کسان فورم–

کسان فورم –

روزنامہ خبریں کے دفتر لاہور میں صحافی دوست یوسف گیلانی صاحب نے کاشتکاروں کے فورم میں ایک بیٹھک کا انعقاد کیا جسکا موضوع تھا
" بجٹ 2017 اور کاشتکاروں کی معاشی حالت "
اس تقریب میں پنجاب کے کاشتکاروں کی دو بڑی تنظیموں کے اعلیٰ عہداران کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس تقریب کے خاص بات کسان اتحاد کے صدر و روح رواں جناب خالد کھوکھر صاحب اور کسان بورڈ کے سینئر نائب صدر جناب سرفراز احمد خان صاحب تھے۔ ان کے علاوہ دیگر عہداران میاں رشید احمد صدر کسان بورڈ ضلع لاہور، سردار عرفان احمد سندھو جنرل سیکرٹری کسان بورڈ لاہور اور اختر فاروق میو ڈپٹی سیکرٹری جنرل کسان بورڈ پاکستان (جو کے نداے کسان رسالہ کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں) اور کاشتکاروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے اپنے علاقے میں درپیش مسائل پر مدلل گفتگو کی۔
اس موقع پر خالد کھوکھر صاحب نے انتہائی جذباتی تقریر کی اور حکومت وقت کی زراعت پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا، اور ساتھ ساتھ بیوروکریسی کی بدعنوانیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کے اسلام آباد میں 1400 ایکڑ زمین اور ملتان میں کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی بیش قیمت زمین جو زراعت میں ریسرچ کے لیے مخصوص تھی کس طرح ملی بھگت سے رہائشی منصوبوں میں تبدیل ہوگئی اور اس کو واگزار کروانے میں کیسی کیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوران گفتگو انہوں نے اس بات پر زور دیا کے انڈیا کے ساتھ پھلوں اور سبزیوں کی تجارت فورا ًبند کر دینی چاہیے کیونکہ پاکستان میں زرعی مداخل کی قیمت میں زیادتی کی وجہ سے انڈین سبزیاں سستی اور ہماری مہنگی ہونے کے باعث منڈیوں میں پاکستانی اجناس کا کوہی پرسان حال نہیں۔
پاکستان میں سب سے پہلے ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ کے لیے فیصل آباد میں زرعی یونیورسٹی قائم کی گئی جسکے ماڈل پر لدھیانہ میں ایک یونیورسٹی بنائی گئی اور آج 2016 میں المیہ یہ ہے کے ہم اپنی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو لدھیانہ کے ماڈل پر چلانا چاہتے ہیں۔
اور اسی بحران کے نتیجہ میں 1992 میں کاٹن کی بیل جو کے 160-170 کلو کے درمیان وزنی 1 کروڑ کی پیداوار کے ساتھ پاکستان اور انڈیا ساتھ ساتھ کے لیکن 2016 میں انڈیا اسی وزن کے ساتھ 4 کروڑ بیل اور پاکستان 40-50 کلو وزن کم کرنے کے باوجود بمشکل 1 کروڑ 20 لاکھ بیلز تک پہنچا۔۔۔۔
صدر پاکستان بورڈ نے اس موقع پر حکومت سے اس بجٹ میں چھوٹے ڈیمز اور پانی کے ذخیرے بنانے پر زور دیا،
احقر نے اس بات پر زور دیا کے حکومت موجودہ بجٹ میں سائینسی بنیادوں پر کاشتکاروں کو کارڈز ( جیسے کے بے نظیر انکم سپورٹ) مہیا کرے اس معاملے میں کم از کم پنجاب حکومت کافی تیزی سے کام کت سکتی ہے کیونکہ پنجاب کی زرعی و غیر زرعی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرازڈ ہو چکا ہے جسکی بنیاد پر جتنی بھی سبسڈی، پیکج اور بیل آؤٹ کاشتکاروں تک حقیقی انداز میں پہنچے گا اور فصلوں کے مداخل کی قیمتوں میں فرق پڑنے کسان کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی کارڈ کے ذریعے سے کسان اپنی فصل کو منڈیوں میں بیچنے میں آسانی اور اگلی فصل کی تیاری احسن طریقے سے کر سکے گا۔
مہنگی اور انتہائی کم مقدار میں موجود بجلی اور مہنگے ڈیزل بھی کاشتکاروں کے نقصان کا باعث بنتا ہے جس سلسلے میں حکومت نے عرصہ چار سال قبل سولر انرجی سے ٹیوب ویل پراجیکٹ شروع کیا تھا لیکن کم از میں ایک ایسے گاؤں جس میں خود کاشت کاری کرتا ہوں 300 مربع اراضی میں صرف 2ٹیوب ویل ہیں اور وہ بھی کاشتکاروں نے اپنی جیب سے لگاۓ ہیں جن میں سے ایک احقر کا ہے۔ اس سلسے میں حکومت پالیسی کو آسان بناۓ اور اپنے من پسند لوگوں کو نوازنے کے بجاۓ اصل حق داروں تک ان کا حق پہنچاۓ۔

میاں رشید احمد نے حکومت پر زور دیا کے پیکج کا اعلانات کر کر کے حکومت نے اپنے تئیں کاشتکار کو بھکاری سمجھنا شروع کر دیا ہے پاکستان کی تقریبا ساری انڈسٹری زراعت کی مرہون منت ہے چاہے کاٹن ہو یا چمڑے کے صنعت۔
سردار عرفان احمد سندھو صاحب نے کہا کے ہم کسان جن لوگوں کو ووٹ دے کے اسمبلیوں میں پہنچاتے ہیں وہ ہی ہمارے ساتھ دغا کرتے ہیں اور اسمبلیوں میں کاشتکاروں کے حقوق تو ایک طرف وہ اپنے دور حکومت میں شاید بمشکل 5 منٹ ہی اسمبلی کی کسی کاروائی میں گفتگو کرتے ہوں گے، اور اگر اسی طرح حکومت نے کاشتکار دشمن پالیسیاں استوار رکھیں تو پاکستان بھر کے کاشتکار سڑکوں پر ہوں گے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے انہیں پارلیمنٹ یا وزیراعظم ہاؤس کا بھی گھیراؤ کرنا پڑے تو کریں گے۔
آخر میں تمام کسان تنظیموں اور کاشتکاروں نے حکومت سے اس آنے والے بجٹ میں ترامیم اور کسان دوست بجٹ کی درخواست کے ساتھ ساتھ ملک گیر ہڑتالوں جلسے جلوسوں اور احتجاج کا لائحہ عمل تیار کیا۔

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *