گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(12)۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

عثمان بھائی آج بہت اداس تھے۔ رات کا  ایک بج رہا  تھا ۔ کمرے کی لائٹس آف تھیں۔ نیند کا دور دور تک نام و نشاں نہ تھا۔ عثمان بھائی سوچوں میں گم فیس بک پر مٹر گشت کیے جا رہے تھے۔ شومئی قسمت آج کسی حسینہ کی Add   as  a  friend میں بھی جھلک نہیں تھی۔ اوپر نیچے گھما گھما کے بھی کہیں کوئی حسین  چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔

عثمان بھائی نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے موبائل سینے پہ  رکھا۔۔ اور چھت کو گھورنے لگے۔ ان کے ذہن میں خیالات دوڑ رہے تھے۔

“آخر میرے سپنوں کی رانی اور میرے نواسوں کی نانی ابھی تک میری زندگی میں تشریف کیوں نہیں لائی؟”
“کیا کمی ہے مجھ میں؟”

یہ بھی پڑھیں :گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(11)۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

“اچھا بھلا  R2  کا  PGR  ہوں۔ اپنا کماتا ہوں، اپنا کھاتا ہوں۔ اب تو Wagon  R  بھی لے لی ہے۔”

“فرسٹ ائیر ایم بی بی ایس سے لے کے آج تک اچھی بھلی سستیاں مارتا آرہا ہوں۔ پھر  بھی کوئی نہیں ملی ! آخر کیوں؟”

“فیس بک کی ایجاد کے زمانے سے Inbox میں قسمت آزمائی کر رہا ہوں۔ اتنا فیس بک چلائی ہے کہ زکر  برگ جانی کو ارب پتی بنوا دیا ہے۔ مگر وہ سالا ایک بھی لڑکی کی سیٹنگ نہیں کرواسکا میرے ساتھ۔”

“کیا اتنا بُرا ہوں میں؟”

“تُف ہے فیس بک پہ ، ستیاناس ہو Messengerکا۔”

عثمان بھائی خود ہی سوال کیے جا رہے تھے اور خود ہی جواب میں زور زور سے سر ہلائے جارہے تھے۔ ریزیڈنسی میں ان کا دوسرا سال اختتام پذیر ہونے کو تھا۔ فرسٹ ائیر ایم بی بی ایس سے انہوں نے ڈورے ڈالنے شروع کیے تھے اور ابھی تک ڈورے ہی ڈالی جارہے تھے۔ نتیجہ صفر تھا۔DH میں OSPE کرانے سے لے کر تھرڈ ائیر کو Methods سکھانے تک انہوں نے جان لڑا دی تھی۔ انہوں نے غالباً 6 بیچز کو اس سال بھی Methods کرائے تھے۔

وہ ایک مہرباں اور شفیق انساں کی طرح سکھاتے تھے۔ اکثر یوں ہوتا تھا کہ لڑکے جلدی چلے جاتے تھے۔ اور عثمان بھائی لڑکیوں کی فرمائش پر انہیں پڑھاتے چلے جاتے تھے۔ عثمان بھائی کا عقیدہ تھا کہ صنف ِنازک میں حصولِ علم کی پیاس بدتہذیب لڑکوں سے کئی گنا زیادہ تھی۔ اس لیے وہ ان کی پیاس بجھانا ایک اخلاقی، مذہبی، سرکاری، معاشرتی، عسکری، سیاسی، اور ذاتی فریضہ سمجھتے تھے۔ اس فریضے کی ادائیگی میں انہیں وقت کی پرواہ نہ تھی۔

ساڑھے تین بج جاتے تھے پھر بھی عثمان بھائی کے ماتھے پر تھکن کے آثار نمودار نہ ہوتے تھے۔ وارڈ میں داخل مریض اور ان کے لواحقین عثمان بھائی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے۔ وہ حیران ہوتے تھے کتنی جانفشانی سے ایک ڈاکٹر اپنے  سٹوڈنٹس کو پڑھا رہا ہے۔ ایک دو بار تو دو تین مریضوں نے اپنے اپنے بیڈز پر کھڑے ہوکر عثمان بھائی کو سلیوٹ مارنے کی کوشش کی۔

جب لڑکیاں تھک جاتیں تو عثمان بھائی ان کی آنکھوں سے اندازہ لگا لیتے تھے اور فوراً چھٹی دے دیتے تھے،باقی پیاس بجھانے کے لیے ان کا Whatsapp ہر وقت  available  ہوتا تھا۔ ایسے ہی کئی لوگوں کو فیض یاب کرنے کے باوجود کوئی پری ان کی زندگی میں بغیر پروں کے نہیں آئی تھی۔ جو بھی Batch آتا تھا، اختتام پہ سبھی پری چہرہ لوگ اُڑ جاتے تھے۔ اور عثمان بھائی اگلے Batch میں قسمت آزمانے لگتے تھے۔

لیکن اب وہ تھک گئے تھے۔ ان کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ انہوں نے اتنی بار  Methods کرا دیئے تھے کہ اب تو ان کے اسٹوڈنٹس بھی کسی مریض کو پچاس میٹر کے فاصلے سے دیکھتے ہی بتا دیتے تھے کہ اس کے Plantars ۔۔۔۔اٙپ گوئنگ ہوں گے یا Downgoing !

مگر دنیا نے عثمان بھائی کو اس کا کیا صلہ دیا تھا؟ سوائے چند Whatsapp نمبرز کے، کچھ بھی نہیں! آخر کیوں؟

انہوں نے تہیہ کر لیا آج وہ ان سوالوں کا حل ڈھونڈ کر رہیں گے۔ اچانک وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھے ۔ انہیں کچھ یاد آیا تھا۔ شاید انہیں جواب مل رہا تھا۔ انہوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ لائٹس آن کیں اور فوراً آئینے کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔

5 فٹ کا قد، ١٠ انچ کی توند، سر کےبالوں میں بالکل درمیان میں ٨ سینٹی میٹرز کا چمکتا ہوا خلا، آنکھوں کے گرد سیاہ گڑھے، گمچگی داڑھی، نیم سفید موچھیں اور لٹکتا ہوا چہرہ ۔۔

یہ عثمان بھائی تھے۔

وہ فوراً آئینے سے پیچھے ہٹ گئے اور بھاگ کے لائٹس آف کیں۔ انہوں نے اندھیرے میں  Face  Wash  ڈھونڈا اور چہرہ دھونے نکل پڑے۔ واپس آمد پہ  انہوں نے فائزہ بیوٹی کریم لگائی اور چہرے کو اچھی طرح سے رگڑنے لگے۔ اندھیرے میں کنگھی کرتے ہوئے صرف ان کے سر کا اوپری درمیانی حصہ چمک رہا تھا۔ انہوں نے سائیڈز کے بالوں کو برش میں پھنسا کر اس خلا کو پر کرنے کی  کوشش کی۔

کچھ دیر بعد انہوں نے ڈرے ڈرتے لائٹس آن کیں۔۔ اور ایک بار پھر آئینے کے سامنے آن ٹھہرے۔ وہ زبردستی مسکرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ اپنے خدوخال پر غوروحوض کرتے رہے۔

بے دلی سے لائٹس آف کر کے وہ بیڈ پہ  دراز ہوئے۔

“آخر کیوں؟”

وہ Whatsapp چلانے لگے۔ Contacts کی فہرست میں موجود پریوں کے لاسٹ سین چیک کرنے لگے۔ ایک پری چہرہ ابھی بھی آن لائن تھا۔ عثمان بھائی کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ وہ ٹیکسٹ کرنے لگے۔ کچھ بن نہیں پارہا تھا ان سے۔ آخر کار ان کا زبان زدعام جملے ان کے کام آیا۔

جاگ رہی ہیں آپ؟”

“جی پرسوں Viva ہے۔ وہی پڑھ رہی” دوسری طرف سے جواب آیا۔

عثمان بھائی کی باچھیں کھل گئیں۔ وہ کہنے لگے:
“اوہ گُڈ، Viva کی تو آپ ٹینشن نہ لیں۔”

“ٹینشن تو ہوتی ہے سر۔” دوسری طرف سے کوئی پریشان لگ رہا تھا۔

” نہیں آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔ کوئی مسئلہ ہو، میں حاضر ہوں۔ پریشان نہیں ہونا” قدردان و مہربان عثمان بھائی شفقت کا اظہار فرما رہے تھے۔

“جی سر تھینک یو”ساتھ آنکھوں میں دھڑکتے دل والا ایموجی بھی تھا۔۔

آنکھوں سے نکلتے ہوئے دل واٹس ایپ سے ہوتے ہوئے سیدھے عثمان بھائی کے دل میں پیوست ہوگئے۔ ان کی مسکراہٹ دیدنی تھی۔ انہوں نے بھی جواباً فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو عدد دھڑکتے ہوئے دل آگے پیچھے روانہ کردیئے۔

وہ مسکراتے رہے۔ اور اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے رہے۔ کچھ دیر  بعد وہ دوبارہ گویا ہوئے۔

“اگر آپ کہیں گی تو آپ کی Distinction بھی آجائے گی۔”

“کیا سرٙ ! واقعی؟”

“جی بالکل۔ آپ بس حکم کریں” عثمان بھائی کے منہ سے لعاب بہہ رہا تھا۔

“سر دیکھ لیں، جیسے آپ کو صحیح لگے۔”

“آپ بس اپنا رول نمبر مجھے سینڈ کریں اور Viva والے دن مجھے ریمائنڈ کرادینا بس ایک بار آپ۔”

“جی سر”

طیبہ جب بھی عثمان بھائی کو سر  کہہ کے پکارتی تھی، انہیں ایسا لگتا تھا جیسے ملکہ برطانیہ نے ان کو یہ خطاب دیا ہو۔ طیبہ تھرڈائیر کے آخری بیچ سے تعلق رکھنے والی پری چہرہ گڑیا تھی۔ وہ چند مزید پریوں کے ساتھ عثمان بھائی کی امیدوں کا آخری سہارا  تھی۔ اس لیے عثمان بھائی دو ماہ سے مسلسل اس کے ساتھ چِٹ چیٹ کر رہے تھے۔ انہوں نے pareps میں طیبہ  سمیت بہت سی  لڑکیوں کی بہت ہیلپ کی تھی۔ وہ باری باری سب کو سمجھاتے، ان کا حوصلہ بڑھاتےتھے۔ Papers میں عثمان بھائی نے دل کھول کر دعائیں دیں۔ اور دل کھول کر ریپلائی لیے۔

طیبہ نے ان کو اپنا رول نمبر سینڈ کر دیا تھا۔ اس کے دل میں Distinction انگڑائیاں لے رہی تھی۔

عثمان بھائی رولنمبر ملتے ہی اس کا ورد کرتے رہے۔ یہی ورد ان کا آخری سہارا تھا۔ وہ مسکراتے رہے اور رولنمبر دہراتے رہے !
جاری ہے

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *