فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ؟۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط 1

(فلیٹ ارتھرز کے 200 اعتراضات کے جوابات پر مبنی سیریز)

اب اسے انسانی فطرت کہیں یا قدرت کے قوانینِ فطرت، کہ تاریخ کے ہر میدان میں انسان 2 حصوں میں تقسیم نظر آیا ، جہاں اس کے کئی ثمرات ملے وہیں اس بٹوارے نے انسانی ترقی میں رکاوٹیں بھی ڈالیں۔ علم بھی اِن نامساعد حالات کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن رہا اور حالات کے جبر نے اسے کُندن بنا دیا ۔ آج بھی کچھ لوگوں میں یہ سوچ قائم ہے کہ سائنس چونکہ ہر آن بدلتی رہتی ہے لہٰذا اس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ، اس سوچ کے followers اس بات کو ہضم نہیں کرپاتے کہ سائنس بدل نہیں رہی بلکہ اس میں نکھار آرہا ہے ۔ اگر کسی چیز کے متعلق آپ کو شروع میں بہت ہی کم معلومات تھیں اور ترقی کے ساتھ ساتھ ان معلومات میں نکھار، پختگی اور اضافہ ہوگیا تو اس سے سائنس کا بدل جانا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ سائنس دشمنی میں اکثر فلیٹ ارتھرز نامی گروہ انتہائی سرگرم رہتا ہے اور حیرت انگیز بات ہے کہ وہ سائنس کی equations اور ڈیٹا کو توڑ مروڑ کر اپنی سائنس مخالف سرگرمیوں کو ہوا دیتے ہیں۔

ہم سب سے پہلے جانتے ہیں کہ فلیٹ ارتھرز کن نظریات کے حامل ہوتے ہیں؟
فلیٹ ارتھرز کا نظریہ یہ ہے کہ زمین گول نہیں ہے بلکہ چپٹی ہے (پلیٹ کی طرح سیدھی ہے)، کشش ثقل نام کی کوئی چیز نہیں ، اس کے علاوہ زمین کے درمیان میں North ہے جبکہ کناروں پر south ہے، مشرق اور مغرب کو آپ سورج کے طلوع و غروب ہونے کے ساتھ ایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق زمین لامحدود طور پر وسیع ہے ۔ زمین پر خشکی کا کنارہ امریکہ ، جاپان، روس اور انٹارکیٹکا ہیں، اس سے آگے لامتناہی طور  پر پانی ہی پانی ہے۔ چاند سورج انتہائی چھوٹے ہیں اور زمین کے خشکی والے علاقوں سے کچھ ہزار کلومیٹرز کی بلندی پر جلیبی کی شکل کے مدار میں گردش کررہے ہیں ، چونکہ زمین (اِن کے مطابق) سیدھی ہے لہٰذا سورج اور چاند غروب نہیں ہوتے بلکہ ایک علاقے پر سے گزر کر جب آگے چلے جاتے ہیں تو دُور چلے جانے کی وجہ سے ان کی روشنی کم ہوجاتی ہے جس کے باعث دن کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ ان کےمطابق آسمان میں ایسی گیسیں ہیں جن کی وجہ سے یہ ہمیں غروب ہوتے نظر آتے ہیں درحقیقت یہ غروب ہوتے ہی نہیں۔ اس کے علاوہ سیٹلائیٹ نامی کوئی شے نہیں ہے یہ سب ناسا کا فراڈ ہے، بلکہ دُنیا کی تمام سپیس ایجنسیاں ہی جھوٹ بول رہی ہیں۔ سورج اور چاند گرہن نہیں ہوتا یہ سورج اور چاند کی nature ہے جسے گرہن کہہ کر عوام الناس کو دھوکا دیا جاتاہے ۔ یہ ان کے چیدہ چیدہ نظریات تھے۔

کچھ دن پہلے ایک دوست نے فلیٹ ارتھرز کی جانب سے لکھی گئی 200 اعتراضات پر مبنی ایک کتاب بھیجی. آئیے دیکھتے ہیں اس کتاب میں کیا کیا اعتراضات اٹھائے گئے اور ان کے حقائق جانتے ہیں۔

اعتراض1:فلیٹ ارتھرز پہلا اعتراض یہ اُٹھاتے ہیں کہ 20 میل اوپر تک جاکر بھی افق سیدھا کیوں نظر آتا ہے؟
جواب: افق اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں اونچائی سے دیکھنے پر زمین اور آسمان باہم ملے ہوئے نظر آتے ہیں، یاد رکھیے زمین گول ہے مگر زمین کے بے پناہ وسیع ہونے کی وجہ سے محض 20 میل کی اونچائی سے زمین گول نہیں دِکھ سکتی، ہماری زمین تقریباً ہر ڈیڑھ مربع کلومیٹر تک 8 انچ curve ہوتی ہے(مُڑ جاتی ہے) ، یہ خم اتنا   معمولی ہے کہ ہماری آنکھ اس curve کو محسوس نہیں کرسکتی،25 ہزار میل (40 ہزار کلومیٹر)کے circumference پر مشتمل زمین کا خم 20 میل کی اونچائی سے دیکھا جاسکتا ہےمگر بہت واضح نہیں، لہٰذا یہ عجیب اعتراض ہے بالکل ایسے ہی جیسے کوئی کہے کہ جراثیم عام آنکھ سے نظر نہیں آتے لہٰذا وائرس بیکٹریا کچھ بھی نہیں۔

اعتراض 2:جیسے جیسے ہم آسمان کی جانب بلند ہوتے ہیں ویسے ویسے افق بھی بلند ہوتا جاتا ہے، اگر زمین گول ہے تو پھر افق کو نیچے رہ جانا چاہیے۔
جواب:ہمارے جہاز عموماً 12 کلومیٹر کی اونچائی تک جاتے ہیں ، اوپر ہم پڑھ چکے ہیں کہ(20 میل) 32 کلومیٹر تک کی اونچائی سے بھی زمین کا خم بہت واضح دِکھائی نہیں دیتا چونکہ ہماری زمین کا circumferenceتقریباً40ہزار کلومیٹر ہے لہٰذا ہمیں اگر افق سے اوپر جانا ہےا ور زمین کو گولائی دیکھنی ہے تو اس کے لئے ہمیں اتنی اونچائی پر جانا ہوگا جہاں سے زمین کا 40 ہزار کلومیٹر کا circumference یا کم از کم اس سے آدھا ہمارے سامنے موجود ہو، اس کےلئے ہمیں 400 کلومیٹر کی بلندی تک جانا پڑے گا! اس کے علاوہ افق کوئی borderنہیں جو صاف نظر آرہا ہو، افق تو صرف ہمیں تب محسوس ہوتا ہے جب ہمیں زمین آسمان دُور باہم ملے ہوئے نظر آرہے ہوتے ہیں یہ محض نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔

اعتراض 3:پانی اپنی سطح ہر جگہ برقرار رکھتا ہے لہٰذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین فلیٹ ہے۔
جواب:بالکل پانی اپنی سطح برقرار رکھتا ہے اگر کہیں لیول کا فرق زیادہ نہیں تو اس کی وجہ چاند اور سورج کی کشش ثقل ہے، زمین بہت بڑی ہے ہم نے اوپر سمجھا ہے کہ زمین اتنی بڑی ہے کہ یہ ہر ڈیڑھ مربع کلومیٹر بعد 8 انچ curve ہوتی ہے پانی کی سطح بھی (کشش ثقل کے باعث) زمین کے ساتھ ساتھ خم کھاتی رہتی ہے اور اپنے آس پاس کی زمین کے مطابق لیول بنائے رکھتی ہے۔ اگر نہیں یقین تو اچھے معیار کی دُوربین لیجئے اور سمندر کنارے پہنچ جائیں آپ کسی بحری جہاز کا اتنظارکریں جس نے ساحل پر لنگر انداز ہونا ہو، آپ دیکھ سکیں گے کہ پہلے بحری جہاز کا اوپر والا حصہ نمودار ہوگا اور وقت کے ساتھ ساتھ پورا بحری جہاز سامنے آجائے گا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے curve کے ساتھ پانی بھی curve ہوجاتا ہےاور اپنے علاقے کے حساب سے لیول برقرار رکھتا ہے۔اسی خاطر کہا جاتا ہے کہ اگر واقعی سمجھنا ہے کہ زمین گول ہے تو اس کے لئے یا تو ساحل سمندر بہترین جگہ ہے یا پھر راکٹ کا استعمال کرتے ہوئے خلاء میں جا کردیکھنا۔

اعتراض 4:دریا ہمیشہ سمندر میں جا کر گرتے ہیں، اگر زمین گول ہوتی اور سپن کرتی ہوتی تو دریا ؤں کا رخ صرف سمندر کی جانب نہ ہوتا ۔
جواب:کشش ثقل کے باعث پانی ہمیشہ اونچائی سے نیچائی کی جانب سفر کرتا ہے ، سو کشش ثقل اور frame of reference کی وجہ سے ہم سب زمین کے ساتھ گھوم رہے ہیں جس کے باعث زمین کے گھومنے کی وجہ سے پانی کے بہاؤ پر اثر نہیں پڑتا ۔ دوبارہ دہراؤں گا کہ یاد رکھیے ہماری زمین بے حد وسیع ہے، فلیٹ ارتھرز زمین کو ایک چھوٹی سی گیند کی حیثیت سے سمجھنا چاہ رہے ہیں جو کہ انتہائی مضحکہ خیر ہے۔ اسے بہت وسیع گولے کی صورت میں دیکھیے جس میں کشش ثقل موجود ہے۔

اعتراض 5:دریا بہاؤ کے دوران سطحی لیول برقراررکھتا ، جس کا مطلب ہے کہ دریا سیدھا بہتا ہے۔
جواب:زمین کے خم ہونے کے ساتھ ساتھ پانی میں بھی خم آتا ہے، لیکن یہ خم محض زمین پر بیٹھے رہنے سے عام آنکھوں سے دیکھنا ناممکن ہے ، اگر زمین پر رہتے ہوئے واضح خم دیکھنا ہے تواس کا طریقہ کار اوپر بتایا جاچکا ہے۔

اعتراض 6:پانی کبھی اندر کی طرف نہیں مڑتااگر 10 کلومیٹر طویل کوئی پانی کا چینل ہو تو اس کے دونوں کناروں پرپانی کی سطح میں فرق 8 میٹر ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
جواب:زمین کی کشش ثقل کے باعث   اپنا لیول برقرار رکھتے ہوئے پانی بھی خم اختیار کرلیتا ہے لہٰذا آپ کو پانی کا لیول دونوں کناروں پر ایک جیسا اس  خاطر ملے گا کہ 10 کلومیٹر دور دوسرے کنارے پر موجود پانی کا لیول ناپنا چاہیں گے بھی تو وہاں موجود شخص زمین کے ساتھ 8 میٹرنیچے جھُک چکا ہوگااس خاطر پانی کا لیول ویسا ہی ریکارڈ ہوگا جیسا پہلے کنارے پر ہے۔اس ضمن میں بیڈ فورڈ نامی تجربہ2 سو سال پہلے کیاجاچکاہے جب ٹیلی سکوپ کے ذریعے 9 کلومیٹر دور کھڑی کشتی کو دیکھا گیا تو اس کا جھنڈا نظر آیا جس کے بعد زمین کو گول ثابت کرنے کی طرف پیشرفت ہوئی۔

اعتراض 7:اگر زمین واقعی گول ہوتی تو سروئیر زمین کے خم کی پیمائش کی ضرورت سمجھتے مگر سروئیر ایسا نہیں کرتے۔
جواب:یہاں پر صاحبِ کتاب جھوٹ کا سہارا لینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں،سروے 2 قسم کے ہوتے ہیں ایک plane survey جبکہ دوسرا geodetic survey۔سروئیر زمین کے رقبے کے لحاظ سے سروے کا انتخاب کرتے ہیں اور بڑے رقبوں کے دوران زمین کے خم کی پیمائش کو لازمی سمجھتے ہیں ، ایسا سروے جس میں زمین کے (curve)خم کی پیمائش کو شامل کیا جائے اسے geodetic survey کہا جاتا ہے۔

اعتراض8:مصر میں موجود نہر سویز کو چپٹی زمین کے لئے بطور ثبوت استعمال کرنا۔
جواب:نہر سویز 120 کلومیٹر لمبی ہے جس کا مطلب  ہے کہ اس کے دوسرے کنارے پر تقریباً ایک کلومیٹر کا خم آئے گا فلیٹ ارتھرز کو یہ ثبوت پیش کرنے سے پہلے یہ تحقیق کرنی چاہیے کہ کیا انسانی آنکھ 120 کلومیٹر دُور دیکھنے کے قابل ہے؟ یاد رہے کہ سائنسدانوں کے مطابق انسانی آنکھ میں صلاحیت ہے کہ 48 کلومیٹر دُور جلتے شعلوں کو دیکھ سکے (اگر زمین flatہوتی) لیکن ٹیکساس کی یونیورسٹی نے 2015ء میں اس کا تجربہ کیا اور ثابت کیا کہ انسانی آنکھ زمین کے خم ہونے کے باعث زیادہ سے زیاد ہ2.76 کلومیٹر تک شعلوں کو دیکھ سکتی ہے!

اعتراض 9:انجینئر W.Winckler کا تجزیہ جس میں انہوں نے کہا کہ 50 کلومیٹر لمبی نہر میں 182 میٹر خم آجانا چاہیے۔
جواب:سب سے پہلے تو ان انجینئر صاحب کا کوئی حوالہ سوائے فلیٹ ارتھرز کی ویب سائٹس کے علاوہ کہیں سے نہیں مل پایا جس کے باعث ان کا وجود متنازعہ ہوجاتا ہے۔ دوسری بات یہ ٹھیک ہے 50 کلومیٹر لمبی نہر میں تقریباً 196 میٹرکا خم آجائے گا مگر نہر بہرحال زمین کے ساتھ ہی موجود ہے جس کا مطلب کہ زمین کے خم آنے سے نہر میں بھی خم آجائے گا ، ان تجربات کو ٹیلی سکوپس استعمال کرکے باآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔

اعتراض 10:برطانیہ میں لیور پول سے لندن کا فاصلہ تقریباً 290 کلومیٹر ہے ، دونوں شہروں کے درمیان استعمال ہونے والی ریل گاڑی کا ٹریک زمین پر کمان کی شکل میں ہونا چاہیے، اس حساب سے لندن اور لیورپول کے درمیان کے مقام برمنگھم کو 5400 فٹ اونچا ہونا چاہیے تھا مگر یہ تو سطح سمندر سے محض240 فٹ بلند ہے۔
جواب:دراصل فلیٹ ارتھرز یہ ماننے کو تیار نہیں کہ زمین گول ہے لہذا وہ سائنس کی تمام figures کو خیالی فلیٹ ارتھ پر استعمال کرکے اس کا جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ غلط ہے ۔ کسی علاقے کی اونچائی کا موازنہ وہاں موجود پہاڑوں اور زمین کی ساخت سے ہوتا ہے نہ کہ زمین کی گولائی سے، یہی وجہ ہے کہ زمین کا radius تمام جگہوں سے ایک جیسا ہی لیا جاتا ہے، دوسری بات فلیٹ ارتھرز کی تحقیق کا یہ عالم ہے کہ برمنگھم کو 240 فٹ بلند لکھ رہے ہیں جبکہ یہ 460 فٹ بلند ہے۔ اگر آپ ان کو انہی کی زبان میں سمجھانا چاہتے ہیں تو ان کی لاجک کے تحت لیورپول کو سطح سمندر سے 0 فٹ اونچا ہونا چاہیے مگر 230 فٹ اونچا ہے۔ لہٰذا یہ اعتراض انتہائی بچگانہ ہے۔
جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ؟۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط 1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *