آخری پانچ گیند یں

ا میں اور میرے ساتھی بیچ سڑک پر کرکٹ کھیلنے میں مست تھے۔ سجاد ااحمد اپنی باولنگ کی آخری گیندکرانےکے لیے دوڑ رہا تھا، جاوید احمدنے اپنا بیٹ سنبھالا اور اس اُوور کی آخری گیند کھیلنے میں اس نے کافی دلچسپی کا مظاہرہ کرنا چاہاتھا کیوں کہ دوسری جانب سے اس کا ساتھی کھلاڑی بیٹنگ میں کمزور تھا، اس اُوور کی آخری گیند پر اگر ایک رَن بن جاتا تو جاوید اگلے اُوور میں پھر سے بیٹنگ کرتا۔ اس کشمکش کی صورت حال میں جاوید ابھی بیٹ سنبھال کر سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک گاڑی نمودار ہوئی، جس میں چند فوجی سوار تھے، دو عدد فوجی تو گاڑی کے باہر سے ہی کھڑے تھے، چنانچہ عام ہڑتال کی وجہ سے سڑک پر کوئی آمد ورفت نہیں تھی اسی لیے ہم نے اس کا فائدہ اٹھا کر یہاں کرکٹ کھیلنے کا پروگرام بنایا۔
چنانچہ فوجی گاڑی ہونے کی وجہ سے ہم نے بیچ سڑک پرپِچ کے بدلے رکھے ہوئے چند ڈبے اٹھا لیے تاکہ گاڑی سڑک سے گزر ے اور ہم پھر سے کرکٹ کھیل سکیں۔ اُوور کی آخری گیند ابھی باقی ہے اور فوجی گاڑی پُرامن طور سے نکل گئی اور جاوید نے بلا سنبھالا اور آخر کار اس آخری گیند پر ایک نہیں بلکہ تین رَن بنا کر نہ صرف سکور میں اضافہ کر ڈالا بلکہ اگلے اُوور کے لیے اپنی بیٹنگ کی راہ ہموار کر لی۔ جاوید بیٹنگ پچ پر موجود ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ اب باولنگ اٹیک کس کی طرف سے ہو گا۔ کیوں کہ یہ اُوور اس میچ کا آخری اُوور تھا جس میں جیت کے لیے پندرہ رَن درکار تھے۔ اس بار آخری وکر نے کے لیے عرفان سامنے آیا، اپنی باولنگ کی اچھی کارکردگی دکھانے، میچ کو جتانے کے لیے وہ فیلڈنگ ادھر سے اُدھر سجا رہا تھا، کیوں کہ یہ اُوور اس میچ کی کایا پلٹے والا تھا، اس اُوور سے یا تو کامیابی حاصل ہو جانی تھی یا ناکامی۔ ادھر بیٹسمین جاوید بھی جیت حاصل کرنے کے لیے سوچ رہا تھا کہ کس طرح پندرہ کا سکور اس آخری اُوور کی چھ گیندوں پر کیا جائے۔ باولر نے بیٹسمین کو پہلی ہی گیند پر چکما دیا۔ اب پانچ گیندوں پر پندرہ رن درکار ہیں۔ اگلی گیند کی تیاری تھی کہ اچانک پھر سے وہی فوجی گاڑی جو اس سے قبل یہاں سے گزر چکی تھی پھر دور سے دکھائی دی۔ لیکن اس بار گاڑی تیز رفتاری کے ساتھ آرہی تھی، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سڑک پر موجود کھلاڑیوں کو ہی روند ڈالے، چنانچہ ہم نے ڈبوں سے بنایا ہوا پچ اٹھانا ہی چاہا تھا فوجی گاڑی میں مزید تیزی آگئی تو ہم نے پچ کو چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کی راہ لینے میں اپنی خیریت محسوس کی۔ میرا گھر سڑک سے تھوڑا ہی دور تھا لیکن بیٹسمین جاوید کا گھر پچ کے قریب پندرہ میٹر کی مسافت پر ہی تھا، اس نے بھی تیز تیز قدموں سے اپنے گھر کی راہ لی۔ وہ گھر میں داخل ہوا اور دروازہ بند کر دیا۔ میں ابھی گھر کی دہلیز پر نہیں پہنچ پایا تھا البتہ اپنے گھر کی گلی میں پہنچ چکا تھا…، فوجی گاڑی رُکی اور سیدھے جاوید کے گھر میں داخل ہو گئی۔ ایسے داخل ہوئی کہ گھر والے دہشت کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ پا رہے تھے، گھر میں موجود جاوید کا باپ فوجیوں کے پاس آیا اور بڑے ہی ادب واحترام کے ساتھ کہنے لگا کہ ’’کیا بات ہے؟‘‘ جواب میں فوجی کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان سامنے آیا جو زور زور سے کہہ رہا تھا کہ ’’افغانی کہاں ہے، اسے کہاں چھپایا؟‘‘
جاوید کے والد صاحب نے گھر میں کسی افغانی کے نہ ہونے کی بات کی تو فوجی اہلکار نے ادھر اُدھر توڑ پھوڑ کر کے گھر میں موجود سب کو سامنے آنے کو کہا، جاوید کے والد نے کہا کہ یہاں میرے گھر میں، میں، میری اہلیہ، میرے تین بیٹوں کے علاوہ ہمارا ایک ملازم ہے، انہوں نے سب کو منادی دی، جوں ہی بیٹسمین جاوید سامنے آیا تو فوجی اہلکاروں نے اسے گھر سے باہر لے جانے کی بات ہی نہیں بلکہ گھسیٹ کر لے گئے، جاوید کے والد نے وجہ پوچھی تو فوجیوں نے باہر سڑک پر موجود گاڑی میں سوار مخبروں کے سامنے جاوید کو حاضر کرنے کی بات کی۔ چنانچہ جاوید جوں ہی گھر سے اس شناخت پریڈ کیلیے نکلا، بھارتی فوجی اہلکار نے اس کے سر میں گولی مار دی… جاوید گولی لگنے سے وہیں پر گر پڑا… والد کو کیا معلوم کہ جاوید کو گولی مار دی گئی ہے… اسے گھر میں رکنے کو کہا گیا تھا کہ باہر جاوید کو پریڈ کے لیے لے جانا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ افغانی ہے یا نہیں۔ بہرحال فوجی اہلکاروں نے جاوید کو گھسیٹ کر گاڑی میں بھر دیا، جاوید جسے ’’افغانی‘‘ کا بہانہ بنا کر خون میں لت پت کر دیا گیا۔ گھر والے جوں ہی باہر نکلے تو سب کچھ تہس نہس دیکھا، مین گیٹ پر سے ہی خون ہی خون… جس میں جاوید کی شہادت کی خوشبو آرہی تھی۔ علاقہ میں موجود سب لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے اور فوجی گاڑی فرار ہو چکی تھی۔
وہ کرکٹ میچ جس کی پانچ گیندوں پر پندرہ رن بنانے کے لیے جاوید پِچ پر کھڑا تھا، اب تک ادھورا پڑا ہے… آج تک وہ میچ مکمل نہیں ہو پایا اور نہ ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ جاوید کا بدل کوئی نہیں … جاوید اپنی مثال آپ تھا۔ علاقے کے کھلاڑیوں میں ان کا اپنا ایک نام بنا ہوا تھا… یوں میچ ادھورا ہی رہا اور آج تک یوں ہی پڑا رہا ہے۔
نوٹ : یہ کہانی ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے. مقبوضہ کشمیر کے ناجانے کتنے جاوید میچ ادھورے چھوڑ گئے ہیں۔

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *