مرجع ۔۔۔قمر سبزواری

مولوی صاحب؟

ہاں بول؟

باہر ڈاکٹر صاحب، وکیل صاحب، کونسلر صاحب، پٹواری صاحب چودھری صاحب اور ملک صاحب آئے ہیں جی۔

ابے کیا کہتے ہیں؟

پتہ نہیں جی، آپس میں بڑی پریشانی میں باتیں کر رہے ہیں، کہہ رہے تھے اب مولوی صاحب ہی رہنمائی کریں تو کریں ۔

ابے میری میٹرک کی ڈگری یہاں پڑی تھی ، کہاں رکھ دی اس سالے کونسلر کو تصدیق کے لئے ہی دے دوں۔

استاد جی میٹرک کی ڈگری نہیں سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے جی ۔

ابے تیری ماں کا نکاح نامہ ہوتا ہے ، سالے اب تُو مجھے  سکھائے گا ۔Save

قمر سبزواری
قمر سبزواری
قمر سبزواری ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ عیسوی کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ملازت شروع کی جس کے ساتھ ثانوی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ صحافت میں گریجوئیشن کرنے کے بعد کالم نگاری اور افسانوی ااادب میں طبع آزمائی شروع کی۔ کچھ برس مختلف اخبارات میں کالم نویسی کے بعد صحافت کو خیر باد کہ کر افسانہ نگاری کا باقائدہ آغاز کیا۔ وہ گزشتہ دس برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “پھانے” کے نام سے شائع ہوا۔دو مزید مجموعے زیر ترتیب اور دو ناول زیر تصنیف ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *