• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایک بیوی اپنے شوہر سے کیا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔شاہد محمود، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

ایک بیوی اپنے شوہر سے کیا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔شاہد محمود، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

میاں بیوی کی باہمی انڈر سٹینڈنگ ان کی باہمی محبت کو مزید گہرا کرتی ہے اور کمپرومائز کرتے رہنے سے محبت بھی ٹمٹماتے دیے جیسی ہو جاتی ہے۔ شادی انسان میں احساسِ ذمہ داری  پیدا کرے تو سونے پر سہاگہ ورنہ یا تو لڑکی کی زندگی جہنم   بن جاتی  ہے یا عورت کا شوہر پر تسلط جمانے کی کوشش کرنا اس رشتے کو بے رنگ کر دیتا ہے۔ شادی کے بعد زوجین کا ایک دوسرے کو سمجھتے ہوئے، ایک دوسرے کی الگ شخصیت و عادات و ضروریات کا ادراک کرتے ہوئے ایکدوسرے کو space دینا اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے کی پسند میں ڈھل جانا انڈرسٹینڈنگ کہلاتا ہے جو پرسکون و خوشحال زندگی کا باعث بنتا ہے۔ اس ضمن میں تاریخ سے ہم آرتھر کی کہانی پڑھتے ہیں جس میں ازدواجی زندگی کی خوبصورتی کا راز مضمر ہے۔

تو کہانی یوں ہے کہ کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں آرتھر نامی ایک بادشاہ گزرا ہے جو حرب و ضرب کے علاوہ دیگر امور زندگی میں بھی کافی دلچسپی رکھتا تھا۔ یہ آرتھر کی بادشاہت اور جوانی کے ابتدائی دور میں ہی ایک بڑے بادشاہ کے سپاہیوں نے اسے شکار کھیلتے گرفتار کر کے اپنے بادشاہ کے دربار میں پیش کیا۔ بادشاہ کو جب معلوم ہوا لیبارٹری بھی ایک ملک کا بادشاہ ہے اور ذہین ہے تو اس نے آرتھر سے کہا کہ تمہاری جان بخشی اس شرط پر کی جا سکتی ہے کہ ہمیں ایک راز کا جواب تلاش کرکے  دو، ہمیں امید ہے کہ تم جیسا ذہین نوجوان بادشاہ اس راز کا جواب ڈھونڈ لے گا، سوال یہ ہے کہ

“ایک بیوی اپنے شوہر سے کیا چاہتی ہے”۔

یہ ایک مشکل ترین بلکہ ایسا سوال تھا جو آرتھر اور اس کے ملک کے سارے دانشوروں کے لئے بھی پریشان کن ثابت ہو سکتا تھا لیکن عقلمندی کا تقاضا یہی تھا کہ موت کے مقابلے میں یہ آزمائش قبول کر لی جائے چنانچہ آرتھر نے بڑے بادشاہ کے ساتھ وعدہ کر لیا کہ سال کے اختتام تک وہ اس بات کا جواب تلاش کر لے گا یا اپنا ملک اس کے حوالے کر دے گا۔ خانگی زندگی میں انفرادی طور پہ ہر عورت کی خوشیاں اور خواہشات دوسری عورتوں سے مختلف ہو سکتی ہیں، کسی کو الگ گھر چاہیے  تو کسی کو آسائشوں بھری زندگی تو کسی کو محبت یا احترام چاہئے، اور کسی کو اپنی اجارہ داری قائم کرنا پسند   ہے اور زر و جواہر سے تو کوئی بھی انکاری نہیں ہوتی اور عام طور پر تو ہر کسی کو یہ سب کچھ ہی درکار ہوتا ہے۔ فرمائش اور حکم تین مختلف چیزیں ہیں جن سے صبح و شام انسان کا واسطہ پڑتا ہے، میاں بیوی کا ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنا ذمہ داری ہے، فرمائش پوری کرنا حیثیت یا لگاؤ پر منحصر ہے اور حکم پورا کرنا مشکل کام ہے جس میں انسان کی انا پر کاری ضرب لگتی ہے، حکم چلانے والا مسئلہ معاشرے میں خاندانی اکائی کی تباہی کا ایک اہم سبب ہے جو گھریلو ماحول میں تناؤ اور ناآسودگی کا بڑا باعث ہے۔ بڑے بادشاہ کا سوال عورت کے حق میں تھا۔ اس کے سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وہ مرد کی اکڑ سے واقف تھا تو دوسری طرف عورت کی مجبوری اور تیسری طرف اس صورتحال سے پیدا ہونے والے بگاڑ پر بھی نظر رکھتا تھا۔ اس لئے اس نے ایسا سوال کیا جس کا جواب میاں بیوی کیلئے آسودگی کا باعث ہو، کوئی ایسی بات جو دونوں کو ہر حال میں ایک دوسرے سے قریب اور مطمئن رکھے، کوئی ایسی بات جس پر عمل سے شوہر کا حکم بیوی کی انا کچلنے کا باعث نہ بنے اور اس کا ہر حکم پورا بھی ہو جائے۔

آرتھر نے واپسی پر اپنے ملک کے دانشوروں کا اجلاس اس سوال کا جواب جاننے کے لئے بلایا جس میں ناکامی کے بعد ملک میں اس سوال کے جواب کے لئے عام منادی کرا دی گئی۔ اس سوال کے جواب کے لئے سارا سال کوششیں ہوتی رہیں لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔ آخری دن قریب آ گئے۔ آرتھر اور اس کی عوام کی تشویش مزید بڑھ گئی۔ ایک دن ایک بوڑھے درباری نے آرتھر کو مشورہ دیا کہ جنگل میں رہنے والی بوڑھی جادوگرنی سے بھی مشورہ کر لیا جائے۔ بوڑھی جادوگرنی مشکل مسائل کے حل کیلئے مشہور تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس کی شرائط بہت عجیب ہوتیں تھیں اس لئے اسے نظرانداز کیا جاتا رہا تھا لیکن جب سوال کا جواب کہیں سے نہ ملا تو اس بوڑھی جادوگرنی سے آرتھر نے ملنے کا فیصلہ کیا تو کہ اپنا ملک بچا سکے۔ بوڑھی جادوگرنی نے آرتھر کی ساری بات اور سوال سن کر اس سوال کا تسلی بخش جواب دینے کا وعدہ اس شرط پر کیا کہ آرتھر سوال کے جواب کے بدلے اپنے سب سے پیارے دوست لینسیلاٹ سے جادوگرنی کی شادی کر دے گا۔ لینسیلاٹ بادشاہ کا بچپن کا دوست اور ملک کا سرکردہ، زیرک وزیر تھا۔ جادوگرنی کی شرط سن کر آرتھر مبہوت رہ گیا۔ اس نے ساری زندگی ایسی کریہہ الشکل مخلوق نہیں دیکھی تھی، بوڑھی جادوگرنی کا جھریوں بھرا چہرہ، پوپلے منہ سے لٹکتے پیلے دانت، کمر جھکی ہوئی اور بدبودار لباس ۔۔۔ یہ سب دیکھ کر آرتھر میں ہمت ہی نہ رہی کہ اپنے دوست کی اس بوڑھی جادوگرنی سے شادی کے لئے ہاں کرے، ایک طرف ملک کی بقا کا معاملہ تھا تو دوسری طرف اپنے بچپن کے دوست کی زندگی کا سوال تھا۔ آرتھر نے یہ مکروہ بوجھ لینسیلاٹ پر لادنے سے انکار کر دیا اور واپس چلا آیا۔ دوسری طرف لینسیلاٹ کو جب اس ساری بات کا پتا چلا تو اس نے سوچا دوست اور ملک کی بقا کے لئے یہ قربانی کچھ بھی نہیں۔ ملک کو درپیش بڑے خطرے سے بچنے کیلئے ایک شخص کی چھوٹی سی قربانی کہیں زیادہ بہتر ہے۔ مختصر یہ کہ بڑھیا کی لینسیلاٹ سے نسبت طے ہو گئی اور آرتھر کو اس سوال کا جواب بھی مل گیا کہ “ایک عورت مرد سے کیا چاہتی ہے؟”۔
بوڑھی جادوگرنی کے مطابق اس کا جواب تھا کہ
“عورت اپنی زندگی کا اختیار خود اپنے  پاس رکھنا چاہتی ہے”۔

“A woman wants to be incharge of her own life”

بڑے بادشاہ نے اس جواب پر اطمینان کا اظہار کیا اور بہت خوش ہو کر آرتھر کو اس کا ملک بخش دیا۔ اس کے بعد لینسیلاٹ اور بوڑھی جادوگرنی کی شادی ہو گئی۔
لینسیلاٹ خوفناک صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے خود کو حوصلہ دیتے ہوئے حجلہ عروسی میں داخل ہوا   تو خلاف توقع وہاں دلکش نظارہ ان کا منتظر تھا، مسہری پر بوڑھی جادوگرنی کی بجائے ایک خوبصورت چندے آفتاب و چندے ماہتاب دوشیزہ دلہن بنی بیٹھی تھی۔ ایسی خوبصورت لڑکی کہ پہلے کبھی کسی نے نہ سنی نہ دیکھی۔ لینسیلاٹ نے حیرت اور خوشی کے مارے پوچھا، اے حسین و جمال پری یہ معاملہ کیا ہے؟ دلہن نے کہا چونکہ تم نے مجھے بوڑھی جادوگرنی کے روپ میں دیکھ کر بھی مہربانی اور اپنائیت کا اظہار کیا تھا اس لئے جواب میں جو التفات مجھ سے بن پڑا وہ میں نے بھی پیش کر دیا ہے لیکن زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ خوبصورت دلہن کا کردار میں صرف دن کے ایک حصے میں ہی ادا کر سکتی ہوں جبکہ دوسرے حصے میں واپس مجھے اپنی اصلی حالت میں ہی رہنا ہوگا، اب یہ تمہارے اوپر منحصر ہے کہ تمہیں دن کے وقت دلہن چاہئے یا پھر رات کو؟ لینسیلاٹ نے اس صورتحال پہ سوچنا شروع کر دیا کہ اگر دن کے وقت دلہن مانگ لوں تو لوگوں کے طنز بھرے نشتروں سے تو بچ جاؤں گا لیکن رات ہمیشہ بوڑھی عورت کے ساتھ ہی گزارنا پڑے گی، اور اگر رات کو دلہن مانگ لی جائے تو رات بہت اچھی کٹ جائے گی لیکن دن بھر ایک منحوس شکل دیکھنے کو ملے گی اور لوگ بھی طنز کرتے رہیں گے، آخر کیا کیا جائے؟

کافی سوچ بچار کے بعد لینسیلاٹ نے فیصلہ کیا کہ بوڑھی جادوگرنی نے جو جواب آرتھر کو دیا تھا اس کی سچائی جانچنے کا یہ سنہری موقع ہے اس لئے اپنا کوئی فیصلہ صادر کرنے کی بجائے یہ بات عورت کی مرضی پر ہی چھوڑ دیتا ہوں۔ لینسیلاٹ نے جادوگرنی سے کہا کہ “تم اپنی پسند کے مطابق جو مناسب سمجھو وہ کرو”- لینسیلاٹ کا یہ جواب سنتے ہی جادوگرنی نے انتہائی خوشی سے مسحور کن لہجے میں کہا “پیارے لینسیلاٹ پھر دل تھام کے سنو، میں ہر وقت خوبصورت رہنے پر بھی قادر ہوں”۔ تم نے مجھے میری مرضی پر چھوڑ کر عزت اور مان دیا ہے اور چونکہ “عورت اپنی زندگی کی مختار صرف خود رہنا چاہتی ہے” اس لئے کام میں تمہاری مرضی کا ہی کروں گی لیکن کروں گی صرف اپنی مرضی سے- ہھر دلہن نے کہا کہ اب تمہیں ہمیشہ یہی خوبصورت روپ ہی ملے گا اور کہا،

Actually there remains a ‘witch’ in every woman, no matter how beautiful she is، If you don’t let a woman to go her own way, things would be going too ugly, So, be careful about how you treat a woman and always remember:
“IT IS EITHER “HER WAY” OR IT IS “NO WAY”۔.

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *