غداری کا مرض اور طب عسکریہ سے اس کا حل۔۔۔معاذ بن محمود

ہم قوم کے طبیب ہیں۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ہم دور جدید کے ڈاکٹر ہیں؟ نہیں۔ اب ایسا بھی نہیں۔ ہم بس قومی بیماریوں کا شافی علاج بذریعہ طب عسکری کرتے ہیں۔ وہ جو ہم میں سے نہیں، ہمیں قومی سرجن بھی کہتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ہم اپنے مقصد کے لیے جب چاہیں قوم کا پِتہ، معدہ، لبلبہ، کڈنی یا اپینڈکس نکال باہر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نسبت سے ہمارا خود غرض سرجن ہونا مشہور ہے۔ لیکن یہ حقیقت نہیں۔ ایک زمانہ ہوا مگر ہم اپنے ہی ایک طبیب کا علاج پھٹنے والی آم کی پیٹی کے ذریعے کر چکے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ ہم خودغرض نہیں۔ ہماری ہر سرجری ہر آپریشن وسیع تر قومی مفاد میں کیا جاتا ہے۔ ہم غازی ہیں۔ ہم اللہ کے پراسرار بندے ہیں۔ اتنے پراسرار کہ ہمیں نامعلوم افراد بھی کہا جاتا ہے۔

قوم پیدائش کے وقت بہت کمزور حالت میں تھی۔ قوم کے بابا نے ہمارے اجداد کو طب سے دور بیرکوں میں رہنے کا حکم دیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ قوم قوت مدافعت کی افزائش کرے اور خود اپنے پیر پہ جلد سے جلد کھڑی ہو۔ ہمارے اجداد چونکہ ہمارے ہی اجداد تھے لہذا بابا کے دنیا سے کوچ کرتے ہی ہم نے اس ناتواں قوم پہ اپنی طب عسکری کی پریکٹس شروع کر دی۔ ہم نے ابتدا فاطمہ جناح نامی قضیے سے نجات پا کر کی۔ ملک کے وسیع تر قومی مفاد میں ہم نے اس بیماری زدہ حصے کو کاٹ کر پھینک دیا۔ الحمد للہ۔ ثم الحمد للہ ہم کامیاب ہوئے۔

کچھ ناعاقبت اندیش افراد کہتے ہیں ہمارا کام بیرکوں میں ہے لہذا ہمیں قوم پہ اپنی طب کی پریکٹس ترک کر دینی چاہیے۔ ہماری طب کے مطابق ایسی باتیں کرنے والا قومی حصہ انتہائی مہلک بیماری میں مبتلا ہے جسے ہم غداری کا نام دیتے ہیں۔ ہمارے پاس اس بیماری کے کئی حل ہیں۔ قلیل المدت حل وقتی طور پہ لاپتہ ہونے کا دردناک انجیکشن ہے۔ اس انجیکشن کی تکلیف بہت ہوتی ہے مگر ستر فیصد غدار اس انجیکشن کے لگتے ہی بدل جاتے ہیں اور اپنی ہسٹیریائی حالت سے باہر آجاتے ہیں۔ چند بیمار البتہ اس انجیکشن کے باوجود غداری کے جراثیم ختم نہیں کر پاتے۔ ایسے لوگوں کے لیے نامعلوم گولی اگلا مرحلہ ہوتی ہے۔ یہ گولی ایک بار کان کے قریب سے “شوں” کر کے گزرتی ہے تو بیمار فوری طور پر حب الوطنی کا نروان  پا لیتا ہے۔

یہ دونوں طریقے قوم کے کمزور حصوں پہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر صحافی، انسانی حقوق کے علمبردار، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے دوست وغیرہ۔ تاہم قوم کا ایک طبقہ ایسا ہے جو انتہائی صحت مند ہونے کی وجہ سے ان دونوں طریقوں کو مات دیتا ہے۔ یہ طبقہ سیاستدان کہلاتا ہے۔ الحمد للہ ہماری ستر سالہ ریسرچ و تجربات کے بعد ہم اس طبقے کا شافی علاج کرنے کے قابل بھی ہوچکے ہیں۔

سیاستدانوں کے لیے ہمارا پہلا علاج اپوزیشن کی کڑوی اکسیر ہوتی ہے۔ یہ بیمار سیاستدانوں سے ذہنی ہم آہنگی نہ رکھنے والوں کی دی جانے والی پھکی ہے جس کا اثر سیدھا بیمار پہ پڑتا ہے۔ بیمار سیاستدان ذہنی طور پہ اس قدر مصروف ہوجاتا ہے کہ اسے ہم قومی عسکری طبیبوں کو بیرک بھیجنا یاد ہی نہیں رہتا۔ یہ طریقہ نئے سیاستدانوں پہ بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔ بالفرض یہ پھکی آزمودہ ثابت نہ ہو تو اگلی ڈرپ ہم کرپشن سکینڈلز کی لگاتے ہیں۔ اس کام کے لیے ہمارے پاس انتہائی پیشہ ور اینکرز اور میڈیا ہاؤسز ہیں جو غداری کے مریض سیاستدان کو تھام کر کرپشن سکینڈلز کی ڈرپ لگاتے ہیں۔ یہ بھی انتہائی آزمودہ نسخہ ہے تاوقتیکہ مریض انتہائی ڈھیٹ نہ ہو۔ علاج کے اگلے مرحلے میں ہم ایک آپریشن کرتے ہیں جسے دنیا تختہ پلٹنے سے تعبیر کرتی ہے۔ یہ آپریشن پوری قوم کے لیے تکلیف دہ تو ہوتا ہے مگر اس سے غداری کے مریض کم سے کم دس سال تک بالکل ٹھیک رہتے ہیں۔ اس طریقے پہ البتہ دنیا بھر سے ردعمل آتا ہے اور ہم عسکری طبیبوں تک کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔

حال ہی میں ہم نے سیاستدانوں کے علاج کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ اس طریقے کا نام ہم نے “آزاد عدلیہ” رکھا ہے۔ اس طریقے کے تحت ہم سیاستدانوں کے آگے انصاف کا چارہ ڈالتے ہیں جسے دیکھتے ہی سیاستدان اسے حاصل کرنے قریب آتا ہے۔ قریب آنے پر انتہائی خوبصورت عظمی دکھائی دیتی ہے جو سیاستدان کو خود کو فتح کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ عظمی کہتی ہے میں اپنا سب کچھ تم پر وار دوں گی مگر مقدمے کے انجیکش کے بعد۔ انصاف اور عظمی دونوں کو پانے کے لالچ میں سیاستدان قریب آتا ہے اور عظمی کے بستر پر لیٹ جاتا ہے۔ اب سیاستدان کو مقدمے کا انجیکشن لگانے کا عندیہ دیا جاتا ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ انجیکشن کا نام سن کر سیاستدان خود سے الٹا ہوجاتا ہے اور اپنا سب کچھ ظاہر کر دیتا ہے، حالانکہ ہمارا ارادہ تھوڑے بہت حقائق کی بنیاد پہ ہسٹری لینا ہوتا ہے۔ مقدمے کا ٹیکہ لگتے ہی پچھواڑے پہ نااہلیت کا داغ لگا دیا جاتا ہے اور پھر سیاستدان کسی قابل نہیں رہتا۔

الحمد للہ۔ نصر من اللہ و فتح قریب۔

یوں ہم اپنے ناپسندیدہ بیمار سیاستدانوں کو زچ کر کے اپنا ملک پھر سے فتح کر لیتے ہیں، طب عسکریہ کی پریکٹس مفت اور خوبصورت عظمی ہماری گود میں۔ یہ طریقہ حال ہی میں بہت کارآمد ثابت ہوا ہے۔

اور فرض کریں یہ طریقہ بھی کام نہ آئے تو اوپر والے نے شفاء اتنی دی ہے کہ طب عسکریہ سخت ترین امراض کا علاج بھی کر ہی لیتی ہے۔

بھٹو نامی مریض تو یاد ہی ہوگا آپ کو؟

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *