سوموار، 15 اکتوبر 2018ء

نواز شریف کا مسئلہ کیا ہے؟۔۔۔آصف محمود

تو کیا نواز شریف غصے میں ہیں اور گاہے توازن کھو بیٹھتے ہیں؟ ہر گز نہیں ، بنیادی طور پر وہ ایک تاجر ہیں جنہوں نے سیاست کو تجارت کا نیا رنگ دیا ہے ۔ اب معاملہ یہ ہے کہ کریانہ سٹور میں جذبات رکھے جاتے ہیں نہ نظریہ فروخت کیا جاتا ہے۔ یہاں ساری توجہ اس بنیادی نکتے پر ہوتی ہیں کہ دو جمع دو ساڑھے چار کیسے ہو سکتے ہیں۔ نواز شریف رد عمل کے کسی کمزور لمحے کا شکار نہیں ہوئے ۔ وہ شعوری طور پر بروئے کار آئے ہیں۔اس واردات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف ابھی تک بارہ اکتوبر کی سہہ پہر میں کھڑے ہیں۔ وہ اس نفسیاتی گرہ کو کھول ہی نہیں پا رہے۔ یہ گرہ بھی اس لیے نہیں پڑی کہ اس سہہ پہر انہیں غیر آئینی طور پر اقتدار سے محروم کیا گیا۔ آئین ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ ہوتا تو جنرل عبد القادر بلوچ ، مشاہد حسین سید، سردار یوسف ، امیر مقام ، ماروی میمن ، کشمالہ طارق ، زاہد حامد، دانیال عزیز ، طلال چودھری اور کئی دیگر شخصیات آج ان کے پہلو میں نہ بیٹھی ہوتیں۔ان کا مسئلہ کچھ اور ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا اقتدار اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک آرمی چیف آئی جی پولیس کی طرح ہاتھ باندھے اور سر جھکائے ان کی بارگاہ میں نہ آن کھڑا ہو۔ تمام ادارے انہوں نے روند ڈالے۔ ہر شعبہ زندگی کو کرپٹ کر دیا۔ لوگوں کو خریدا، ان کی قیمت لگائی ، انہیں نوازا اور یوں اپنے پنجے سماج کے سینے میں گاڑ دیے۔ جہاں پناہ کی فتوحات حیران کن تھیں۔دنیا ششدر تھی ۔ مگر جہاں پناہ کو یہ غم ہے کہ جب تک فوج کو بطور ادارہ پنجاب پولیس کی سطح پر نہیں لایا جاتا فتوحات ادھوری ہیں اور اقتدار نا مکمل۔ ایک بات مگر وہ بھول گئے کہ ایک جمہوری حکمران فوج کو کامل قابو میں کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے غیر معمولی اخلاقی قوت درکار ہے۔ اس کریانہ سٹور میں تو مگر اس جنس نایاب کا ایک چھٹانک بھی دستیاب نہیں۔اور تازہ ترین ارشاد گرامی اسی کوشش کا حصہ ہے کہ فوج کو کمزور کردیا جائے۔ عالمی برادری کے سامنے فوج کے خلاف فرد جرم عائد کی جا رہی ہے اور یہ حرکت نواز شریف مسلسل کر رہے ہیں۔ وہی اخبار ہے ، وہی نواز شریف اور وہی سیرل المیڈا ۔ اتفاق نہیں یہ ایک واردات ہے ۔ نواز شریف کو اپنا نامہ اعمال بھی خوب نظر آ رہا ہے۔ صاحبزادی فرماتی تھیں ، لندن تو کیا میری تو پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں اور اب جب سب کچھ سامنے آ گیا ہے اس جھوٹ پر ازرہ مروت بھی وہ نادم نہیں ہوتیں۔ مقدمات چل رہے ہیں اور شریف خاندان ڈھنگ کا ایک ثبوت اپنے حق میں نہیں لا سکا۔ انجام نوشتہ دیوار ہے۔ اب کوشش یہ ہے کہ اول اداروں کو دھمکاکر بلیک میل کیا جائے ۔ساتھ ہی خوفناک کرپشن اور لوٹ مار کے مقدمات کو نظریے اور عزیمت کا عنوان دے دیا جائے تاکہ کل کو اپنے حصے کے بے وقوفوں ہی کو نہیں عالمی برادری کو بھی کہا جا سکے کہ دیکھیے ہمارا اصل جرم کرپشن تو تھا ہی نہیں ۔ مقامی اسٹیبلشمنٹ کی انگلی پکڑ کر سیاست میں اترنے والے نواز شریف اب عالمی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔یہ انہی کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں۔وہ غالباً یہ سمجھ رہے ہیں کہ مقامی اسٹیبلشمنٹ سے طلاق بائنہ کے بعد بین الاقوامی اسٹیبشلمنٹ کے حرم کی کنیز بن کر سیاست کے میدان میں فتوحات کے جھندے گاڑے جا سکیں گے۔رد عمل کی بیمار نفسیات میں مبتلا چند مشیروں کے مشورے ہی ان کی کل فکری متاع نہ ہوتے اور انہیں خود بھی مطالعے سے کچھ رغبت ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا یہ ممکن نہیں۔ عالمی قوتیں فوج سے نفرت کی اپنی الگ وجوہات رکھتی ہیں اور نواز شریف کے اپنے سیاسی مسائل ہیں۔ہدف مگر ایک ہے۔عالمی قوتوں نے شام ، عراق، افغانستان ہر سو تباہی مچا دی اور پاکستان میں بھی انارکی کے جملہ لوازمات موجود ہیں لیکن فوج سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اس نے فاٹا بھی سنبھال لیا اور کراچی بھی۔فوج کمزور ہو تو عالمی طاقتوں کو اپنا کھیل کھیلنے میں آسانی ہو اور فوج دفاعی پوزیشن میں کمزور مقام پر کھڑی ہو جائے توشا ہ عالم کی کامل اور مکمل اقتدار کی خواہش پوری ہو جائے۔ اس سفر میں نواز شریف کو فکری زاد راہ بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔ وہ دانشور جن کے فکری شجرہ نسب میں کسی نہ کسی این جی او یا غیر ملکی اداروں کا نام آتا ہے وہ شمشیر بکف نواز شریف کے دفاع کے لیے میدان میں موجود ہیں۔یہ وہ بے شرم لوگ ہیں جو ہمیشہ دوسروں کی آنکھ سے پاکستان کو دیکھتے ہیں۔یہ کھینچ تان کے ہر معاملے میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور امریکہ اور مغرب کی ہر حرکت کا دفاع کرتے ہیں۔یہ سارا گروہ آپ کو نواز شریف کے ساتھ کھڑا نظر آئے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ صرف یہ معلوم کر لیجیے کون کس غیر ملکی ادارے کے لیے کام کر رہا ہے۔ چیئر مین نیب نے گرفتاری کے لیے نہیں صرف تفتیش کے لیے ایک پریس ریلیز جاری کی تو ان کی چیخیں نکل گئیں اور کہا استعفیٰ دو، تم نے ہماری کردار کشی کی ہے اور یہاں نواز شریف اپنی ریاست پر فرد جرم عائد کر رہے ہیں۔ ’’ کیا ہمیں اجازت دینی چاہیے کہ کوئی یہاں سے بمبئی جا کر ایک سو پچاس لوگوں کو مار دے‘‘۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ کس نے اجازت کی؟ کب اجازت دی؟ نواز شریف کہنا کیا چاہتے ہیں۔ اس سارے قصے میں تو ابھی بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب بھارت نے نہیں دیا۔ آپ کو اڑتا تیر بغل میں لینے کی کیا بے تابی ہے۔معاملہ اتنا سادہ نہیں ۔ یہ سوال اٹھانا کہ کیس کیوں نہیں آگے بڑھ رہا در اصل ریاست کو شریک جرم ٹھہرانے کے برابر ہے۔کیا نواز شریف کو علم نہیں تھا اس کیس کے آگے بڑھنے میں کیا قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ مرکزی ملزم کو تو بھارت پھانسی دے چکا۔ تفتیش میں بھارت ہم سے تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں پاکستان کیا کرے؟جب میاں صاحب وزیر اعظم تھے کیا تب انہوں نے وزارت داخلہ، خارجہ اور وزارت قانون سے پوچھنے کی زحمت کی کہ کیس پر پیش رفت کیوں نہیں ہو رہی۔دنیا بھر میں ریاستیں کیا کچھ نہیں کرتیں۔ خود بھارت کیا کچھ نہیں کر چکا۔کیا کبھی ان کے کسی وزیر اعظم نے اس طرح کا بیان دیا؟ سیاچن پر بھارت کا حملہ بھی اسی طرح شملہ معاہدے اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی تھی جیسے کارگل کو کہا جاتا ہے۔لیکن نواز شریف نے فرمایا کارگل آپریشن کر کے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا۔ سیاچن آپریشن سے کیا کسی بھارتی وزیر اعظم کو بھی لگا کہ اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا تھا۔پاکستان کی کرکٹ کو کس نے تباہ کیا؟ کیا کسی بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہم نے برا کیا ؟تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی کون کرتا رہا؟ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے کون ہے؟ کیا کبھی مودی کی والدہ محترمہ نے نواز شریف کی ساڑھی (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں) زیب تن فرما کے کہا کہ مودی پتر یہ کلبھوشن وہاں کیا لینے گیا تھا؟خطے میں تنازعہ کی وجہ کشمیر ہے اور بھارت اقوام متحدہ میں کیے گئے وعدوں سے مکر چکا کیا کسی بھارتی وزیر اعظم کو اس کا افسوس ہوا؟ ایک مشکوک صحافی کو پروٹوکول کے تقاضے پامال کرتے ہوئے ایئر پورٹ پر شرف ملاقات بخشا گیا اور ریاست پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔اب بھارت نے نواز شریف کے بیانات کی نقول امریکی کانگریس کو بھجوا دی ہیں۔اقوام متحدہ میں بھارت کے مندوب اکبر الدین نے کہا نواز شریف نے بھارت کے موقف کی حمایت کی، ہم اس جرات مندانہ موقف پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔خلط مبحث کے لیے کہا جا رہا ہے ایسا ہی بیان نواز شریف سے قبل فلاں فلاں شخصیات بھی دے چکیں تو سوال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے ایسا اہتمام پھر صرف نواز شریف کے بیان پر ہی کیوں؟ تازہ ترین ارشاد یہ ہے کہ ہمیں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ واقعی آپ کو حب الوطنی کے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ۔آپ کو صرف کسی اچھے نفسیاتی معالج سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پڑا ہے اور آپ سے زبان نہیں سنبھالی جا رہی

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *