یونیورسل چلڈرن ڈے

بیس نومبر کی صبح جب ٹی وی آن کیا تو خبر ہوئی کہ آج “یونیورسل چلڈرن ڈے” ہے۔ مختلف شہروں اور علاقوں میں یونیورسل چلڈرن ڈے کی مناسبت سے پروگرامز کی معلومات فراہم کی گئیں ، اور پھر ، پھر بتایا گیا کہ پاکستان اور دنیا بھر میں کتنے بچے تعلیم کی نعمت سے محروم ہیں.

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں دس لکھ سے زائد بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہیں اور کتنے ہی بچے پڑھنے اور کھلونے سے کھیلنے کے بجاے “چائلڈ لیبر” کا شکار ہیں. کسی چھوٹے سے ہوٹل میں بطور “چھوٹا” کام کر رہے ہیں، کوڑا اور ردی اکٹھا کرتے دکھائی دیتے ہیں، لوگوں کے گھروں میں کام کر رہے ہیں۔ خود بچے ہیں اور گھروں میں کسی کے بچے سنبھالنے کا کام کرتے ہیں۔ بھٹی پر جبرا کام کرتے ہیں۔ ایک ڈاکومنٹری دیکھی جس میں دکھایا گیا کہ فلپائن میں سونے کی کھوج میں بچوں کو پانی میں گہرائی میں اتارا جاتا ہے، یہ انتہائی risky کام ہے لیکن ان بچوں کے اپنے والدین انھیں ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کریں تو انھیں تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے. تشدد کی بات کی جاۓ تو جو بچہ بچپن میں ہی کسی بھی وجہ سے کام پر نکل جائے، مار پیٹ اور جسمانی و جنسی تشدد اسکا نصیب بن جاتا ہے. ایک اندازے کے مطابق جتنے بچے آج اسکول جا رہے ہیں ان میں سے 40% اساتذہ کے تشدد کا شکار ہیں۔ ایسے بچے جو کسی نہ کسی وجہ سے تشدد کا شکار رہتے ہیں، وہ ذہنی طور پر بیمار ہو جاتے ہیں۔ بچوں کی تربیت ، کونسلنگ کو لے کر زیادہ تر ممالک میں کوئی خاص اقدامات نہیں کیے جاتے، نہ کبھی زیادہ سے زیادہ بچوں کو پڑھانے کے لئے کوئی اقدام کیا گیا ہے نہ ہی چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لئے کچھ خاص ہوا . کتنے ہی بچے تشدد خاموشی سے برداشت کرتے کرتے اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر مر جاتے ہیں۔ کتنے ہی بچے گھر کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اپنے کئی خواب پورے نہیں کر پاتے، کئی خواہشیں دل میں ہی دبی رہ جاتی ہیں .
ایک بچے سے جب پوچھا کہ وہ “کوئٹہ ہوٹل” پر کام کیوں کرتا ہے پڑھتا کیوں نہیں ؟
تو اس نے جواب دیا کہ باجی نہ پڑھتا ہوں ، نہ کھیلتا ہوں نہ اپنے لئے کچھ خریدتا ہوں جو کماتا ہوں، ماں کو دیتا ہوں
بے اختیار ابن انشاء یاد آ گئے …
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں ابن انشا
ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﻟﮍﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ
ﺟﻦ ﺩﻧﻮﮞ
ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﮨﻤﮑﺘﺎ
ﮨُﻮا …
ﺟﯽ ﻣﭽﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﮎ ﺷﮯ
ﭘﺮ ﻣﮕﺮ
ﺟﯿﺐ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ، ﮐﭽﮫ ﻣﻮﻝ
ﻟﮯ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ۔
ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﻟﺌﮯ ﺣﺴﺮﺗﯿﮟ
ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ
ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﻟﮍﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ
ﺟﻦ ﺩﻧﻮﮞ۔
ﺧﯿﺮ ﻣﺤﺮﻭﻣﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺩﻥ
ﺗﻮ ﮔﺌﮯ۔
ﺁﺝ ﻣﯿﻠﮧ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﺷﺎﻥ
ﺳﮯ
ﺁﺝ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﮎ ﺩﮐﺎﻥ
ﻣﻮﻝ ﻟﻮﮞ۔
ﺁﺝ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﺍ ﺟﮩﺎﮞ
ﻣﻮﻝ ﻟﻮﮞ۔
ﻧﺎﺭﺳﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺍﺏ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ
ﺩﮬﮍﮐﺎ ﮐﮩﺎﮞ!
ﭘﺮ ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ، ﺍﻟﮩﮍ ﺳﺎ
ﻟﮍﮐﺎ ﮐﮩﺎﮞ!!

Avatar
آمنہ احسن
کتابیں اور چہرے پڑھنے کا شوق ہے ... معاملات کو بات کر کے حل کرنے پر یقین رکھتی ہوں ....

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *