کرونا فقط ایک افسانہ ہے حقیقت تو کچھ اور ہے۔۔ضیغم قدیر

“میں نے خواب میں ایک تتلی کو دیکھا، اب میں جاگ گیا ہوں مگر مسلسل یہی سوچ رہا ہوں کہ کہیں میں تتلی کا خواب تو نہیں”
معروف چینی مقولہ

تو جناب اسی لاجک سے دیکھیں تو آج تک جتنے بھی لوگ مر چکے ہیں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ تو ڈرامہ کر رہے ہیں۔ ایک ایسا ڈرامہ جس کے اختتام میں ہر مرنے والا اٹھ کر ہنستے ہوئے ہماری طرف اشارہ کرے گا اور کہے گا میں تو ڈرامہ کر رہا تھا۔

ڈرامے سے ایک ہالی وڈ مووی یاد آگئی۔ نام یاد نہیں آ رہا، مگر کہانی کچھ یوں تھی کہ برلن میں دورانِ قید باپ اپنے بیٹے کو بتاتا ہے کہ یہ سب ایک ڈرامہ ہے جس کے ہم کردار ہیں۔ ہم اب جیل سے بھاگیں گے۔ ہو سکتا ہے اس ڈرامے میں ایک ٹوئسٹ آ جائے اور میں مارا جاؤں تو تم نے رونا نہیں ہے۔

قصہ مختصر قید سے بھاگتے ہوئے باپ کو گولی لگ جاتی ہے اور بیٹا یہی سمجھتا ہے کہ باپ ڈرامے میں اداکاری کرتے ہوئے مارا گیا ہے۔ اور وہ قید سے نکل آتا ہے۔

کچھ ایسی ہی نفسیات ہم میں سے بہت سے لوگوں کی بن چکی ہے۔ ہم سب ایک State of denial میں کبھی نا کبھی چلے جاتے ہیں جہاں ہم حقیقت کو حقیقت ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

جیسا کہ لڑکیاں!

لڑکیاں اکثر میکے میں شہزادیوں کی طرح رہتی ہے۔ مگر جونہی ان کی شادی ہوتی ہے تو ایک مرد ان پر اپنا حکم چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ لڑکی ، جسے ماں نے یہ کہہ کر بڑا کیا تھا کہ تم ایک شہزادی ہو۔ جب ایک چھ فٹے دوسرے انسان کے منہ سے حکم سنتی ہے تو اس کا لاشعور جو اسے “پاپا کی پرنسز ، ماں کی لاڈلی اور ایٹی ٹیوڈ والی” سمجھتا ہے وہ یہ ماننے سے یکسر منافی ہو جاتا ہے کہ یہ کون ہوتا ہے حکم چلانے والا، اور یوں رشتہ چلنے سے پہلے بکھر جاتا ہے۔

اسی طرح لڑکے!

لڑکوں کو شروع سے سکھایا جاتا ہے تم ایک حکم چلانے والے بادشاہ ہو۔ تم نے بس حکم چلانا ہے۔ لیکن جب اس مرد کا حکم ایک ساڑھے پانچ فٹ کی نازک مہ جبین ٹھکرا دیتی ہے تو وہ بھی اسی سٹیٹ میں چلا جاتا ہے۔ اور وہ پھر حقیقت تسلیم ہی نہیں کرتا۔

حالیہ وباء کے دنوں میں بھی ایک State of Daniel کے شکار لوگ ہیں۔

ان کی مختلف اقسام ہیں۔ کچھ نے جب وباء نئی نئی آئی تھی تو انہوں نے کہا کہ یہ وباء اللہ کا عذاب ہے۔ لیکن جونہی یہ وباء انکے گھر کی دہلیز پہ آئی تو انہوں نے اس کے وجود سے ہی انکار کر دیا۔

اس وجود کے سٹیٹ آو ڈینیل سے نکلے تو اب نئے سٹیٹ میں چلے گئے۔

کچھ نے اسے اب یہودی سازش کا نام دیا۔ کچھ کے نزدیک یہ وباء اللہ کی ایک  لاٹھی ہے تو کچھ نے اس وباء کو فارما کمپنیوں کی سازش کہہ دیا۔

یہ وہی سٹیٹ آو ڈینیل ہے جو ایک بچہ پیدا کرواتی ہے اور پھر اس سے جھوٹ بلواتی ہے۔ اور یہی سٹیٹ ہمیں اس وباء کے وجود سے انکاری کرتی ہے۔

جبکہ پرسوں پبلش ہونے والی تحقیق کے مطابق کرونا کے جراثیم پچھلے سینکڑوں سالوں سے ہمارے جسم میں موجود تھے۔ اور ارتقاء کر کے انہوں نے پھپھڑوں کے آر بی ڈی سائٹ کی شکل اختیار کر لی۔ یوں سمجھیں پھیپھڑے ایک تالہ تھے تو کرونا ایک چابی، مگر کسی اور تالے کی، مگر پھر ارتقاء سے انہوں نے پھپھڑے کے تالے کی شکل اختیار کر لی۔ اور اب آ کے یہ مہلک ترین ہو گئے۔

کیوں؟ تحقیق باقی ہے۔

اب اس قدرتی وباء کو تسلیم کرنا ہی دانشمندی ہے جبکہ انکار کی نفسیات میں آ کر اس سے منہ موڑنا جہالت ہے۔ جس کا ہم سب کو نقصان ہے۔

اگر انکار کی ہی بات کریں تو ہم اس کائنات کے وجود سے ہی انکاری ہو جاتے ہیں۔ یہ شعور یہ لا شعور ایک ڈرامے سے بڑھ کر کچھ نہیں جبکہ درحقیقت میں ایک تتلی کا خواب ہوں جو تتلی کے جاگنے پہ ٹوٹ سکتا ہوں۔ اگر ماننا ہے تو اس بات کو مانو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *