نظام انصاف

عدالت کے ستونوں میں پولیس، پراسکیوشن سرکاری وکیل ،بار ایسوسی ایشن اور جج ہوتے ہیں۔ یہی ستون معاشرہ میں انصاف کی چھت کو قائم رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ قانون میں درج حقوق اور سزاؤں کے مطابق مذکورہ افراداورادارے انصاف فراہم کرنے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں، یعنی پارلیمنٹ کے تجویز کردہ قوانین کا اطلاق کرکے معاشرے میں انصاف کی تقسیم کار کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔کسی معاشرے میں عدل و انصاف نہ ہونا، ظلم، دادا گیری، قتل و غارت اور کرپشن کو دعوت دیتا ہے۔ طاقتور کمزوروں پر ظلم کرتا ہے۔ چار سوجنگل کا قانون ہوتا ہے۔ باصلاحیت، نکما، ہڈحرام،اندھا اور کانا ایک ہی طرح شمار ہوتے ہے۔ مالدار ی خطِ امتیاز کے طور پر اور برتری کی علامت تصورہوتی ہے۔ غریب اور مزدور در بدر ہیں۔ لوگوں کو حیوان سے بھی بدتر گردانا جاتا ہے۔ اخلاق نام کی کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔ مریض علاج نہ ہونے کے سبب ڈاکٹر کو تکتے ہوئے چل بستے ہیں۔ مؤکل قانون، پولیس، وکیل اور جج کے درمیان پستے ہیں۔ کسی کی شنوائی نہیں ہوتی۔ جائز کاموں کے لئے بھی رشوت دی جاتی ہے۔ عزت و احترام ہر وقت داؤ پر لگنے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ بھیڑ میں طاقتور ہی بادشاہ تصور ہوتا ہے۔ جنگل کے قانون میں بادشاہ سلامت ہی فیصلے کرتے ہوئے فرامین اور احکا مات جاری کرتے ہیں۔ ہر طرف اضطراب اور بے چینی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ قانون اور انصاف اشرافیہ کا بازیچۂ اطفال ہوتے ہیں۔ اپنے بچاؤ اور زندہ رہنے کے لئے دھوکا، فریب اور جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔کمزوروں کوافسر شاہی کا گماشتہ بنا دیا جاتا ہے۔ کرپشن، ڈاکا زنی اور چوری روزانہ کا معمول ہوتے ہیں۔ کسی کے مان اور احسان کا رشتہ نہیں ہوتا۔عبادات اور خدمت بھی اپنے مفادات کے حصول اور بندوں کی خوشنودی کے لئے کی جاتی ہیں۔ حکمران، بااثر شخصیات کی چاپلوسی، منافقت، سازش اور ملی بھگت کرتے ہیں۔ مخلص اور ایمانداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے کئے جاتے ہیں۔کمزوروں کے منہ کا نوالہ چھینا جاتا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ نظامِ انصاف اگرٹھیک ہوگا، تو باقی نظام خود بخود ٹھیک ہوسکے گا۔ مروجہ نظامِ انصاف انتہائی گنجلک اور قیمتی ہے۔ قوانین کی بھر مار ہے اور لاکھوں مقدمے عدالتوں میں تصفیہ طلب ہیں۔نئے مقدمے ہزاروں کی تعداد میں بن رہے ہیں۔ غریب اکثر و بیشتر اوقات عدالت آنے سے کتراتے ہیں۔ معاشرے میں انصاف کی تاخیر کی وجہ سے بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے۔نام نہاد ادارے اپنے کام صحیح اور درست طریقے سے کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ اداروں میں وسائل صلاحیت اور ہیومن ریسورسس کا فقدان ہے۔ جدید آلات اور ون ونڈو آپریشن نہ ہونے کے برابر ہے۔طبقات کے وجود کا خلا مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ تفرقہ بازی، شدت پسندی،پارٹی بازی، دہشت گردی اور گرانی ان مسائل کے اسباب ہیں۔ مذکورہ مسائل کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ نسلی اور قومیت کی تفاوت نئے رنگ میں رنگنے جا رہی ہے۔ پیشوں کے حساب سے نئے طبقات وجود میں آتے ہوئے عصبیتوں کی نئی کھیپ تیار ہے۔ کیا اس نظام میں اصلاحات کرنے سے نظامِ انصاف اور دیگر نظام میں بہتری آسکتی ہے؟
جواباً عرض ہے کہ کسی حدتک اور وہ بھی کسی خاص وقت کے لئے، لیکن اس میں آفاقی اور دیرپا تبدیلیاں ہر گز نہیں آسکتی ہیں۔ جب تک قوموں کے اند ر تقسیم اور تفاوت موجود ہوگی، غلامانہ رسم و رواج مروج ہوں گے، جب وسائل کسی خاص طبقات کا قانونی اور خدائی حق تصور ہوں گے،جہاں انسانوں میں صلاحیت اور ہنر مندی کونیچ خیال کیا جائے گا، جہاں وسائل کرپشن اور اقربا پروری کی نذر ہوں گے، جہاں پر چیک اینڈ بیلنس کا جدید نظام نہیں ہوگا، جہاں پر جائیدادوں اور مال و زر رکھنے کی کوئی حد مقرر نہیں ہوگی، جہاں پر فحاشی و عریانی عروج پر ہوگی،ضمنی طور پر عرض ہے کہ میری نظر میں تمام دو نمبری مثلاً کرپشن، سرقہ، رشوت، سود، زنا کاری، بے حیائی وغیرہ ایسے تمام فعل فحاشی اور عریانی کے مماثل ہیں۔ ایسے نظام میں اگر اصلاحات بھی لائے جائیں، تو شائد وہ بھی دیرپا نہیں ہوں گی۔ ہمیں ایسا نظام لانا ہوگا جو اس نظام کے یکسر متضاد ہو۔ میرے کہنے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ جنگل کا قانون نافذ کیا جائے۔ طاقتورکے قانون کانفاذ کیا جائے بلکہ میرا مطمع نظر یہ ہے کہ ایسا نظام جس میں درج بالا تمام تفاوتیں، فرقہ بندیاں، شدت پسندی، نسلی اور قومی عصبیتیں، اقلیتوں سے امتیازی رویے، سرمایہ داری اورجاگیرداری اور مذہب کی آڑ میں سرمایہ داری کے چور دروازے کے حق کے جواز میں جو من گھڑت اور بلاجواز منطق پیش کی جاتی ہے، اس کا تدارک کیا جاسکے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بروئے کار لاتے ہوئے نجی ملکیت کا خاتمہ کیا جائے۔ ابتدائی طور پر مروجہ نظام میں مال، روپیہ، زر اور زمین کی کسی مناسب حد تک اجازت دی جائے اور بعد میں جب نظام اپنے مکمل دور میں داخل ہونے جا رہا ہو، تو اس وقت جائیدادیں اورمال و روپیہ وغیرہ بحق سرکارضبط کیا جائے کہ اس کے بغیر جہاں تک میں سمجھتا ہوں نظام میں تبدیلی کے دعوے اور تقریریں عبث اور لغو ہیں۔
میں ہر گز یہ نہیں چاہوں گا کہ نظام کو خون خرابے اور قتل و غارت کرکے لاگو کیا جائے، بلکہ بہترین طریقۂ کار یہ ہے کہ ہمیں انسانوں کو ان کے مذہبی اور معاشرتی حقوق کا پروپیگنڈا کرنا ہوگا۔ ہمیں شعور اور آگاہی لانی ہوگی۔ انسان بن کر سوچنا ہوگا۔ ہمیں جھوٹے اور لغو نظریات سے چھٹکاراپانا ہوگا۔ سائنسی طور پر معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کا تعین کرنا ہوگا۔ عدالتوں اور تھانوں سے چھٹکاراحاصل کرنا ہوگا۔ کمیونٹی کونسل کوپا بند اور فعال بنا نا ہوگا اور انسانی معاشرتی حقوق کا ذمہ دار کونسل کو بنا نا ہوگا۔قارئین، بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں پر افراد کو بنیادی سہولیات، چھت، صحت، تعلیم،اور تمام انسانی ضرویات گھر کی دہلیز پر حاصل ہوں گی، تو کوئی کیوں کرپشن،رشوت،مقدمے، سود ،ملاوٹ اور چور بازاری کرے گا۔۔۔اس لئے ہمیں نجی ملکیت کا مکمل خاتمہ اور غیر طبقاتی سماج بنانا ہوگا۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کرنی ہوگی۔

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *