بے لچک یا بے لگام؟ (32)۔۔وہاراامباکر

دماغ کا ایک بڑا چیلنج زندگی کی طویل مدت کا ہے۔ جاندار کو قسم قسم کے چیلنج کا سامنا ہے۔ طرح طرح کا ماحول ہے۔ سالوں اور دہائیوں میں نئی انفارمیشن مسلسل آتی رہے گی۔ زندگی بھر سیکھنے کا چکر جاری رہے گا اور یہاں پر دو مخالف مسائل ہیں۔ ایک طرف پرانے ڈیٹا کو سنبھال کر رکھنا ہے اور دوسری طرف نئے کو لکھنا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے نیٹورک ایک “تربیتی فیز” سے گزرتے ہیں (مثلاً، انہیں کروڑوں مثالیں دی جائیں گے جن سے یہ سیکھ سکیں)۔ اور پھر اس کے بعد اس لرننگ کی بنیاد پر اگلی فیز میں اس تربیت کا استعمال آئے گا۔ جانداروں کو یہ آسائش میسر نہیں۔ انہوں زندگی بھر سیکھنا اور دہرانا ہے۔ زندگی رکتی نہیں۔ ایک تسلسل میں اس نے جاری رہنا ہے۔ صرف ایک غلطی سب کچھ تلپٹ کر سکتی ہے۔ اس کھیل کو ہی ختم کر سکتی ہے۔ (دریائی گھوڑا انسان کا دوست نہیں۔ ننگی تار کو ہاتھ لگانا مناسب نہیں۔ گاڑی بریک لگانے پر ہی رکے گی۔ اس سے آگے دشمن کا علاقہ ہے۔ اور نہیں، ضروری نہیں کہ ان غلطیوں پر دوسرا موقع بھی ملے)۔
نصابی کتابوں میں یادداشت کو سائناپٹک تبدیلی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ عام بیان کیا جانے والا اصول ابتدا میں ہی مسئلے کا شکار ہو جاتا ہے۔ نئی لرننگ پرانی لرننگ کے اوپر لکھ دے گی۔ مصنوعی ذہانت کے نیٹورک کی بھری ہوئی میموری جلد ہی ایک کیچڑ بن جائے گی۔ پرانی یادیں نئی ایکٹیویٹی کے بعد ختم ہو جائیں گی۔ اتنی جلد کہ ڈرامہ دیکھتے ہوئے پہلا سین بھی یاد نہیں رہے گا۔
اس کو stability/plasticity dilemma کہا جاتا ہے۔ بیک وقت پرانے کو برقرار اور نئے کو حاصل کیسے کیا جائے؟ یادوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ وقت کے کچوکوں سے نہیں بلکہ دوسری یادوں کے حملوں سے۔ یادوں کا دشمن وقت نہیں، دوسری یادیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنوعی ذہین نیٹورک کے لئے یادداشت کا کیچڑ بڑا مسئلہ ہے۔ یہ بائیولوجیکل دماغوں کے لئے مسئلہ نہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ نئی کتاب پڑھنے کے بعد آپ کے شریکِ حیات کا نام یاد رکھنے والا حصہ مٹ جائے۔ ذخیرہ الفاظ میں نئے لفظ کا اضافہ باقی سب کو کمزور کر دے۔
یہ فیکٹ ہمیں اس سے آگاہ کرتا ہے کہ نیٹ ورک کے سائناپس کا مضبوط اور کمزور ہو جانا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس سے بہت کچھ زیادہ ہو رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مسئلے کا پہلا حل اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام سسٹم بیک وقت تبدیل نہ ہو رہا ہو۔ لچک کو چھوٹے سے حصے میں آن اور آف ہونا ہے اور اس کا تعلق انفارمیشن کے متعلقہ ہونے سے ہے۔ نیوروموڈولیٹر یہ کام احتیاط سے کنٹرول کرتے ہیں اور اس طرح لرننگ کا عمل ٹھیک وقت اور مقام پر ہوتا ہے، نہ کہ پورا نیٹورک لچکدار ہو جاتا ہے۔ یہ میموری کا کیچڑ بن جانے سے بچاتا ہے کیونکہ صرف اہم ہونے پر سائناپس مضبوط ہوتے ہیں۔ مثلا آپ نے نئے ہم جماعت کا نام سنا۔ والد کے بارے میں کوئی خبر سنی یا پتا لگا کہ پسندیدہ ڈرامہ کب ہو رہا ہے۔ یہ یاد کا حصہ بن گئے۔ لیکن انفارمیشن کا بے شمار حصہ ایسا ہے کہ نیٹورک کو تبدیل ہونے کی ضرورت نہیں۔ راہگیر کی قمیض کا رنگ، فٹ پاتھ پر پڑی دراڑ کا پیٹرن ۔۔۔ “صرف اس وقت بدلنا جب انفارمیشن متعلقہ ہو” کا فیچر یہ بتاتا ہے کہ دماغ خالی تختی نہیں جس پر دنیا اپنی کہانیاں لکھ جاتی ہے۔ اس کے پاس یہ مہارت ہے کہ اس کو چھانتا رہتا ہے کہ کونسی صورتحال میں کونسی لرننگ کرنی ہے۔ تجربے اس وقت یاد بنتے ہیں جب ان کا تعلق جاندار کی زندگی سے ہو۔ اور ان کا جذبات سے تعلق گہرا ہے۔ خوف اور خوشی جیسے جذبات میں یہ تبدیلی کے لئے تیار رہتا ہے۔ اس حربے سے فائدہ یہ ہے کہ نیٹورک پر تبدیل ہونے کا زیادہ بوجھ نہیں رہتا۔ ہر چیز نے لکھے نہیں جانا۔
یہ بہت مفید حربہ ہے لیکن stability / plasticity کا مسئلہ حل نہیں ہوا کیونکہ ابھی بھی بہت کچھ سٹور ہونا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دماغ اب اگلے حربے کا استعمال کرتا ہے اور وہ یہ کہ یاد کو ہمیشہ کسی ایک جگہ محفوظ نہیں کرتا۔ سٹوریج کے لئے کئی علاقے ہیں۔
ہنری مولیسن ستائیس سالہ مریض تھے جن کے دماغ میں سے ہپوکیمپس دونوں اطرف سے نکال دیا گیا تھا۔ 1953 میں ہونے والے اس آپریشن کے بعد مولیسن بھولنے کی بیماری کا شکار ہو گئے۔ یہ نئی چیزیں بالکل یاد نہیں رکھ سکتے تھے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، وہ کچھ نئی مہارتیں سیکھنے کے قابل تھے (مثلاً، آئینے سے الٹا پڑھنے کے) لیکن انہیں کوئی یاد نہیں رہتی تھی کہ انہوں نے یہ نئی مہارت کب سیکھی۔ سرجری سے پہلے کے واقعات کی یادیں بالکل نارمل تھیں۔ ان کے کیس نے نیوروسائنس میں توجہ ہپوکیمپس کی طرف کروا دی۔ یہ نئے فیکٹ یاد رکھنے میں اہم ہے لیکن جو فیکٹ پہلے سے یادداشت کا حصہ ہیں انہیں یاد کرنے میں نہیں۔ ایسا کیوں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حصے کا کردار وقتی ہے۔ یہاں پر کچھ سٹور نہیں ہوتا۔ نئی یادداشت کو بنانے میں اس حصے کی ضرورت ہے لیکن یہ ان کو کورٹیکس کے حصوں کی طرف روانہ کر دیتا ہے جہاں پر یہ مستقل طور پر سٹور ہو جاتے ہیں۔
لیکن یاد ہپوکیمپس کے سٹیشن سے کورٹیکس کے گھر تک کیسے جاتی ہے؟ اس پر ایک خیال یہ ہے کہ مستحکم سٹور پہلی بار کی ایکٹیویٹی میں نہیں بنتا۔ ہپوکیمپس اس کو بار بار ایکٹیویٹ کرتا ہے اور اس دہرائی کے سبب کورٹیکس میں یاد مستقل ہو جاتی ہے۔ چونکہ مولیسن کا ہپوکیمپس نہیں تھا۔ کوئی دہرائی نہیں تھی اور طویل مدت کا ذخیرہ نہیں تھا۔
یہ ویسا ہی ہے جیسا بار بار کی مشق نئی چیز سکھا دیتی ہے۔ یہ طریقہ stability / plasticity مسئلہ تو حل کر دیتا ہے لیکن محدود جگہ کا نہیں۔ یہ جگہ تو اس طریقے سے بھر جائے گی اور یہ ہمیں تیسرے اور گہرے حل کی طرف لے جاتا ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *