکمہ انصاف کے مطابق گھریلو تشدد سے مراد کسی بھی رشتے سے نارواسلوک ہے ،جس میں ایک ساتھی دوسرے  ساتھی پر قابو پانے کی کوشش کرے یا اس سے اس کی آزادی چھیننے کی کوشش کرے۔گھریلو تشدد کی تعریف میں متعدد قسم کی زیادتوں کو شامل کیا گیا ہے۔ جس میں جسمانی زیادتی، مارنا پیٹنا،اپنے ساتھی کو طبی علاج سے روکنااورکسی منشیات کے استعمال پر مجبورکرنا  شامل ہے۔جذباتی زیادتی میں مستقل تنقید کے ذریعے کسی شخص کے احساسات کو مجروح کرنا، کسی کی صلاحتیوں کو کم کرنا، الٹے نام پکارنااور ہر وقت   دوسرے کی تذلیل کرتے رہناشامل ہیں۔نفسیاتی بدسلوکی میں اپنے ساتھی کو خوف میں مبتلا رکھنااور جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہنا شامل ہے۔اسٹالکینگ ((stalkingمیں ایسا طرز عمل اختیار کرنا جس میں کسی دوسرے کو ہراساں کرنا،باربار کالز کرنا، غیر پسندیدہ   پیغامات بھیجنااور کسی کا پیچھا کرنا شامل ہے۔

گھریلوتشدد صحت عامہ کا ایک عالمی مسئلہ ہے۔ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں ہر سال 20لاکھ سے زائد خواتین گھریلو تشدد سے متاثر ہوتی ہیں  اور عالمی سطح پر ہر سال58%میں سے 50%خواتین اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں ہلاک ہوتی ہیں۔

tripako tours pakistan

مطلب یہ کہ انہیں اپنے خاندان کے  افراد  ہی ہلاک کرتے ہیں، کسی گھریلوناچاقی کی بناپر۔عالمی سطح پر کی جانے والی انسانی سمگلنگ میں خواتین کا نصف حصہ ہے یعنی کہ49%۔ہر پانچ میں سے تین لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے اسمگل کیا جاتا ہے، جو کہ ان کے حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔عالمی سطح پر تین میں سے ایک طالب علم حراسمنٹ کا شکار بنتا ہے۔جب کہ جنسی حراسگی میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کا تناسب زیادہ ہے۔سکول لیول پر سٹالکنگ یا حراسگی چاہے وہ کسی کی طرف سے بھی ہو لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔2015میں ریاست ہائے متحدہ کی 27یونیورسٹیوں میں ہونے والے سروے کے مطابق 23%انڈرگریجویٹ طلبا ء نے اپنے تعلیمی کیئریر کے دوران جنسی حراسمنٹ کا سامنا کیا ہے۔یورپی یونین کی ہردس میں سے ایک خاتون نے اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں سائبر حراسمنٹ کا سامنا کیا ہے۔سائبر حراسمنٹ سے مراد سوشل میڈیا پر حراسا کرنا،بار بار کالز اور غیر پسندیدہ میسجز بھیجناشامل ہے۔2017میں کیے جانے والے ایک عالمی اندازے کے مطابق 87000خواتین میں سے نصف سے زیادہ گھریلو ناچاقی کی بنا پر مار دی جاتی ہیں۔مطلب یہ کہ پوری دنیا میں 137خواتین کو اپنے گھر کے ممبر ہی قتل کرتے ہیں۔عالمی سطح پر کی جانے والی انسانی اسمگلنگ میں نصف حصہ بالغ خواتین کا ہے ہر چار میں سے تین لڑکیاں انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوتی ہیں اور انہیں جنسی استحصال کے لیے اسمگل کیا جاتاہے۔عالمی سطح پر ہر تین میں سے ایک طالب علم اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں حراسمنٹ کا شکار ضرور ہوتا ہے۔

لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو حراسمنٹ کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے مثال کے طور پہ انہیں برے القابات سے پکارا جا تا ہے ان کو نفسیاتی طور پر تنگ کیا جاتا ہے یا مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے یہ سب چیزیں بولنگ (bulling)میں آجاتی ہیں۔یہ سب غیر مناسبانہ رویے لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے توخواتین کے خلاف تشدد روزبروز بڑھ رہا ہے اسکا پھیلاؤ دیہی اور شہری علاقوں میں یکسر ہے۔پاکستانی خواتین زیادہ تر اپنے تشددپسندانہ شوہر اور کنبے کے احترام میں اورطلاق کے ڈرسے ایسے ناخوشگوار رشتے میں بندھی رہتی ہیں۔2012میں کی جانے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دیہی علاقوں کی31%خواتین کو جبکہ شہری علاقوں میں 57%جسمانی تشدد کا رحجان پایا گیا ہے جو کہ ایک خطرناک شرح ہے۔2012سے2013 میں پاکستان میں کیے جانے والے ڈیموگرافک اینڈہیلتھ سروے کے مطابق 39%خواتین کو جسمانی استحصال اور جذباتی تشدد کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔52%خواتین نے گھریلو تشدد کولے کر اپنے شوہر کے بارے میں کبھی کسی سے شکایت نہیں کی۔2013میں کی جانے والی گھریلو سروے کی رپورٹ کے مطابق80%خواتین نفسیاتی تشدد کا شکار ہیں،75%خواتین کو جسمانی تشدد کا سامنا ہے جبکہ 47% خواتین دوران حمل جسمانی تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق 2004میں گھریلو تشدد کی شرح 65.6%تھی اورصرف30.4%کیسز ایسے تھے جن کے خلاف رپورٹ کیا گیاتھا۔

1999میں کی گئی اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں 50%شادی شدہ خواتین جسمانی تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے،90%جذباتی دباؤ اور گھٹن کا شکار ہیں انہیں شخصی آزادی نہیں حاصل،اسی طرح 72%خواتین شوہروں کی بدسلوکی کے باعث اضطراب اور ذہنی دباؤکا شکار تھی۔پاکستان نیشنل ویمن ڈویژن(پی این ڈبلیو ڈی) نے 1999میں گھریلو جھگڑے کے باعث گھر سے نکال دی جانے والی خواتین پر ایک تحقیق کی جس کا تخمیہ 80%تھا جو کہ خطرناک شرح ہے۔خواتین کے خلاف گھریلو تشدد متعدد اسباب سے وابستہ ہے پاکستان میں پدرسری نظام رائج ہے،مرد انہ تسلط کو ثقافت اور زندگی کے تمام معاملات میں اختیار حاصل ہے، بشمول کنبہ،معاشرتی، ثقافتی قانون اور سیاست۔گھریلو تشدد کے کچھ بہت ہی عام عوامل میں کنبہ سے متعلق مسائل،فیصلے کے اختلافات،خواتین کے حقوق کے غلط عقائد، عورت کو کم حیثیت دینا، 18سال سے کم عمری کی شادی اور سب سے اہم تعلیم و تربیت کا فقدان ایسے بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے۔چند قابل ذکر عوامل جس کی وجہ سے ایک عورت گھریلو مسائل کا شکارہوتی ہے ان میں سب اہم اسلامی افکار کی غلط ترجمانی ہے، عورت کی فطری آزادی کو نظرانداز کرنا، مردوں کی فطری برتری کے بارے معاشرے میں موجود غلط عقائدوغیرہ شامل ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

بالآخر عورت پر تشدد کے نتائج زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثرکرتے ہیں جیسے کہ بچوں کی سوچ پر گھریلو تشدد کابہت گہرا اثر مرتب ہوتا ہے ایسے بچے اضطراب اور ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ہمارے پاس زندگی گزارنے کے لیے قرآن اور سنت موجود ہے اوراسلام ایک مکمل ظابطا حیات ہے، مسلم معاشروں کے زندگی گزارنے کا ترجیحی طریقہ اسلامی اقدار پر مشتمل ہونا چاہیے۔اسلام عورت کو چاہے وہ جس رشتے میں بھی ہو ماں،بہن،بیوی یا  بیٹی ہر حیثیت سے عزت اور وقار فراہم کرتا ہے اور  معاشرے میں  رائج بے جا  رسومات  سے حفاظت فراہم کرتا ہے۔جب اسلامی ہدایات اور خواتین کے وقار کونظرانداز کیاجائے گاتو معاشرے میں خلل اور گھریلو تشد د کے واقعات جنم لیں گے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply