انسانیت

ہم معاشرے کو اعلی اخلاقی بنیادوں پہ استوار دیکھنا چاہتے ہیں مگر کیسے ؟ جب بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے معاشرے میں یہ ناسور ہے ،وہ ناسور ہے وغیرہ وغیرہ ! اور جب پوچھا جائے، کہ کرتا کون ہے، تو جواب آتا ہے، لوگ یہ کرتے ہیں لوگ وہ کرتے ہیں، جب پوچھا جائے آپ کیا کرتے ہیں تو دودھ نہائے ہوئے پوتر قسم کی شخصیت دیکھنے کو ملتی ہے، بے اختیار دل کرتا ہے کہ اس کی دست بوسی کی جائے، اور پہلی فرصت میں ہی اسے اپنا مصلح بنا لیا جائے۔ مگر یہاں پھر ایک سوال آتا ہے کہ جب ہر شخص ہی پوتر بنا پھرتا ہے تو یہ معاشرتی بگاڑ کیوں ہے؟ اس کے ساتھ یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ انسانیت جو انتہائی پست اخلاقی قدروں میں زندگی گزار رہی ہے وہ کسی آسمانی مخلوق کی وجہ سے ہے شاید!!
جب بات اصلاح کی آتی ہے اور ہمیں کہا جاتا ہے، کہ اپنی اصلاح کرو، تو جواب آتا ہے پہلے سارا معاشرہ ٹھیک ہو گا تو میں ٹھیک ہوں گا میرے اکیلے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ کوئی کہے ہم سے عقل کے اندھو معاشرے کی اکائی فرد ہے اور جب فرد ٹھیک نہیں ہو گا تو کیا خاک معاشرہ ٹھیک ہو گا ۔اعلیٰ اخلاقی قدروں کا راگ الاپنے سے تو ہمارے حالات سدھرنے سے رہے ، اپنے اندر انسانی غیرت پیدا کرنی ہو گی خود کو انسان ثابت کرنا ہو گا۔
اہل دانش انا پرستی کی دلدل میں غرق ہیں جو تھوڑا بہت جان لیتا ہے عجیب قسم کے گھمنڈ کا شکار ہو جاتا ہے۔ شدت پسندی و متعصبانہ رویہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،کوئی کسی کو برداشت کرنا تو دور کی بات زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیتا۔ سبھی اہل علم لوگوں نے اپنے اپنے بت بنا کے اپنے مقتدیوں کے حوالے کر دئے ہیں مقتدیوں کی جماعتوں نے ان کو مافوق الفطرت مخلوق کا درجہ دیا ہوا ہے، کہاں جائیں کوئی بات کر نہیں سکتے اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے سب اپنی ذات میں خدا بنے ہوئے ہیں ۔
ہم انسان ہیں اس کائنات کی اعلیٰ و ارفع مخلوق مگر اس وقت جب ہم انسان بنیں گے، خدا نے ہمیں آزاد پیدا کیا ہے، اس نے ہمیں اعلیٰ انسانی اخلاقی اقدار کا بتلا دیا ہے مگر پابند نہیں کیا، ہم سوچ سکتے ہیں سبھی انسان سوچ سکتے ہیں ہم کسی کے غلام نہیں کوئی کسی کا غلام نہیں، نہ بدنی اور نہ ہی فکری، اپنی سوچ پیدا کرو اور اپنی سوچ میں خدا نہ بن جاؤ۔ ایک دوسرے کی سوچ کے فرق کو ذاتی عناد میں مت دھکیلو، جیسے تم سوچتے ہو ویسے سبھی سوچ سکتے ہیں تم اپنی دانست میں خدا نہیں، خدا ایک ہے، دوسرا کوئی خدا نہیں ہو سکتا۔ ہم آزاد ہیں نہ کہ کسی کی فکر کا پٹہ گلے میں ڈالے ہوئے۔ خدارا پہچانو اپنے آپ کو جو اعلیٰ و ارفع مقام اللہ رب العزت کی طرف سے ہمیں عطا ہوا ہے، پہچانو اسے، ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔

ہم سب معاشرتی طور پہ گدھ بن چکے ہیں خواب اونچے آسمانوں پہ اڑان کے دیکھتے ہیں مگر جیسے ہی مردار نظر آتا ہے ٹوٹ پڑتے ہیں۔
فرد معاشرے کی اکائی ہے اور جب ہر فرد اپنی دانست میں اپنے گریباں میں جھانکے گا تو معلوم ہو گا کہ اس سارے فساد کی جڑ “میں” ہوں کوئی اور نہیں، ہر شخص کو اپنی ذات میں اپنا محاسبہ کرنے کی اشد ضرورت ہے، اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی انسان سمجھنا ہو گا، اگر آپ مافوق الفطرت انسان ہیں تو سبھی مافوق الفطرت ہیں، اگر آپ عام انسان ہیں تو باقی بھی آپ کے جیسے عام انسان ہیں۔ خدا نے سب کو ایک سا بنایا ہے، کوئی کسی سے افضل نہیں ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ خدا کے بنائے ہوئے انسان کا منشاء و نصب العین انسانیت ہی ہے اس کے مطابق زندگی بسر کرنی ہو گی ،اور اپنے اندر تبدیلی لانا ہو گی انسانوں میں انسان بن کر رہو ان کے خدا نہ بن جاؤ۔
ہم سبھی نے مرنا ہے مگر ایسے زندہ رہو جیسے زندہ رہنے کا حق ہے وگرنہ زمین کا بوجھ تو ہم ہیں ہی اور مر بھی جانا ہے۔

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *