پولیٹیکل اسلام کا نقصان

مضمون کے گزشتہ حصے” تکفیر کے منابع اور خورشید ندیم صاحب کا بیان” میں ہم نے خورشید ندیم صاحب کی جانب سے تکفیری شدت پسندی کا تعلق افکار مودودی سے جوڑنے کے حوالے سے واقعات کا تجزیہ کیا تھا اور اس خیال کی نفی کی تھی ۔ اب ہم ان کے خیال کی تائید میں ملنے والے دلائل کا تجزیہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اصل مسئلہ ہے کہاں ۔ نصف صدی قبل ہندوستان کے معروف عالم مولانا وحید الدین خان نے تعبیر کی غلطی میں ان امور کی جانب توجہ دلائی تھی لیکن بڑے بڑے نامور علمائے دین نے بجائے خود تصنیف کو تعبیر کی غلطی قرار دے دیا ۔ یہاں بات آگے بڑھانے سے پہلےذرا ان حالات و واقعات کو ایک نظر دیکھ لیں جن میں اسلام کا سیاسی تصور پیش کیا گیا ۔ تیسری دنیا میں آئینی جمہوری ریاستوں کے قیام کا اصل زمانہ جنگ عظیم اول کے بعد شروع ہوتا ہے ۔” رومن اور قبل از مسیح کی جمہورتوں کے بعد موجودہ جمہوری تاریخ 1649میں شہنشاہ برطانیہ چارلس اول کی سزائے موت اور عسکری راہنما اولیور کرومویل کے (دولت مشترکہ کامن ویلتھ آف انگلینڈ ) سے شروع ہوتی ہے”یہاں ایک دلچسپ مماثلت دیکھیے کہ یہ وہی سال ہے جب شاہ جہان نے تاج محل بنایا تھا ۔ اس لیئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تاج محل جدید جمہوری تاریخ جتنا قدیم ہے، اس جمہوریت کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ انسان اپنے لیئے قانون سازی کا خود مجاز ہے ۔
رفتہ رفتہ یہ جمہوریت پھیلتی گئی اور دنیا بھر کو نگل گئی ۔ معدودے چند ممالک اس جمہوری عفریت سے محفوظ رہے ۔ جنگ عظیم اول کا اختتام ہوا تو اس جمہوری عفریت نے اپنے پر سمیٹنے شروع کیئے ۔ جس جس جگہ سے تاج برطانیہ واپس ہوا وہاں جمہوریت کو بطور یاد گار چھوڑتا چلا گیا اور یوں کل ملا کر اس وقت دنیا بھر میں دو سو کے قریب جمہوری ریاستیں قائم ہیں ۔ جن میں سے ایک پاکستان بھی ہے ۔ جس وقت عوام کو اختیار ملنا شروع ہوا اس وقت تک عالم اسلام میں وہی ملوکانہ خلافت کسی نہ کسی جگہ قائم رہی اور مسلمان اسی کو اپنا مرکز ملت مانتے رہے ۔ ان میں قانون سازی یا حکمران کے انتخاب کا حق کبھی مسلمانوں کی اکثریت کو نہیں ملا تھا بلکہ اقتدار نسل در نسل منتقل ہوتا تھا یا بیچ میں سے کوئی بغاوت کامیاب ہو جاتی تو باغی اقتدار پر قبضہ کر کے اقتدار کو اپنی نسل میں منتقل کر لیتا تھا۔ اس کے علاوہ انتقال اقتدار کا کوئی طریقہ کار رائج نہیں تھا نہ ہی مسلمان اپنے ایک ہزار سالہ دور حکومت میں انتقال اقتدار کا ایسا کوئی نظام وضع کر پائے جس کو اپنایا جا سکتا ۔ تاریخ کے صفحات میں انتقال اقتدار کا طریقہ خون خرابے اور سابق کی موت یا بغاوت جیسے اصولوں پر چلتا رہا ۔ اس خون خرابے سے بچنے کےلئے پرامن انتقال اقتدار کا راستہ یہی جمہوریت تھی جسے یورپ دنیا کو دے رہا تھا۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں انتقال اقتدار کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن اب صورت حال بدل گئی ،ایسے میں دنیا بھر کے مختلف خطوں میں بعض علماءنے ضروری خیال کیا کہ اب مسلمانوں کو اس نئے طور طریقے سے یوں ہم آہنگ کیا جائے کہ جس سے کسی شرعی حکم کی سرتابی نہ ہو ۔ اس مسلک کے بعض پہلو ایسے ہیں جن سے یہ صریحاً اجتہادی غلطی دکھائی دیتی ہے ۔ ہم ان علماءبشمول سید مودودی و حسن البناءکی نیت پر شک نہیں کر رہے بلکہ ان کے اخلاص پر کامل یقین رکھتے ہیں جن علماءکا موقف یہ تھا کہ عنان حکومت کا تصرف میں لانا حدود اللہ کے نفاذ کے لئے ضروری ہے ۔ ایسے میں دو صورتیں سامنے آئیں ۔ ایک یہ کہ حکومت صرف آئینی اعتبار سے مسلمانوں کو ان کے حقوق کے تحفظ اور ان کے فیصلے ان کے مذہبی قوانین کے مطابق کرنے کی یقین دہانی کروا دے اور دوسرا یہ کہ ایک ایسی اسلامی حکومت قائم کی جائے جو اقتدار کے بل بوتے پر ان حدود و قوانین کو نافذ کرے ۔ سید مودودی نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور پہلے راستے کو یہ کہہ کر مسترد کیا کہ دو مختلف نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، جب کہ عوام الناس دوسرے راستے سے بھی مطمئن تھی کہ حکومت ان کی مذہبی آزادی میں رکاوٹ نہ بنے اور ان کے مذہبی قوانین کا تحفظ کرے ۔
جیسا کہ مسلم پرسنل لاءیا ہندو پرسنل لاءوغیرہ ہیں ۔ ( میری نظر میں اس کا مناسب حل تو وہی تھا جو امین احسن اصلاحی صاحب یا ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے بتایا کہ اصلاح معاشرہ کے بغیر اصلاح حکومت کا کام ممکن نہیں اور اسے تدریجی عمل کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے )، سید مودودی نے براہ راست سیاسی اسلام کی تبلیغ شروع کر دی ۔ اب آگے چل کر یہ سوال درپیش آیا کہ جو شخص یا قوت یا پارٹی فریضہ اقامت دین (یعنی پولیٹیکل اسلام کی تنفیض )کے راستے میں رکاوٹ ہو اس کی اسلام میں کیا پوزیشن ہو گی ؟ اس کے جواب میں جماعت اسلامی کے علاوہ باقی سب طاغوت قرار پائے اور یوں دیکھنے سننے والوں میں سے بعض لوگ اس جانب جانا شروع ہوئے ۔ سید مودودی یا ان کے دیگر رفقائے کار یا جماعت اسلامی کے مرکزی راہنماؤں کی حد تک تو اس درجہ کی شدت پسندی اور تکفیری سوچ نہ پھیل سکی کیوں کہ وہ خود جمہوری ذہن رکھتے تھے اور وہ اس وجہ سے پرتشدد نہیں ہو سکے کہ انہیں اصلاح نفس اور تزکیئے کے مراحل سے گزاراگیا تھا ۔ انہیں رواداری، صبر ، اخوت ، مساوات ، عجز اور دیگر ان اخلاقی قدروں کا بھی پاس تھا جو شدت پسندی یا تکفیری رویے کا راستہ روکنے میں معاون تھیں لیکن ایسے لوگ جن کا تزکیہ اس درجے کا نہیں تھا وہ ان کے یوٹوپیئے (اسلامی یا شرعی نظام ) کی راہ میں حائل جمہوری نظام اور حکومتوں کو طاغوت ، منافق اور کافر سمجھنے لگے یہ تھی وہ اصل خرابی جو اسلام کے سیاسی تصور یا پولیٹیکل اسلام کی دعوت کا لازمی نتیجہ تھی ۔ میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ ہر گز نہیں کہ اسلامی تعلیمات اس تکفیری رویے تک لے کر گئیں بلکہ جمہوری سیاست کی قباحتیں اسلامی تصورات میں شدت پسندی لانے کا سبب بنیں ۔ یہ کان کو ہاتھ گھما کر پکڑنے کی کوشش نہیں بلکہ امر واقعہ ہے ۔ میں اسلام کی دعوت کو جہاں تک سمجھ پایا ہوں اس میں تقویٰ، صبر، رواداری ، تحمل ، برداشت اور دیگر اخلاقی اقدار نفس انسانی کا تزکیہ کرتی ہیں اور جب انسان ان مرحل کو طے کر لیتا ہے تو اس سے شدت پسندی کا ظہور ممکن نہیں رہتا ۔
لیکن جب بات اپنی کسی جارحانہ کارروائی کے دفاع کی ہو تو اسوہ حسنہ سے مکی اور مدنی زندگی کو بطور تاویل لایا جاتا ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، رسول نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو مکی اور مدنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے بعض مفسد اذہان اس کی تعبیر یوں کرتے ہیں کہ جب آپ کمزور ہوں تو صبر شکر سے کام چلائیں اور جب طاقتور ہوں تو جنگ و جدل کی اجازت ہے درحقیقت صبر ، تحمل ، برداشت اور دیگر مراحل طے کرنے کے لئے تیرہ سالہ طویل ریاضت مکی زندگی ہے ۔ اس کے بعد جہاد اور قتال کی اجازت کا ملنا اس تربیت کے پختہ ہونے کا اعلان ہے ۔ تقویٰ اور تزکیہ نفس کی طویل ریاضت کے بغیر محض افراد کی ایک جماعت یا گروہ کے میسر آ جانے پر ہتھیار اٹھا لینا یا خود ساختہ و خانہ ساز جہادی کارروائیاں شروع کرلینا انتشار ، فساد اور شدت پسندی ہیں ۔جمہوریت اور اسلامی سیاست کے تناظر میں شدت پسندی کا الزام اسی وجہ سے مذہب کی دعوت کو نہیں دیا جا سکتا ۔ جہاں تک تعلق اس متشدد رویئے کا ہے جو ہم میں در آیا ہے وہ مذہب کی دعوت کو سیاسی معاملے سے نتھی کرنے کا نتیجہ تو ضرور ہے لیکن سبب نہیں ۔ ایک طرف مذہب اسلام ہے دوسری جانب مروجہ سیاسی چلن یا یہ جمہوری ڈھکوسلہ نامی چیز جس کا نصف سے زائد وجود خود منبع شر ہے ۔ الزامات لگانا ، مخالفین کے بارے میں جھوٹے پروپیگنڈے کرنا، اقتدار کے لالچ میں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانا ، طاقت اور سرمائے کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونا اور دیگر طرح طرح کے حیلے جتن اس کے لوازمات ہیں ۔ جب اسلام کی دعوت کے ساتھ اسے جوڑا جائے گا تو اس کا شر ادھر بھی لازمی طور پر آئے گا ،یہ کام سید مودودی نے کیا اس لیئے میں سید مودودی کے اس فعل کو درست نہیں سمجھ سکتا لیکن اس غلطی کے بدلے میں تکفیریت پر مشتمل شدت پسندی کا الزام ان کی دعوت پر نہیں لگایا جا سکتا۔

عارف کاشمیری
عارف کاشمیری
اصل نام ۔ پیرزادہ عتیق الرحمان شاہ پیشہ ۔ صحافت

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *