تضادات کی شکنیں۔۔۔حسین ایم

مجھے وہ وقت یاد ہے جب وردی کو  ایسی عزت دی جاتی تھی کہ لوگ اس کی آرزو کرتے تھے اور پھر وہ وقت بھی دیکھا کہ وردی والے عوامی جگہوں پر وردی میں جانے سے کترانے لگے۔ اس درمیانی عرصے میں ایک فوجی آمر اقتدار پر قبضہ جمائے بیٹھا رہا اور اس کے آخری دنوں میں تو یہ حال رہا کہ اس کا قافلہ گزرتا تو لوگوں کو اس طرف دیکھنے کی بھی اجازت نہ ہوتی تھی۔

وردی کا ذکر اس لئے بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ حال ہی میں زور پکڑنے والی پشتون تحفظ موومنٹ کے نعروں میں سے ایک نعرہ وردی کے متعلق بھی ہے۔ میں اس حد تک ان سے اختلاف کرتا ہوں کہ وردی بہرحال اپنی آئینی حدود میں محترم ہے لیکن اس سے بڑھ کر وردی کے دفاع کی کوئی دلیل میرے پاس نہیں۔ اس سے آگے بڑھتا ہوں تو تضادات کی بند گلیاں ہیں۔ احسان اللہ احسان کا ٹی وی انٹرویو سامنے آجاتا ہے اور پھر یہ سوال کہ اسے  اس کے جرائم کی سزا دینے کیلئے کیا پیشرفت ہوئی۔ سابقہ بیڈ طالبان کے ترجمان اور موجودہ گڈ طالب کی سوچ جھٹک کر آگے بڑھتا ہوں تو پیمرا کو کی جانے والی دھمکی آمیز فون کال کی گفتگو کانوں میں گونجنے لگتی ہے۔

جمہوریت اور آزادی اظہار کے بخار میں مبتلا ایک سویلین کی حیثیت میں اگر میں یہ سمجھ بھی لوں کہ بلڈی سویلین آخر کب فوج کی قربانیوں کے معترف ہوئے ہیں تو اس کے باوجود ایک جعلی ادویات کا کیس سامنے آکھڑا ہوتا ہے جس کو دائر کرنے والا بھی ایک سابق فوجی افسر ہے اور مبینہ ملزم بھی ایک سابق جرنیل۔

یہ تضادات ہی وردی کی شکنیں ہیں جس دن یہ دور ہوں گی  اس دن ایسی کسی سینسرشپ کی ضرورت نہیں پڑے گی جس کے ردعمل میں ‘گمشدہ کالموں کیلئے انصاف’ جیسے ٹویٹس آئیں۔ تحریروں اور لہجوں کی تلخی ختم ہو جائے گی اور تب کوئی منظور پشتین بھی نہ ہوگا۔ ان تضادات کے ہوتے ہوئے اگر وردی کے تقدس میں کوئی دلیل گھڑی بھی جائے تو مقابل کی طنزیہ مسکراہٹ کے سامنے دم توڑ دے گی۔

HussainM
HussainM
جامعہ قائداعظم اسلام آباد سے سیاسیات اور بین الاقوامی امور کا ایک طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *