بے لوث خدمت

انسان جب سے دنیا میں آیا ہے وہ تین چیزوں کو بڑے دھیان سے استعمال کرتا ہے: ایک وقت، دوسرا توانائی اور تیسرا وسائل۔

ہم وقت، توانائی اور وسائل کو استعمال کرکے ان کا معاوضہ لیتے ہیں۔ یہ انسان کی فطرت اور جبلت میں ہے کہ انسان جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو اس کا نتیجہ چاہتا ہے۔ ہمارا دل کرتا ہے کہ ہم جو کر رہے ہیں اس کا کوئی نہ کوئی معاوضہ ہو۔ ہم ساری زندگی معاوضہ لیتے رہتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اس فکر میں ہوتے ہیں کہ کہیں ہمارا وقت ضائع نہ ہو جائے، کہیں ہماری توانائی ضائع نہ ہو جائے اور کہیں ہمارے وسائل ضائع نہ ہو جائیں۔ جب معاوضہ نہیں ملتا تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب چیزیں ضائع چلی گئی ہیں لیکن جب معاوضہ مل جاتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری محنت رنگ لے آئی ہے۔ جب بندہ کسی بڑی کمپنی سے منسلک ہوتا ہے تو پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اگر میں یہاں پر کام کروں گا تو کیا مجھے وقت پر اس کا معاوضہ مل جائے گا؟

ایک تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو بغیر معاوضے کے کسی کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں ان کی قوتِ مدافعت کا نظام عام انسان سے تین گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ خدمت کا مطلب ہے قربانی، اور قربانی کا مطلب ہے کہ بندہ جس کی خدمت کرتا ہے لازم نہیں ہے کہ اس کی عقل اور سمجھ کی سطح اس کے برابر ہو۔ وہ کم بھی ہو سکتا ہے۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ عقل کی زکوٰۃ یہ ہے کہ بندہ ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے جن کے پاس عقل نہیں ہے۔ ہمیں جو عقل و فہم ملا ہے، ہمیں چاہیے کہ اس کی زکوٰۃ ادا کریں۔ جو لوگ بے لوث خدمت کرتےہیں انھیں اس کا دنیا میں بھی صلہ ملے گا اور آخرت میں بھی، دنیا میں اس کے بڑے ایسے کام ہوتے ہیں جو بغیر کسی کوشش کے ہو جاتے ہیں۔

زندگی میں جس دن انسان یہ ایمان پیدا کر لیتا ہے کہ میرا صلہ یا معاوضہ دیکھنے اور ملنے کے علاوہ بھی ہے اور وہ زیادہ ہے، تو وہ خدمت کے لیے زیادہ وقت نکالنا شروع کر د یتا ہے۔ لوگ بڑے بڑے عہدو ں پر بیٹھے ہوتے ہیں جن کے پاس بہت زیادہ مال و اسباب ہوتا ہے لیکن سکونِ قلب نہیں ہوتا۔ لیکن جو بندہ صرف اور صرف اللہ کے لیے خدمت کرتا ہے اس کی خوش بختی یہ ہوتی ہے کہ اسے نہ صرف سکون قلب ملتا ہے بلکہ اسے دوسرے لوگوں کی طرح نیند کی گولیاں نہیں لینا پڑتیں ۔ ہم ساری زندگی خدمت کے مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں لیکن اس سے اچھا موقع اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ ہماری محنت سے کوئی مستفید ہو جائے۔

ایک بچہ سمندر کے ساحل پر بیٹھا پانی کی موجوں کو دیکھ رہا تھا۔ پانی کی موجیں ساحل کے ساتھ ٹکراتیں اور وا پس چلی جاتیں۔ موجیں اپنے ساتھ مچھلیوں کو بھی ساحل پر لے آتیں۔ جب مچھلیاں ساحل پر آجاتیں تو و ہ واپس نہیں جا پاتی تھیں۔ بچہ ان مچھلیوں میں سے ایک ایک کو اٹھاتا اور پانی میں چھوڑ دیتا۔ ایک بزرگ جو کافی دیر سے بیٹھے اسے دیکھ رہے تھے، اس کے قریب آئے اور اسے کہا یہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ تم ایک مچھلی کو پکڑتے ہو اور پانی میں چھوڑ دیتے ہو۔ اس سے فرق نہیں پڑے گا۔ بچے نے ایک مچھلی کو اٹھایا اور پانی میں چھوڑ کر کہنے لگا اس کو فرق پڑے گا۔ خدمت کی جو کاوش ہوتی ہے وہ بہت چھوٹی ہوتی ہے، کام بڑا ہوتا ہے۔ لیکن وہ جو چھوٹی سی کاوش ہوتی ہے اس سے ضرور فرق پڑتا ہے۔

سب کچھ کریں لیکن یاد رکھیں کہ دیے کا فرض ہے کہ وہ روشنی دے۔ دیا اپنا تیل نہیں دے سکتا کیونکہ اگر وہ تیل دے دے تو روشنی ختم ہوجائے گی۔ اس لیے کام ضرور کریں لیکن اپنے آپ کو بچا کر بھی رکھیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ زیادہ جذباتی ہوتے ہیں۔ ان میں زیادہ توانائی ہوتی ہے لیکن انھیں اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ جس سطح پر کام کر رہے ہیں اس سطح کے بعد ان کی صحت کو خطرہ ہوگا۔ کام ضرور کریں لیکن احتیاط کا پہلو ضرور رکھیں۔ اپنی زندگی میں کچھ وقت ایسے کام کےلیے ضرور نکالیں جس کا معاوضہ نہیں ملنا کیونکہ اسی کام میں کامیابی ہے۔

Avatar
محمد اسامہ خان
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *