گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(13)۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

طیبہ کا آخری Viva ہوئے بیس دن گزر چکے تھے۔ فورتھ ائیر کی کلاسز بھی شروع ہو چکی تھیں۔ مگر ابھی تک رزلٹ نہیں آیا تھا۔ صبح نو بجے سے دل دھک دھک کرنا شروع کرتا اور رات ایک بجے UHS ویب سائٹ کا آخری بار دورہ کر کے سونا ہوتا تھا۔ کلاس کے چند نورانی نمونے وقتاً فوقتاً رزلٹ آنے کے شگوفے چھوڑتے رہتے تھے۔ طیبہ کو کنفرم تھا کہ یہ روزِمحشر نہیں بخشے جائیں گے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ طیبہ کی الجھن بڑھتی جا رہی تھی۔ اب تو اس کی ماما بھی دن میں چوبیس بار رزلٹ کا پوچھتیں اور مشکوک نظروں سے اسے دیکھتی رہتیں۔

طیبہ کو پاس فیل ہونے سے زیادہ Distinction کی فکر تھی۔ وہ روزانہ عثمان بھائی سے اس بارے میں استفسار کرتی۔ عثمان بھائی یو ایچ ایس میں اپنے ذرائع استعمال کرتے اور اسے کال کر کے کنفرم بتاتے تھے کہ اس کی Distinction پکی کرادی ہے۔ عثمان بھائی کا شکریہ ادا کرتے کرتے طیبہ کو سانس چڑھ جاتی تھی۔ پھر وہ دونوں گھنٹوں کال پر خوش گپیوں میں مصروف رہتے۔

جونہی طیبہ کو عثمان بھائی کی کالز سے فرصت ملتی،فرشتہ صفت حنان کے درجنوں ٹیکسٹ آئے پڑے ہوتے تھے۔ طیبہ اسے رپلائی کرتی۔ وہ دونوں ‘ انشااللہ، انشااللہ’ کا تبادلہ کرتے رہتے۔ سونے سے پہلے ننھی منی طیبہ حنان اور عثمان بھائی کو گڈ نائٹ بول کے آنکھوں سے نکلتے ہوئے دل بھیجا کرتی تھی۔اور اس کے بدلے میں اسے دونوں اطراف سے دھڑکتے ہوئے دل موصول ہوتے۔ اسے اپنے آپ پر رشک آتا تھا۔ اسے لگتا تھا وہ دو انسانوں کی زندگیوں میں خوشیوں کے رنگ بھر رہی ہے۔

عثمان بھائی روزانہ اسے فارماسیوٹکلز کے ‘مفتا ڈنر’ سے منتخب شدہ Selfies بلاتردد بھیجتے رہتے۔ طیبہ کو یہ دیکھ کر مسرت ہوتی تھی کہ عثمان بھائی ایک دن رمادا تو دوسرے دن شاہجہاں گرل پہ لنچ کررہے ہوتے۔ یہ سوچ کر اس کے منہ میں پانی آجاتا کہ عثمان بھائی کے پاس اتنی دولت ہے۔ عثمان بھائی اسے بھی روز باہر چل کے ڈنر کرنے کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس دعوت نامے کی رفتار میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ طیبہ بڑے پیار سے’رزلٹ کے بعد’ کہہ کے مسکرا دیتی۔

آن لائن پیرنی کی رزلٹ آنے کی ساری پیشگوئیاں اب تک غلط ثابت ہو چکی تھیں۔ اپنے تمام معاملات میں وہ پیرنی سے رجوع کرتی۔ پیرنی نے اسے ایک شافی نسخہ بتایا۔ طیبہ نے پونےدو کلو گوشت منگوا کر، سیاہ شاپر میں ڈال کر اپنے سر کے گرد نو بار زور زور سے گھما کر اپنے کزن کے ہاتھوں قبرستان میں ڈلوا دیا تھا۔ لیکن نہ رزلٹ آیا نہ Distinction. طیبہ کا اس پیرنی سے اعتماد اٹھ گیا تھا۔ طیبہ نے اسے بلاک کر دیا۔

طیبہ کا دل آج زور زور سے دھک دھک کررہا تھا۔ اس نے آج حنان کو خود ٹیکسٹ کیا:
“حنان! رزلٹ کب آرہا ہے؟”

“پتا نہیں جانو”

طیبہ کو حنان پہ  غصہ آنے لگا کہ اس کے UHS میں جاننے والے کیوں نہیں ہیں۔ طیبہ نے بےِ دلی سے موبائل سائیڈ پہ رکھ دیا۔ حنان کا ایک اور ٹیکسٹ موصول ہوا۔ وہ کہہ رہا تھا:

“لیکن طیبہ، میرے پاس ایک سکیم ہے۔”

“کون سی سکیم؟” طیبہ نے لاپرواہی سے جواب دیا۔

“استخارہ کرتے ہیں۔” حنان نے سکیم بتائی۔

” وہ کیسے، کیوں کرتے ہیں؟”

“اس سے پتا چل جائے گا کہ رزلٹ کب آرہا ہے۔”

طیبہ متوجہ ہوگئی۔ وہ اس سے استخارہ کے طریقہ کار اور افادیت پہ سوال کرنے لگی۔ حنان اسے سمجھاتا گیا۔ وہ سمجھتی رہی۔ وہ حیران تھی۔ اس نے حنان پہ غصہ کیا کہ اس نے اسے پہلے یہ نسخہ کیوں نہیں بتایا۔ آخر یہ طے ہوا کہ شام کو دونوں گوگی گارڈن میں جا کے استخارہ کریں گے۔ حنان نے اسے یہ بتا دیا تھا کہ استخارے میں دو فرشتہ صفت انسانوں کا موجود ہونا لازمی ہے۔ طیبہ نے اتفاق کیا۔ وقت مقرر کر لیا گیا۔

مغرب کے بعد دونوں گوگی گارڈن پہنچے۔ گوگی گارڈن آج بدلا بدلا سا لگ رہا تھا۔ پہلے جہاں لوگ ‘چھپن چھپائی’ کھیلا کرتے تھے، اب وہ بچے بیڈمنٹن کھیل رہے تھے۔ طیبہ اور حنان ایک محفوظ مقام کی تلاش میں ٙہٹ پر چڑھ گئے۔ مگر گوگی میں لگی فلڈ لائیٹس سے کوئی بھی دو آنکھوں والا انسان آدھا کلومیٹر کے فاصلے سے انہیں باآسانی پہچان سکتا تھا۔

طیہ کہنے لگی: “تو شروع کریں۔۔۔۔۔استخارہ!”

حنان خاموش رہا۔ اس کا چہرہ لٹک چکا تھا اور وہ غصہ ابلتی لال آنکھوں کے ساتھ لائیٹس کو دیکھ رہا تھا۔ وہ آج ایک عرصے بعد گوگی میں آیا تھا۔ اسے یہ سب دیکھ کر دکھ ہو رہا تھا۔اسے لگ رہا تھاکہ نشتر اب پہلے جیسا نہیں رہا۔

“نہیں طیبہ، یہاں استخارہ نہیں ہو سکتا۔
“ادھر بہت روشنی ہے۔ یہ روشنی استخارے کو متاثر کرتی ہے۔ استخارے کے لیے جگہ کا پُرسکون ہونا اور ہر طرح کی مصنوعی چیزوں سے ماورا ہونا ضروری ہوتاہے۔”

“پھر کیا ہو گا حنان؟”

“اب یہاں تو کچھ نہیں ہو سکتا طیبہ۔ مصنوعی روشنیاں استخارے کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔”

دونوں اداسی سے سر جھکائے بیٹھے رہے۔

“مینگو گارڈن! ہاں۔۔۔وہاں چلتے ہیں۔” حنان کا چہرہ چمک اٹھا۔
“مینگو گارڈن؟” طیبہ یہ نام پہلی بار سن رہی تھی۔

حنان نے ٙہٹ پہ بیٹھے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے اسے بتایا کہ وہ جو سامنے سے پلاٹ شروع ہوتا ہوا نظر آرہا ہے، اسے Nishtar Meme Lord نے “مینگو گارڈن” کا نام دے دیا ہے۔

‘مینگو گارڈن’ پیتھو ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ شمال میں واقع ہے۔ اس کے سرحدیں گیٹ نمبر تین سے شروع ہو کر گیٹ نمبر چار پر ختم ہوتی ہے۔

حنان اور طیبہ وہاں پہنچے۔ آٹھ بجنے والے تھے۔ ہر طرف دھند چھا چکی تھی۔ مینگو گارڈن میں کسی ذی روح کا نام و نشاں نہ تھا۔حنان کو اطمینان ہوا۔ وہ دونوں وہاں آم کےدرختے کے نیچے رکھے بینچ پر بیٹھنے لگے۔ طیبہ بیٹھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔ بینچ گیلا تھا۔ حنان نے اپنی ٹوپی اور مفلر سے اسے خشک کیا اور بیٹھ گئے۔

حنان اسے استخارے کا طریقہ کار سمجھانے لگا۔ درخت کے پاس سنگ مرمر سے بنا فوارہ تھا۔ حنان نے اسے بتایا کہ پہلے ا س فوارے کے گرد سات چکر لگانے ہوں گے۔ پھر اس کے بعد مراقبے میں چلے جائیں گے۔ پھر فوراً ہی معلوم ہو جائے گا کہ رزلٹ کب آرہا۔ طیبہ بہت خوش تھی کہ چند منٹ بعد ہی رزلٹ آنے کا بھی پتا چل جائے گا اور وہ لگے ہاتھوں Distinction بھی چیک کر لے گی۔

وہ دونوں فوارے کے قریب آ کھڑے ہوئے۔ حنان نے ایک بار پھر ہدایات دیں اور وہ آگے پیچھے چلنے لگے۔

“رکو حنان”

طیبہ نے لپک کے اس کا ہاتھ تھام لیا۔اسے خدشہ تھا کہ کہیں اِس ڈیڑھ فُٹ کے فوارے کے اردگرد چکر کاٹتے ہوئے وہ دھند کی وجہ سے حنان سے بچھڑ نہ جائے۔ حنان مسکرانے لگا۔ استخارہ شروع ہو چکا تھا۔ وہ دونوں ساتھ چکر کاٹنے لگے۔

فرسٹ ائیر کے دو طالب علم اسی وقت لائبریری سے رخصت لے کر پیتھو ڈیپارٹ سے باہر نکل رہے تھے۔ ان میں سے ایک کی نگاہ سامنے پڑی۔ اس نے دوسرے کو کہنی ماری۔ دونوں پرسکتا طاری ہو گیا۔ انہیں کچھ دھندلا دھندلا سا دکھائی دے رہا تھا۔ دونوں نے اپنے سات نمبر کے گلاسز صاف کیے اور کیا دیکھتے ہیں کہ فوارے کے ارد گرد دو سفید ہیولے چکر کاٹ رہے ہیں۔ پہلےتو انہیں کچھ سمجھ نہ آیا۔ پھر ان کا ماتھا ٹھنکا۔ پریوں کے زمین پر اترنے کی حکایات درست ثابت ہو رہی تھیں۔ یہ جان کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ نشتر میں پریاں اترتی ہیں اور ہر پری کے ساتھ ایک فرشتہ بھی فری میں اترتا ہے۔ انہیں اپنے نشترین ہونے پہ  فخر محسوس ہو رہا تھا۔ ایک بار تو ان کا دل کیا کہ جا کر ان نورانی اور دیومالائی چہروں کی زیارت کر لیں۔مگر وہ ابھی بچے تھے، چپکے سے نکل گئے۔

حنان اور طیبہ کا ساتواں چکر مکمل ہونے والا تھا۔
(جاری ہے)

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *