سمندر کا نمک ۔۔۔واحرا امبکار

بارش زمین پر پڑتی ہے تو فضا کی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا معمولی سا حصہ حل کر لیتی ہے۔ اس کی وجہ سے کاربونک ایسڈ بننے سے بارش کے پانی میں معمولی سی تیزابیت آ جاتی ہے۔ اس تیزابیت کی وجہ سے یہ زمین کی پتھروں اور چٹانوں کو توڑتی ہے۔ اس سے بننے والے آئیون ندی نالوں اور دریاؤں سے ہوتے سمندر میں چلے جائیں گے۔ ان میں سے کئی کو سمندری مخلوق استعمال کر کے پانی سے نکال دے گی لیکن کئی اکٹھے ہوتے چلے جائیں گے۔ ان میں سے جو دو سب سے زیادہ ہیں وہ سوڈیم اور کلورائیڈ ہیں۔

سمندری پانی میں نمک کا تناسب ساڑھے تین فیصد ہے اور یہ پچھلے ڈیڑھ ارب سال سے اسی سطح پر ہے۔ حل شدہ نمک کو اگر سمندر سے باہر نکال کر زمین کی سطح پر رکھا جائے تو پوری زمین پر ڈیڑھ سو میٹر اونچائی کی تہہ بن جائے گی اور اس میں سے نوے فیصد سوڈیم کلورائیڈ ہے۔ اضافی نمک دریا لے کر آ رہے ہیں لیکن یہ سمندری نمک کی مقدار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ لیکن سمندری نمک کی مقدار میں اضافہ کیوں نہیں ہو رہا، تو اس کی وجہ سالٹ سنک ہیں۔ سمندر چاہے قطبین کے قریب ہو یا پھر خطِ استوا کے، اس کی تہہ میں درجہ حرارت تقریبا ایک ہی ہے اور اس کی وجہ پانی کی خاصیت ہے۔ یہ پانی تہہ میں سپر سیچوریٹ ہو جاتا ہے یعنی مزید نمک حل نہیں کر سکتا اور پھر اضافی نمک سمندری چٹانوں کا حصہ بنتا جاتا ہے۔ دوسرا سنک سمندر کی تہہ کا لاوا ہے جو نمکیات سے ری ایکٹ کر کے انہیں پانی سے نکال دیتا ہے۔ سمندری زندگی کا بھی اس میں کردار ہے۔ دریا جتنا سوڈیم لے کر آتے ہیں، اتنا کیلشئم بھی۔ یہ کیلشئم بالآخر سمندری زندگی کے خود اور ہڈیوں کا مادہ بنے گا اور ان کے مرنے کے بعد سمندر کی تہہ کی چٹانوں میں دفن ہو جائے گا اور پانی کا حصہ نہیں بنے گا۔

ان عوامل کی وجہ سے یہ توازن برقرار ہے اور یہ ہر جگہ پر ایک سا نہیں۔ گہرے سمندروں میں یہ دریاؤں کی دوری کی وجہ سے زیادہ ہے۔ قطبین کے سمندروں میں نمک کا تناسب خطِ استوا سے کم ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ کہ گرمی کی وجہ سے تبخیر گرم علاقوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اس میں تبدیلی آ رہی ہے۔ گرم ہوتے موسم کا مطلب یہ ہے کہ گرم علاقوں میں یہ تناسب مزید زیادہ ہو گا اور پگھلتی برف کی وجہ سے ٹھنڈے علاقوں میں مزید کم۔ اس کی وجہ سے زندگی کے لئے ایک انتہائی اہم تھرموہالین سرکولیشن جو سمندری پانی کی سرکولیشن کا سائیکل ہے، وہ بدل سکتا ہے۔

وہ جھیلیں جو باقی سمندر سے کٹی ہوئی ہیں اور ان کی تہہ میں آتش فشانی عمل سے سالٹ سنک موجود نہیں، وہاں پر نمک کا سائیکل بھی موجود نہیں اور پانی میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ اس کی مثال بحیرہ مردار ہے۔

سمندر میں نمک کا تناسب کہاں پر کتنا ہے، اس کی نقشہ بندی سمندروں میں بحری جہازوں اور پلیٹ فارمز کی مدد سے پچھلے سو برس سے کی جا رہی ہے لیکن اب سیٹلائیٹ کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ اس پر ایک سیٹلائیٹ ناسا اور ارجنٹینا نے مل کر بھیجا جو 2011 سے 2015 تک یہ ڈیٹا حاصل کرتا رہا اور اس کا طریقہ یہ رہا کہ پانی کی کنڈکٹیوٹی نمک کے تناسب کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔ دوسرا سیٹلائیٹ یورپین سپیس ایجنسی کا ہے جو اس کو مانیٹر کر رہا ہے۔ اب تک کے ڈیٹا سے یہ پتا لگا ہے کہ بدلتے موسم کی پیشگوئی میں شاید سمندر کی سالینیٹی سب سے بہتر انڈیکیٹر ہو۔ ساتھ لگی تصویر دنیا کے سمندروں میں نمک کے تناسب کا بتاتی ہے۔ لال حصے وہ جہاں یہ تناسب زیادہ ہے اور نیلے وہ جہاں پر یہ کم ہے۔

ناسا کے مشن کی ویب سائٹ اور ڈیٹا کے لئے
https://aquarius.umaine.edu/cgi/overview.htm

یورپیین سپیس ایجنسی کا سیٹلائیٹ جو سمندر کی نمکیات اور مٹی میں نمی کو مانیٹر کر رہا ہے، اس کی معلومات یہاں سے لی گئی ہیں
http://www.cesbio.ups-tlse.fr/us/indexsmos.html

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *