• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گلگت بلتستان میں لینڈریفارمز کا شوشا اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزیاں۔۔۔شیر علی انجم

گلگت بلتستان میں لینڈریفارمز کا شوشا اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزیاں۔۔۔شیر علی انجم

حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے خالصہ سرکار اور ناتوڑ قانون کے نام پر عوامی املاک کو سرکاری زمین قرار دیکر مختلف سرکاری اداروں کے نام پر انتقال کرنے کا سلسلہ گزشتہ دہائیوں سے جاری ہیں۔ ماضی میں کئی ہزار کنال عوامی چراگاہوں کو بغیر کسی معاوضے کے مختلف سرکاری اداروں کے نام انتقال کیا گیا  ہے۔ دوسری طرف عوام کو اپنے زیر استعمال ایک کنال پشتی زمین بھی اپنے نام انتقال کرنے کا اختیار نہیں۔ آج سے دس سال پہلے کی بات سے جب راقم کا اس مسئلے سے براہ راست واسطہ پڑا تو کہا یہی گیا کہ قانون انتقال 1984 سے معطل ہے لہذا جب تک حکومت کی طرف سے قانونی طور پر اس حوالے سےاجازت نہیں ملتی  ایسا ممکن نہیں ۔ اُس وقت چونکہ آگہی اتنی نہیں تھی تو ہم نے یہی سوچا شاید  ایسا ہی ہوگا لیکن بعد میں کسی جاننے والے نے بتایا کہ مقامی پٹواری کی  چند ہزار  روپے رشوت کے ساتھ ایک پرتکلف دعوت کا اہتمام کرو سب کام ہوجائے گا۔ میں نے حیران ہوکر پوچھا جب نظام ہی نہیں تو رشوت اور دعوت کے ذریعے کیسے ممکن ہے؟ تو کہنے لگے پٹواری اگر خوش ہوا تو ہر کام قانون کے مطابق ہوگا۔

راقم اپنے عزیز کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ضلع کھرمنگ موضع مہدی آباد کزبورتھنگ سرکاری ہسپتال سےمتصل پٹواری آفس میں پہنچا تو کافی دیر انتظار کرنے کے بعد موصوف پٹواری تشریف لائے ۔ آنے کا سبب پوچھا تو بتایا کہ فلاں صاحب نے ضروری کام کے سلسلے میں آپ سے بات کرنے کو کہا تھا ،جناب  سمجھ گئے، جگہ کا رقبہ معلوم کیا دوسرے دن خود تشریف لائے ہوٹل میں تواضع کی، لوکیشن کا دورہ کیا اور ایک لمبی آہ بھر کرکہنے لگے جگہ کافی بڑی ہے اور کام مشکل مگر فلاں صاحب کی  سفارش بھی ،اور میں درمیان میں پھنس گیا۔ میں نے کہا حکم کیجئے جو بھی مناسب ہدیہ ہوگا ہم دیں گے کیونکہ ندی کے کنارے آباد زمین ہرسال طغیانی پانی کی زد میں آکر تباہ ہوجاتی  ہے  اور خالصہ کے نام پر ہم ہرسال اپنی زمینوں اور اُس زمین پر موجود درختوں سے ہاتھ دھونے کے بعد معاوضے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ معاوضے نہ ملنے کا سُن کر موصوف کے چہرے میں کچھ زیادہ چمک  نظر آئی اور بڑے فخر سے علاقے کے کئی اہم شرفاء کا نام لیکر بتایا کہ میں نے ان سب کا کام کیا ہے اور آج اُن کی زمینیں اُن کے نام پر ہیں  وغیرہ وغیرہ۔ اُس وقت بھی ہم لکھتے تھے لیکن سچ کہیں تو ہم بھی روایتی طور پر مشہور ہونے کیلئے لکھا کرتے تھے۔ بہر حال جگہ  کی پیمائش کے بعد میں نے  پٹواری سے معلوم کیا کہ کس طرح آپ قانونی طور پر انتقال کریں  گے؟ جبکہ حکومت کی طرف سے قانون انتقال پر پابندی ہے تو کہنے لگے قانون انسان بناتے ہیں اور ہم قانون کو اچھی طرح جانتے ہیں، میرے اصرار پر جواب ملا کہ ہم آپکی  زمین کو پابندی سے پہلے کی تاریخ پر انتقال کریں گے اور اُس وقت کی مہر لگے گی۔ یہ سُننا تھا میں چونک سا گیا اور کچھ سمجھ میں نہ آکرہدیے کا دریافت کیا تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ کیونکہ اُس وقت وہ رقم میرے لئے بہت  بڑی رقم تھی بہر حال ہم نے ٹال مٹول کرکے اُن سے جان چھڑائی ۔لیکن معلوم یہ ہوا کہ سرکار میں بکنے والے بھی ہیں اور خریدنے والے بھی موجود ہیں۔ مگر غریب اُس وقت بھی مجبور تھے آج بھی مجبور ہیں۔ یہ سارا کھیل امیروں کا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے علاقے میں کل کے امیر آج غریب ہیں اور کل کے بالکل ہی غریبوں کا شمار آج کے صاحب مال دولت اور زمین میں کیا جاتا ہے۔ وجہ مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر لوگوں کی زمینوں کو ہتھیانا۔ خیر اُس وقت سے لیکر آج تک  کی سٹڈی میں معلوم یہ ہواکہ ہم وہ ہیں جن کو جس چیز کیلئے بولنا چاہیے  یا اُٹھنا چاہیے اُٹھتے یا بولتے نہیں۔جبکہ جہاں ہمیں خاموش رہنے کی ضرورت ہے وہاں  زیادہ اچھلتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں خالصہ سرکارکے معاملے نے سی پیک کی آمد کے بعد  زیادہ سر اُٹھایا ہے ورنہ کہتے ہیں کہ صرف سکردو ائیر پورٹ کیلئے 24ہزار سے  زیادہ کنال مقامی پٹواریوں نے بغیر کسی معاوضے کے سول ایوی ایشن کے نام انتقال کیا ہے جبکہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہاں مہاراجہ کا قانون باشندہ 1927 سٹیٹ سبجیکٹ رول نافذ ہیں۔ لیکن عوامی لاشعور نے آج نوبت یہاں تک پہنچا  دی ہے کہ گلگت بلتستان میں ہر کام کیلئے احتجاج اور لانگ مارچ کی دھمکی ضروری ہوگئی ہے۔ سی پیک کی آمد کے بعد گلگت بلتستان کے کئی داس پر حکومت نے قبضہ کرلیا کئی ہزار کنال عوامی چراگاہیں سرکاری اداروں کو الاٹ کردیں۔ اور اس معاملے میں احتجاج کرنے والوں کو شیڈول فور اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے ڈرایا دھمکایا گیا۔ مقامی میڈیا میں اس معاملےپر لکھنے والوں کے کالمز کی اشاعت پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کردی گئی یوں ایسا لگا جیسے گلگت بلتستان میں مارشل لاء یا دفعہ 144 نافذ ہے۔۔حکومت کی جانب سے عوامی چراگاہوں کی بندربانٹ کا سلسلہ نہ رکنے پر عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے اس سلسلے میں احتجاج شروع ہوا تو عوام آج بھی خالصہ سرکار کی قانونی تشریح سے غافل اور لاعلم نظر آئے۔

راقم نے ہمت کرکے اس سلسلے میں ایک کالم لکھنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں مختلف ذرائع سے گلگت بلتستان کے کئی اضلاع کے سابق ڈپٹی کمشنرز ، تحصیلدار اور پٹواریوں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں تو سب گول مال ہے۔ اُن سب کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے اور اس حوالے سے وفاق پاکستان کا موقف بھی واضح ہے بین الاقوامی قوانین اپنی جگہ موجود ہیں  لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار جو سکھوں کی  اصطلاح تھا جسے سرکاری زمین  قرار دیا گیا ۔ ان افراد کا یہی کہنا تھا قانون معلوم ہونے کے باوجود بطور سرکاری ملازم ہم نے وہی کام کیا جو ہمیں اوپر سے حکم ملتا تھا۔آج ان میں سے کئی افراد سوشل میڈیا کے ذریعے مجھ سے کنکٹ ہیں اور شناخت چھپا کر خالصہ کی غلط اصطلاع کے خلاف عوام میں  آگہی پھیلاتے ہیں۔ قصہ مختصر کرتے ہوئے اگر ہم تمام تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قوانین کو ایک طرف رکھ کر سرتاج عزیز کمیٹی کی  کچھ شقوں  کی بات کریں تو کہا گیا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس خطے کی آئینی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ۔ایسا کرنے سے عالمی سطح پر پاکستان کیلئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔لہذا گلگت بلتستان پیکج میں مزید کچھ تبدلیاں لاکر اختیارات کا کچھ حصہ اسمبلی کو منتقل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن قومی اسمبلی میں بطور مبصر بھی اس خطے کو نمائندگی نہیں دی  جاسکتی ۔میں ذاتی طور پر ہمیشہ یہی کچھ لکھتا رہا ہوں کہ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے وفادار ہیں دوسری طرف مسلسل آئینی حقوق کا مطالبہ مملکت پاکستان کیلئے مسائل پیدا کرسکتا ہے ۔لہذا اس مطالبے سے دستبرار ہونا پاکستان اور گلگت بلتستان دونوں کے مفاد میں ہے۔ کیونکہ گلگت بلتستان اور پاکستان ایک دوسرے کیلئے لازم  و  ملزوم ہیں مگر طریقہ کار دوسرا ہونا چاہیے جس میں قانونی پیچیدگیاں نہ ہوں۔

موضوع کو سمیٹتے ہوئے اگر خالصہ سرکار اور لینڈ ریفارمز کمیشن کی بات کریں تو یہ کریڈیٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور سب سے  زیادہ اہلیان بلتستان کو جاتا ہے جو اہم قومی مسئلے پر یک زبان ہوکر سڑکوں پر نکلتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حفیظ الرحمن کو بلتستان سے اُٹھنے والی ہر صدا میں فرقہ وایت نظر آتی ہے ۔جس کی اصل وجہ خود اُس کی فرقہ وارنہ سیاسی اور مذہبی تربیت ہے اور آج بھی پس پردہ تمام فیصلے فرقہ واریت کی بنیاد پر کرتے ہیں جس میں کئی اہم پروجیکٹ شامل ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی مرہون منت  آج حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور حکومت نے گلگت بلتستان میں عوامی چراگاہوں پرقبضے کرنے کے سلسلے کو لینڈ ریفارمز کمیشن کے فیصلے تک روک دیا ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ جس خطے میں پہلے ہی قانون باشندہ نافذ ہو یہاں مقامی حکومت کی طرف سے الگ سے غیرقانونی طور پر لینڈ ریفارمز کمیشن بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ جس طرح ناممکن آئینی صوبے کیلئے سال میں کئی بارقانون ساز اسمبلی سے متفقہ قراداد منظور کراتے ہیں بلکہ اسی طرح سٹیٹ سبجیکٹ قانون کی خلاف ورزی کو روکنے کیلئے قانون ساز اسمبلی سے ایک متفقہ قراداد منظور کرائیں۔ لیکن ایسا نہیں لگتا کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام کو چونا لگانا آسان کام ہے لہذا لینڈ ریفارمز کے نام پر جیسے خود وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت بیس فیصد یعنی آزاد کشمیر کے برابر کا رقبہ اپنے پاس رکھ کر باقی عوام میں تقسیم کریں گے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ حکومت کو یہ حق کس نے دیا کیونکہ اس خطے کی قسمت کا فیصلہ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک اقوام متحدہ کی نگرانی میں یہاں رائے شماری نہ ہو۔ ایسے اس خطے کی زمینوں کی قسمت کا فیصلہ بھی اُسی وقت ہوگا جب ریاست جموں کشمیر کی تقسیم یا انضمام کیلئے رائے شماری ہوگی۔

افسوس اس بات پر ہےکہ اس وقت لداخ، جموں اور کشمیر میں قانون باشندہ نافذ ہیں۔ یہاں کے زمینوں کے اصل مالک وہاں کے عوام ہیں ۔لیکن بین الاقوامی سطح پر اور UNCIP ریزولیشن کے مطابق گلگت بلتستان کی حیثیت بھی بالکل اُن خطوں کی طرح ہے۔ مگر یہاں قانون باشندہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف وزری کھلے عام ہورہی ہے بلکہ مقامی حکومت کی ایماء پر ہورہی  ہے ۔لیکن گلگت میں موجود اقوام متحدہ کے ابزرور آفس سمیت اقوام متحدہ سے لیکر انسانی حقوق کیلئے صبح شام موم بتی جلانے والوں کو  کانوں کان خبر نہیں۔ لہذا قانون کے مطابق گلگت بلتستان حکومت کی طرف سے لینڈریفارمز کمیشن محض ایک تماشا ہے جس کا مقصد گلگت بلتستان کے اہم علاقوں کو مستقل طور پر غیر مقامی افراد کےحوالے کرنا ہے۔ تاکہ یہاں کے عوام جو آج تعلیم ،صحت اور روزگار جیسی  سہولیات نہ ہونے کے ساتھ زراعت کیلئے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے جوق درجوق   پاکستان کے مختلف شہروں میں ہجرت پر مجبور ہیں اُن میں اضافہ ہو اور گلگت بلتستان کی تاریخی،جعرافیائی ،مذہبی اور ثقافتی پہچان جو ختم ہوتی جارہی ہے وہ مکمل طور پر تباہ ہوجائے اور یہ خطے تاریخ کے اندھیروں میں ایک درناک داستان بن جائے۔ لہذا حکومت گلگت بلتستان واقعی میں عوام کیلئے درد رکھتی  ہے خطے کی متنازعہ حیثیت کے مطابق سیٹٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے عملی اقدام اُٹھائیں۔

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *