پختونوں کا کیس اور منظور پشتین کا بیانیہ۔۔۔عبید اللہ چوہدری

 منظور پشتین کے طریقہ کار اور انداز گفتگو سے اختلاف ہے۔ مگر بقول شخصے یہ بات بھی درست  ہے کہ ایک مضروب لکھنوی انداز میں فریاد و احتجاج کرنے سے تو رہا۔ اس کے نعرے ادھورے اور یک طرفہ ہونے سے بھی شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔ آج کل مارکیٹنگ کا دور ہے کئی نعرے برانڈ کی طرح بس مشہور ہو جاتے ہیں۔ وہ پوری حقیقت بھی بیان نہیں کرتے۔ یہ نعرے کچھ یوں ہوں تو زیادہ بات سمجھ آتی ہے!۔۔۔ یہ جو دہشت گردی ہے۔ یہ جو ملا گردی ہے۔ یہ جو امن کمیٹی گردی ہے۔ یہ جو مارا ماری ہے۔ یہ جو بمباری ہے۔ یہ جو لاپتہ جاری ہے۔ اس کے پیچھے ڈالر ہے۔ اس کی پیچھے ریال، روبل اور روپیہ ہے۔۔۔ اس کے پیچھے انڈین وردی، افغان وردی، روسی وردی، سعودی وردی، ایرانی وردی اور امریکی وردی بھی شامل ہے۔ اب شاید چینی وردی بھی اپنے عظیم دوست کی مدد کو پہنچ چکی ہو۔ ان سب کے اپنے اپنے برانڈ کے پراکسی جنگجو (جہادی) ہیں۔ اور نشانہ صرف پختون عوام ۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ جہادی دور میں سب پختون طالبان نہیں بن گئے تھے۔ بہت سو ں نے جہادی بیانیے کی مخالفت کی تھی۔ ایسا کرنے پر پختونوں کی ایک بڑی تعداد نے ملا اور ملٹری کے عذاب کا سامنا کیا تھا۔ اب بھی سارے پختون پشتین کے ساتھ نہیں۔ لیکن اس کا ساتھ دینے والے کم بھی نہیں۔۔ انہوں  نےضرور  طالبانی عذاب کا سامنا کیا ہو گا۔ اس پراکسی وار کا نشانہ صرف پختون۔۔۔ فاٹا ہو تو نشانہ پختون۔۔۔ افغانستان ہو تو پھر بھی نشانہ پختون، داڑھی والا پختون ہو یا کلین شیو اور یا پھر نقیب اللہ جیسا ماڈل ہی کیوں نا ہو ۔۔ نشانہ پختون ہی ہے۔

ہمیں ان کی بات پر توجہ دینی چاہیے۔ پختونوں کا مسئلہ حقیقی ہے۔ سب سے پہلے اس بات کا ادراک کرنا اور اس مسئلے  کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ پھر ہی کوئی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں ان کی دہشت کی عفریت سے نکلنے میں مدد کرنی چاہیے۔ ان کو قومی دھارے میں لانا چاہیے نا کہ ہمیشہ کی طرح غدار قرار دے کر جلتی پر تیل ڈالنا چاہیے۔ توجہ کریں۔۔۔۔ کیا انڈیا ایسا کر کے 8 لاکھ فوج، بالی ووڈ، اور سینکڑوں ٹی وی چینل اور لاکھوں جنونی ہندوؤں  کے نعروں سے کشمیریوں کو روک سکا ہے؟؟ ۔۔۔ جو ہم بھی روک لیں گے؟ کچھ تو گرد و نواح سے سبق سیکھیں۔ خدارا   کچھ  تو سیاسی بصیرت سے کام لیں!!

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *