بلوچ نوجوان اور اعلیٰ تعلیم۔۔۔یاسین دشتی

بیسویں صدی میں سب سے زیادہ زیر بحث عنوان نوجوان رہا. نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیئے کروڑں ڈالر خرچ کیے گئے. ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بین الاقوامی اداروں نے نوجوانوں کو مختلف سرگرمیوں میں کارمرز کرنے کے لیے بے تحاشہ پروجیکٹ کیے اور کر بھی ریے ہیں.

اقوام متحدہ کے مطابق 15 سال سے لیکر 24 سال تک کے عمر مین انسان نوجوان ہوتا ہے جبکہ حکومت پاکستان کے مطابق نوجوان کی عمر 15 سال سے 29 سال تک ہے. اس وقت مختلف اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں نوجوان کی آبادی سب سے زیادہ ہے. ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کی کل آبادی میں سے 50 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے.

مورخین لکھتے ہیں کہ دنیا کی بدلتی ہوئی تاریخ میں نوجوانوں کا کردار بہت اہم رہا ہے. اگر ہم دنیا کی بدلتی ہوئی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں ایسے ہزاروں مثالیں ملیں گے جہاں نوجوانوں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے. سول رائٹس مومنٹ, ویتنام وار احتجاج, چائنا میں جمہوریت کیلئے تحریک اور عرب انقلاب جیسے تحریکوں میں نوجوانوں کا بہت متحرک کردار رہا ہے. نوجوان کسی بھی معاشرے میں سیاسی, معاشی, سماجی اور ثقافتی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اپنے معاشرے میں استحکام لاتے ہیں. اور پوری قوم کی تقدیر بدل دیتے ہیں.

تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان علم, شعور, معاشرتی رسم و رواج اور تکنیکی صلاحیتیں حاصل کرتا ہے. ویسے عام طور پر تعلیم کا مطلب لغوی حساب سے انسان کو نکھارنا ہوتا ہے. جان اسٹیورٹ مل مغرب کے اُن دانشوروں میں سے ہیں، جنہوں نے تعلیم کے مفہوم کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ کہتا ہے.

”تعلیم صرف اُن باتوں ہی کا احاطہ نہیں کرتی جو ہم اپنی فطرت کے کمال سے قریب تر ہونے کی بنا پر واضح مقصد کی خاطر اپنے لیے کرتے ہیں یا دوسرے ہمارے لیے کرتے ہیں۔ اپنے وسیع تر مفہوم میں اس کی حدود بہت زیادہ ہیں۔ انسانی کردار اور صلاحیت پر اُن چیزوں کے بالواسطہ پڑنے والے اثرات بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہیں، جن کے فوری مقاصد بالکل ہی دوسرے ہوتے ہیں۔“

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اعلی تعلیم حاصل کرنا ایک خواب کی مانند ہوتا ہے۔ کیونکہ پاکستان شماریات کے مطابق ملک بھر میں صرف 2 فیصد لوگ اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں یعنی 98فیصد لوگ اعلی تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں. اس طرح سے میں اس جملہ کو کہنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں کہ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو پاکستان جیسے ملک میں اعلی تعلیم حاصل کرنے اور جامعات کی ماحول نصیب ہوتا ہے.

جامعات کی تعلیمی ماحول دوسرے تعلیمی اداروں کے ماحول سے الگ ہوتا ہے کیونکہ جامعہ انسان کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے اور انسان کو معاشرے کے اندر ایک اہم ستون بنا کر بھیج دیتا ہے. جامعہ انسان کو تربیت کے ساتھ ساتھ انسان کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کو اجاگر کر دیتا ہے اس کے ساتھ ساتھ جامعات انسان کو یہ سکھا دیتا ہے کہ وہ معاشرے کے کس پہلو میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے اور اپنی مارکیٹ ویلیو کس طرح تعین کر سکتا ہے. انسان کو معاشرے کا ایک اہم ستون بنا کر پیش کرتا ہے جس میں انسان کی تخلیق, تنقید, تربیت, خدمت, اور معاشرتی استحکام میں کردار اور فرائض کا چادر اوڑھ کر اتار دیتا ہے.

دوسری جانب اگر بلوچ طلبا کی بات کی جائے تو یہ کہنے میں میں حق بجانب ہوں گا کہ ملکی جامعات میں زیر تعلیم بلوچ طلبا کی تعداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے اور بلوچ طالبات تو چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی بمشکل نظر آئیں گے۔ ان سب المیوں کے باوجود جو بلوچ طالب علم جامعات میں زیر تعلیم ہیں گوکہ وہ اَن گنت مسائل میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کہیں انتشار میں گرے ہوئے نظر آتے ہیں، تو کہیں دھڑے بندیوں میں منقسم دکھائی دیتے ہیں، کہیں مسلط شدہ جبر سہہ کر بھی آگے بڑھتے جارہے ہیں تو کہیں علاقائیت آڑے آجاتی ہے ان سب پیش آمدہ مصائب و آلام کے باوجود یہ نہایت ہی خوشی کی بات ہے کہ جامعات میں زیر تعلیم بلوچ نوجوان اپنے آپ کو ہر میدان میں منوانے اور اپنی محبت شناخت کو نمایاں کرنے کے لئے بڑے جدوجہد کر رہے ہیں.

حتی کہ ان نوجوانوں کو وہ سہولتیں اور ادارے میسر نہیں جو دوسرے زبان بولنے والے نوجوانوں کو میسر ہیں. ان سب کے باوجود آج پاکستان بھر کے مختلف جامعات میں بلوچ نوجوان اپنے قوم اور معاشرے کو ایک مثبت انداز میں پیش کر رہے ہیں. پاکستان بھر کےاعلٰی تعلیمی اداروں میں بلوچ نوجوانوں نے اپنے ساخت کو بچانے کے لیے اور اپنے آپ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مختلف فورمز بنائے ہیں. جن کے سائے میں وہ مختلف سرگرمیاں سر انجام دے کر ان تمام توہمات، من گھڑت اور خودساختہ باتوں کو مسترد کرچکے ہیں جو بلوچ قوم سے متعلق دوسرے اقوام کے ذھنوں میں ثبت کی گئی ہیں، ان سرگرمیوں میں ان نوجوانوں کے سیاسی کارنامے, ہفتہ وار لیکچر سیریز, بک ریڈنگ کلچر، علمی و ادبی مباحثے، کلچرل پروگرامز، فن فیئر پروگرامز، دوسرے طلبا تنظیموں کے ساتھ برادرانہ تعلقات، اپنی شناخت پر پرامن احتجاجی مظاہرے اور مختلف سیاسی و سماجی عنوان پر سیمیناروں کا انعقاد شامل ہے.

انتہائی خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے Multi culture معاشرے میں رہ کر اپنے آپ کو اس طرح انجذاب کیا ہے کہ اس سے ان نوجوانوں کی ذہنی بلوغت اور شعور یافتہ ہونے کا احساس ہوتا ہے. یہی نوجوان اس طرح کے کثیر القومی معاشرے سے سیکھ کر اپنے معاشرے کی استحکام اور خوشحالی کے لیے اقدام اٹھا رہے ہیں.

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *