چلم جوشٹ ایک تاریخی تہوار۔۔۔ اے وسیم خٹک

ہر سال کی طرح اس سال بھی چترال کی وادی کیلاش میں چلم جوش تہوار منانے کے لئے تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں ـ ملک بھر سے سیاح اس تہوار کے لئے انتظار کرتے ہیں ـ جس میں وہ شرکت کرنے کو بے چین ہوتے ہیں ـ ایک دفعہ جو کیلاش کی خوبصورتی کو آنکھوں میں بسا لیتا ہے وہ دوبارہ جانے کی چاہ ضرور رکھتا ہے، ـ وہاں کی خوبصورتی خاص کر پرکشش خواتین کی موجودگی دوبارہ سہ بارہ سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہے ـ ہر بندے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کیلاش میں صدیوں سے آباد کیلاشیوں کا سالانہ تہوار ”چلم جوش“ ضرور دیکھے۔ شروع کیلاش میں منائے ـ کئی سال پہلے کیلاش جانا بہت اسان ہوا کرتا تھا مگر اب کیلاش میں بھی آرمی کی انٹری ہوگئی ہے جو وہاں پر حالات کی خرابی کے باعث تعینات کئے گئے تھے ـ اب اس میں کس حد تک سچائی ہے کہ واقعی وہاں طالبان نے حملہ کیا تھا یا یہ ایک سازش تھی کہ کسی طرح فوج کی کیلاش کی وادی میں بھی تعیناتی عمل میں لائی جائے مـ کیلاش میں پہلے میڈیا کو مکمل آزادی تھی اب کوریج کے لئے جانا ایک عذاب سے کم نہیں ہے ،ـ ڈپٹی کمشنر چترال اور آرمی کے کرتا دھرتاؤں سے اجازت لینی پڑتی ہے، ـ خاص دن جب تہوار کا آخری دن ہوتا ہے اس دن تو میڈیا کو بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی اس میں اب زیادہ تر فوجیوں کے خاندان والے کیلاشیوں کا مخصوص رقص انجوائے کرتے ہیں ـ۔

کیلاش میں چلم چوش تہوار ہر سال موسم بہار کی آمد پر13مئی سے 16مئی تک منایا جاتا ہے۔ اسے پاکستان کے سب سے رنگین اور مشہورتہوارکی حیثیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ اس تہوار کو دیکھنے ہر سال ہزاروں سیاح وادی کیلاش کا رخ کرتے ہیں۔ یہی وہ تہوار ہے جو وادی کیلاش کی روز مرہ زندگی اور وہاں کے انوکھے رہن سہن کو دنیا بھر میں شہرت بخشنے کابڑا سبب ہے۔

وادی کیلاش پاکستان کے برفیلے علاقے چترال کے قریب واقع ہے جو تین تین وادیوں ، ”رمبور“، ”بریر“ اور” بمبوریت“ پر مشتمل ہے ۔پاکستان کا انتہائی شمال مغربی حصہ ہے۔ موسم بہار کی  آمد کے ساتھ ہی تینوں وادیوں میں چلم جوش کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں لیکن تہوار کے خاص تین دن تمام مرد و خواتین وادی بمبوریت میں جمع ہوجاتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے ”چلم جوشٹ“ کہتے ہیں۔

اگر کیلاشہ کی تاریخ کی جانب نظر دوڑائیں تو یہاں کے لوگ اس دور میں بھی انتہائی سادہ زندگی گزار رپے ہیں اور یہاں کے باشندے صدیوں پرانی روایات کے مطابق زندگی بسر کر نے میں مصروف ہیں۔ کیلاش کے لوگوں نے اپنی پرانی روایات کو مذہب کی طرح اپنایا ہواہے۔اسی سبب سیاحوں کے لئے ان کی شادیاں، اموات، مہمان نوازی، میل جول، محبت مذہبی رسومات اور سالانہ تقاریب وغیرہ انتہائی دلچسی کا باعث ہیں۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو سیاحوں کو چترال اور خاص کر وادی کیلاش کی سیر کی دعوت دیتی ہیں۔

گزشتہ سال ہمیں چلم جوش دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا جس نے دوبارہ امنگ پیدا کردی ہے کہ اس دفعہ پھر کیلاش کی وادی کے سحر میں کھویا جائے مگر چونکہ انہی دنوں رمضان کی شروعات ہورہی ہے اس لئے یہ  ناممکناتوں میں شامل ہوگیا ہے ـ مقامی افراد چلم چوشٹ تہوار کیلئے کافی پہلے سے اوربہت سی تیاریاں کرکے رکھتے ہیں۔ مئی کا مہینہ شروع ہوتے ہوتے یہاں ہر طرف سبزہ اگ آتا ہے اور چار سو خوشبوں کا ڈیرہ پڑجاتا ہے۔ ندیوں اور دریاؤں میں پگھلتی ہوئی برف کا شفاف پانی موج زن ہوتا ہے جبکہ پہاڑوں پر سبز جنگلات کے بیچوں بیچ برفانی شیشوں سے روشنی منعکس ہوتی ہے ۔ یہ منظر علاقے کو نہایت دلکش اور قابل دید بنا دیتا ہے۔

 

وادی کیلاش میں چلم جوشٹ کو مذہبی تقریب کا درجہ حاصل ہے۔ اس دن خاص اہتمام کے ساتھ کھانے تیار کئے جاتے ہیں ۔ تہوار کے پہلے روزآپس میں بکری کا دودھ بانٹا جاتا ہے ہے۔ علاقے کے بزرگ لوگ ہی یہ دودھ اکٹھا کرسکتے ہیں ۔ پھر اس دودھ کو مقررہ مقام پر لایا جا تا ہے ۔ عام افراد دودھ کے حصول کیلئے قطاروں میں لگ کر اس کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ دودھ ایک تبرک سمجھا جاتا ہے لہذا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم ایک گھونٹ دودھ اسے ضرور ملے۔سب سے پہلے نو مولود بچوں کو دودھ پلایاجاتا ہے ۔پھر دوسرے بچوں کی باری آتی ہے۔ اس کے بعد نوجوانوں ، جوانوں اور بڑوں کو تھوڑا تھوڑا دودھ پینے کے لئے دیا جاتا ہے ۔تمام افراد کو دودھ پہنچا کر اس تقریب کا باقاعدہ افتتاح ہوتا ہے۔ اس کے بعد قبیلے کے بزرگ کھلے آسمان تلے روٹی پکاتے ہیں جست تمام افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس روٹی میں ہر قسم کے آٹے کے علاوہ علاقے میں پائے جانے والے تمام میوہ جات بھی ڈالے جاتے ہیں جویہاں کی ایک سوغات بھی ہے۔

روٹی کھانے کے بعد تمام مرد و زن مذہبی مقام ”جسٹک خان“ کے سامنے سے گزر کر ایک مخصوص میدان میں آتے ہیں جہاں خواتین ڈھول کی تاپ پر ناچتی اور گاتی ہیں ۔ مرد حضرات اوروادی میں آنے والے سیاح ارد گرد بیٹھ کریہ منظر دیکھتے اور داد دیتے ہیں۔یہ عمل شام ڈھلے تک جاری رہتا ہے پھر جیسے ہی سورج نیچے اترنا شروع کرتا ہے یہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ کیلاش کی ثقافت میں خواتین کو منفرد مقام حاصل ہے ۔ گھر کے تمام فیصلے خواتین کرتی ہیں۔ گھر بار، مویشیوں کی دیکھ بھال،کاشتکاری، ہر قسم کا حساب کتاب۔۔ سب خواتین کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔یہاں کی خواتین وادی کی مخصوص ثقافت اور تہذیب کی پہچان ہیں۔ خواتین کا کالا لباس، سر پر مخصوص دم دار ٹوپی اور گلے میں موتیوں کے ہار انہیں پوری دنیا سے الگ پہچان دیتے ہیں ۔

چلم جوش کا آخری دن نہایت اہم ہوتا ہے۔ سہ پہر کو جب کیلاش قوم ایک میدان میں جمع ہوتی ہے تو تمام خواتین خواہ کسی بھی عمر کی ہوں پھر سے ناچنا اور گانا شروع کردیتی ہیں۔ مرداور تماش بین نظارہ کرتے ہوئے ارد گرد کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس وقت کچھ مذہبی پیشوا ایک مقام پر اکھٹے ہو کر ہاتھوں میں پودوں کی سبز شاخ اٹھائے ہوئے میدان کی طرف آتے ہیں۔ تمام خواتین ان کو سلامی پیش کرتی ہیں۔اب وہ آخری مرحلہ آتا ہے جوبلکہ منفرد ہے۔ یہ موقع محبت کا سر عام اظہار ہے۔ ایک دوسرے سے محبت کرنے والا لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، ایک دوسرے کاہاتھ تھامتے ہیں۔  اور شادی کا اعلان کرتے ہیں۔ چند ہی لمحوں میں میدان شادی کے خواہش مند نوجوان جوڑوں سے بھرجاتا ہے۔ لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ہنستے ہیں، چیختے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔تمام جوڑوں کے میدان سے نکلنے کے بعد شرکاء باری باری ان جوڑوں کے گھروں میں جا کر مبارک باد دیتے ہیں اور یوں وادی میں بہار کا افتتاح ہو تا ہے۔ کیلاشوں میں تقریباً ہر شادی محبت اور ہم خیالی کا آئینہ دار ہوتا ہے اور یہ یہاں کی ایک خوبصورت داستان بھی ہے۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *