ادب کا مطالعه اور کردار سازی ۔۔۔ مدثر محمود

ہم اکثر کہتے ہیں، سنتے ہیں فلاں شخص بہت پڑھا لکھا ہے فلاں فیملی بہت پڑھی لکھی ہے لیکن ایسی پڑھی لکھی فیملی یا شخص کا پریکٹیکلی لوگوں سے برتاؤ انتہائی جاہلانہ اور غیر مہذب نوعیت کا ہوتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے که کسی شخص کی فزکس، کیمسٹری یا میڈیکل وغیره میں پی ایچ ڈی کی ڈگری اس شخص میں مخصوص علم کی قابلیت تو پیدا کر دیتی ہے لیکن اس شخص کے لوگوں کے ساتھ روز مره کے پیش آنے والے معاملات یا برتاؤ میں اس کی کوئی خاص مدد نہیں کر پاتی اس لئے تو ایسے لوگوں کو یه کہہ  کر تمسخر کا نشانہ بنا یا جاتا ہے که انہوں نے تو پڑھ لکھ کے هی گنوایا ہے ۔ایسے پڑھے لکھے لوگوں کے بارے ہی جوش ملیح آبادی نے کہا تھا کہ

“میں ایسے کئی پی.ایچ.ڈیوں اور ایم.اوں کو جانتا ہوں جن کی میری نظر میں اہمیت استنجے کے ڈھیلے سے زیادہ کچھ نہیں”۔

اگر کوئی پڑھ لکھ کر بھی انسانیت شناس یا برداشت کا رویہ نہیں رکھتا تو واقعی ایسے پڑھے لکھے شخص کی اهمیت استنجے کے ڈھیلے سے زیادہ نہیں ۔پرانے زمانے میں دوسرے پیشه ورانه علوم کے ساتھ ساتھ لٹریچر یعنی ادب فلسفه وغیره پڑھانے کا بھی خاطر خواه انتظام کیا جاتا تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ  طالب علم ایک روبوٹ کی طرح خاص طرح کی پڑھائی کا ماہر بن  نکلتا تھا بلکہ اضافی طور پر ایک بہترین انسان کے روپ میں بھی سامنے آتا تھا کیوں کہ  لٹریچر انسانی زندگی کے جذبات ،مجبوریوں، مسرتوں اور تجربوں کو کہانیوں اور اشعار کی شکل میں پیش کرتا ہے جس کو پڑھ کر انسان اپنے معاملات کو ایک جمع ایک دو کی بجائے  بشری خامیوں اور مجبوریوں کے تناظر میں بھی دیکھ سکتا ہے کہ  کسی نے دھوکہ یا دکھ جان بوجھ کر نہیں دیا بلکه کسی مجبوری کے تحت هی دیا هو گا، اس لیے بدلہ لینا مناسب نہیں ۔

دنیا کا سب سے بڑا ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ ادب کا دلداده تھا اور اپنے علم کو شیکسپیر کے ڈراموں میں دکھائے  گئے کرداروں سے سیکھا گیا بتاتا تھا، لاء یعنی قانون کے علم میں جرم کی وجوہات اور تدارک کے لیے فرانز کافکا اور دوستوفسکی کے ناولز سے بھی مدد لی گئی ہے جن میں دوفتوفسکی کاجرم و سزا اور کافکا کا دی ٹرائل شامل ہے ۔محمد علی جناح ،فاطمہ جناح سے شکسپئیر سنتے تھے ،حضرت عمر بہترین عربی شاعری جانتے تھے، گوئٹے نامور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر نباتات بھی تھا، اس کی مشہور نظم فاؤسٹ نے ہی نیکولس ٹیسلا کے ذہن میں تحریک پیدا کی اور اس نے اے سی موٹر کا ڈیزائن بنا دیا جس کی وجه سے گھروں میں بجلی کا استعمال عام هوا ،کامیاب بزنس مین اور سائنسدان بل گیٹس اور سٹیو جابز وغیره نے بھی لٹریچر سے ہی کام کی لگن کا راز سیکھا، یورپ بحیثیت معاشرہ اسی لیے اعلیٰ اخلاقیات اور ترقی رکھتا ہے کیوں کہ  وہاں لٹریچر سے محبت کی وجه سے وہاں کا ڈاکٹر کمائی کے ساتھ بھلائی کا جذبہ شوہر بیوی کے ساتھ برابری کا جذبہ اور حکمران حکمرانی کے ساتھ ساتھ خدمت کا جذبہ بھی  رکھتا ہے اور دوسری طرف ہم پڑھ لکھ کر بھی غیر مہذب بےحس ہو گۓ ہیں اور ستم یه کہ  لٹریچر کو قصے کہانیاں یا شاعری سمجھ کر وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں ۔لٹریچر وقت کا ضیاع نہیں بلکہ انسانی کردار سازی ہے ۔

یہاں تک کہ  پرانے زمانے میں ہمار ا مذہبی عالم بھی مسجد مدرسے میں ہیر وارث شاہ ،بلھے شاہ اور سلطان باہو پڑھتا تھا، جس سے مذہب کا کٹر پن ختم کرنے میں مدد ملتی اور مذهبی لبادے میں ملبوس مُلا  کی منافقت بھی عیاں کی جاتی ،اس کی وجہ یہ ہے کہ  لٹریچر کی عدم موجودگی میں مذہبی رہنما کو فرشتوں کا درجہ دے دیا جاتا ہے که وه غلطی کر هی نہیں سکتے لیکن لٹریچر تو کسی چیز کو ویسے ہی بیان کرتا ہے جیسے وہ ہے ۔اسے رحمت اللہ کی کھونٹی پر نہیں لٹکاتا که وه غلطی نہیں کر سکتا یا اسے استثنا حاصل ہے ،جیسے بلھے شاہ نے احمد شاہ ابدالی کو ڈاکو کہا نا  که نجات دهنده. آج مذہبی رواداری کے فقدان کی وجه لٹریچر سے دوری ہے مسلمانوں کے سنہری سائنسی دور میں عمر خیام فردوسی رومی جیسی ادبی شخصیت رہی ہیں جن کا اپنے عہد کی ترقی پسند سوچ میں اہم حصہ رہا ہے ،رومی اور عمر خیام کی کتابوں کا بیسٹ سیلر ہونا اس بات کا ثبوت ہے که یه کتابیں محبتیں اور انسانیت بانٹتی ہیں اور نفرتوں کے بیچ بلھے شاہ کی شاعری عشق میں جھوم  کر دھمال ڈالتی ہے۔ پوری دنیا کے امن کے لیے محبتوں اور چاہتوں کے فروغ کے لیے نیز انسانیت کے میکانزم کو سمجھنے کے لئے جتنی ادب کے مطالعہ کی آج ضرورت ہے کبھی نه تھی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *