عمران خان کے بارے میں مثبت سوچ اپنائیں۔۔ذیشان نور خلجی

پتا نہیں کون لوگ ہیں جو کہتے ہیں عمران خان نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے۔ انہیں تھوڑی سی عقل ہوتی تو ضرور سوچتے کہ ہمارے تاریخی اور کرکٹر وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت میں جو چھکا لگایا ہے اس کا فائدہ تو عوام کو ہی ہوا ہے۔ ورنہ خان کو تو کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، وہ ایسا نہ بھی کرتے تب بھی آرام سے زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے صرف اور صرف عوام کے فائدے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔
اب جو حقائق آپ کے سامنے رکھنے لگا ہوں، ان پر بالکل نہ سوچیے گا۔ تبھی آپ پہ عمران خان کا وژن واضح ہو گا۔ کیوں کہ سوچا تو انہوں نے بھی نہیں تھا۔
ماضی قریب میں ہم لوگ موٹر سائیکل اور گاڑیوں پر سفر کرتے تھے جب کہ ہمارے کرپٹ اور چور حکمران ہوائی جہازوں میں جھولے لیا کرتے تھے۔ کیا تب ہم نے سوچا تھا کہ ہم بھی کبھی اشرافیہ کی برابری کر سکیں گے؟ تو پھر یہ خان ہی کا اعجاز ہے کہ محمود اور ایاز ایک صف میں کھڑے ہو چکے ہیں۔ اب اگر وزیراعظم سائیکل پر سفر کرتے ہیں تو عوام بھی سائیکلوں پر سفر کیا کریں گے۔ ایسی ہوتی ہے ریاست مدینہ۔ ناقدو ! ڈوب مرو شرم سے۔
اور اب جو پہلو آپ کے سامنے رکھنے لگا ہوں، اس حوالے سے شاید ہی کسی نے سوچا ہو۔ دراصل جب ہم تعصب کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں تو کسی کی اچھائی بھی صریح برائی نظر آنے لگتی ہے۔
کرونا وائرس آیا تو ساتھ اتنی زیادہ اموات لایا کہ دنیا ہل کر رہ گئی۔ لیکن ہمارے ایک تجربہ کار وفاقی وزیر نے کیسا خوبصورت تجزیہ پیش کیا کہ جتنی اموات کرونا سے ہو رہی ہیں اس سے زیادہ تو ٹریفک حادثات سے ہو جاتی ہیں۔ جب کہ سمیت لاہوریوں کے ہم سدا کے احمق لوگ، ان کا مذاق اڑاتے رہے۔ لیکن خان جیسے دانا بندے نے اس بات سے سبق حاصل کیا اور ٹریفک حادثات سے ہونے والی اموات کو بند کرنے کے لئے ٹریفک ہی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ نہ بجے گا بانس نہ بجے گی بانسری ہاں، بینڈ ضرور بجے گی۔ کیسا؟ یہ ہوتا ہے لیڈر۔
دوستو ! آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ یہ پٹرول بم دراصل ہمارے لئے باعث رحمت ہے۔ آپ سوچ نہیں سکتے کہ مستقبل میں اس کے کیسے کیسے زریں اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستانی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے۔ شاہد آفریدی نے کہا ہے اگر میں وزیراعظم بنا تو بے روزگاری کا خاتمہ کر دوں گا۔اب عمران خان نے سوچا کہ جب ایک ایسا کرکٹر یہ بات کر رہا ہے جو کہ نہ تو وزیراعظم ہے اور نہ ہی اس نے ورلڈکپ جیتا ہوا ہے تو پھر میں کیوں نہیں کر سکتا۔ چنانچہ انہوں نے پوری تندہی سے بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کی ٹھان لی۔ اب یہ نہ سمجھیے گا کہ انہوں نے بے روزگاروں کو ختم کر کے بے روزگاری کا خاتمہ کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ بات پرانی ہو چکی ہے۔ بلکہ انہوں نے سوچا ہے کہ میں پٹرول بم سے بے روزگاری کا خاتمہ کروں گا۔ کیوں کہ جب پٹرول کی قلت اور مہنگائی کے سبب سڑکوں سے گاڑیاں غائب ہو جائیں گی تو اس کی جگہ سائیکلز لے لیں گے۔ جب ہر طرف سائیکلز کا راج ہو گا تو سائیکل انڈسٹری ترقی کرے گی۔ اور اس سب کی ابتداء بھی وزیراعظم ہاؤس یونورسٹی سے کی جائے گی۔ وہاں کے گریجوایٹس اعلیٰ قسم کے سائیکل انجینئرز بن کے نکلیں گے اور پورے ملک میں پھیل جائیں گے اور سائیکل بزنس کو فروغ دیں گے۔ جیسا کہ ایک فارغ التحصیل انیجینئر کا وزٹنگ کارڈ کچھ اس قسم کا ہو گا۔
کاشف پھوک سروس
منجانب: محمد کاشف
گریجوایٹ ان پینتیس پنکچر
فرام وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی
اسی طرح علی سائیکل ورکس کا پروپرائیٹر محمد علی ہو گا جو کہ سائیکل کے کتوں کا اسپیشلسٹ ہو گا۔ تو جب پٹرول کی مہنگائی کے سبب سائیکلز کی بہتات ہو گی تب ایسے گریجوایٹس اور انجینئرز کو بھی کام کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ بلکہ ہمارے اعلیٰ دماغوں کی دوسرے ممالک میں بھی مانگ بڑھے گی اور یہ لوگ تھائی لینڈ، چین اور اٹلی کے وزراء اعظم کی سائیکلوں کی خدمت پر بھی معمور ہوں گے۔ پھر پاکستان ایشیاء کا ٹائیگر بنا نہ بنا لیکن ایشیاء کا سائیکل ضرور بن جائے گا۔
اور کچھ میرے لائق؟
دراصل یہ باتیں بتائی نہیں جاتیں، نظر لگ جاتی ہے۔ لیکن کیا ہے نا کہ یار لوگوں کو شکوہ تھا کہ میں ہمیشہ حکومت وقت کے خلاف ہی لکھتا ہوں، تو کبھی مثبت بھی لکھا کروں۔ تو میں نے ان کی بات مان لی ہے لیکن اب انہیں بھی میری ایک بات ماننا ہو گی۔
دو دن سے بارش ہو رہی ہے۔ گلیوں میں گٹروں کا کافی پانی کھڑا ہو چکا ہے تو براہ مہربانی اس میں ڈوب مریں، کیوں کہ چلو بھر پانی تو منفی سوچ سوچنے والوں کے لئے ہوتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *