سندھ کی تہذیب ہماری پہچان۔۔شکیلہ سبحان

ثقافت اور تہذیب ہر قوم کی پہچان ہو تی ہے اور پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی ثقافت ایک یا دو صدیوں کی تاریخ پر نہیں بلکہ صدیوں کی تاریخ پر محیط ہے۔وادی سندھ کی ثقافت اور تہذیب سنہ 3300 سے 1700 قبل مسیح تک قائم رہنے والی انسان کی چند ابتدائی تہذیبوں میں سے ایک ہے ۔جہاں بڑے بزرگان دین کے  مزارات کے ساتھ بڑی  تاریخی عمارات بھی ہیں ، جو دنیا میں سندھ سمیت پورے ملک کی پہچان ہیں ، سندھ وہ خطہ ہے جسے تہذیبوں کی ماں کہا جاتا ہے یہ وادی سندھ کے میدان میں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کناروں پر شروع ہوئی۔ اسے ہڑپہ کی تہذیب بھی کہتے ہیں۔

ہڑپہ اور موہنجو داڑو اس کے اہم مراکز تھے۔ دریائے سواں کے کنارے بھی اس تہذیب کے آثار ملے ہیں۔ اس تہذیب کے باسی پکی اینٹوں سے مکان بناتے تھے۔ ان کے پاس بیل گاڑیاں تھیں، وہ چرخے اور کھڈی سے کپڑا بنتے تھے، مٹی کے برتن بنانے کے ماہر تھے، کسان، جولاہے، کمہار اور مستری وادی سندھ کی تہذیب کے معمار تھے اور اسی طرح سندھ کی ثقافت میں کھیل ،رہنی کہنی ، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا ، پیار محبت کادرس اہمیت رکھتا ہے۔ سندھ و ہ تہذیب ہے جس کی حفاظت سندھ کے لوگ ہر دور میں کرتے آر ہے ہیں اور ثقافت کو اجاگر کر کے سندھ دوستی کا ثبوت دیتے ہیں ، سندھ کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے تاریخی عمارات اور ثقافت پہ کام کرنے والی ایک تنظیم (مہران ہسٹوریکل اینڈ کلچرل ویلفیئر سوسائٹی) کی جانب سے ٹنڈوآدم میں دو روزہ سندھ ثقافتی میلہ منعقد کیا گیاجس میں ہم نے پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے  وفد کے ساتھ شرکت کی ،جس کا افتتاح شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام پر پی ایچ ڈی کرنے والی تائیوان کی اسکالر پیلنگ تھاؤ ‘جو اب جوہی فاطمہ کے نام سے جانی جاتی ہے نے کیا۔

میلے میں مختلف  سکولوں کے ہزاروں طلباءنے سندھ کے نقشے  کو سلامی دے کر میلے کا افتتاح کیا۔میلے میں مقامی  سکولوں کے طلباءکے درمیان ثقافتی تقریر کا مقابلہ ہوا جس میں بچوں نے اپنی قابلت سے تمام حاضرین کو حیران کر دیا اس میلے میں سندھ بھر سے اعلیٰ نسل کے جانور لائے گئے ،سندھی، عربی النسل سمیت مختلف نسل کی بکریوں کی نمائش کی گئی جو  دیگر اضلاع سے لائی گئیں تھی ،ایک ایسی  بکری  بھی دکھائی دی   جس  کے جسم پر   قدرتی طور پر سندھ کا نقشہ بنا ہوا تھا، جو لوگوں کی توجہ کا    مرکز بنی رہی۔  اور میلے میں دلچسپ قسم کے مقابلے ہوئے جن میں سندھ کی بڑی گیم ملھ (ملاکھڑو) ، بڑی مونچھوں کا مقابلہ ہوا، سندھ کے لوگ مونچھوں کو اپنی عزت اور شان سمجھتے ہیں اور (پگڑی) باندھنے کا مقابلہ ہوا۔خواتین کے  بنائے  ہینڈی کرافٹ کی نمائش ہوئی جس سے اندازہ ہوتا ہے وہا ں کی خواتین کتنی ہنر مند ہیں ۔یہی ہینڈی کرافٹ نمائش میں فروخت کے لیے بھی رکھے گئے تھے۔

آخر میں موسیقی کی محفل  سجی۔  جو سندھ کی محبت اور ثقافت کی عکاسی کررہی تھی۔مہمانوں کو اجرک کا تحفہ پیش کیا گیا اجرک اور سند ھی ٹوپی ہمیشہ سے سندھی ثقافت کی پہچان   رہی ہے ۔سندھیوں  کی   مہمان نوازی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔واپسی میں ہم نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزار پر حاضری دی ،سندھ کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں سندھیوں پر سب سے زیادہ ا ثرجس ہستی نے کیا وہ شاہ عبدالطیف بھٹائی ہیں۔شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنے عقیدتمندوں سے روحانی  تعلق  آج بھی جوڑاہوا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے مزار پر عقید تمندو ں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔ یہ وہی خطہ ہے جسے عرب کے بعد باب الاسلام کا مقام حاصل ہے۔ یہ تاریخی مقامات اور اس طرح کے ثقافتی میلے ہمارے  ملک کی پہچان ہیں ۔حالانکہ ملکی ثقافت کو اجاگر کرنے میں حکومت وقت کو اپنا کرادار ادا کرنا چاہیے مگر سندھ کے سپوت   خاصخیلی جیسے لوگ موجود ہیں جو اپنے حصے کی شمع جلائے رکھنے پر یقین رکھتے ہیں اور اس طرح کے معلوماتی ادبی و ثقافتی پروگرام  سندھ کی تاریخ کو زندہ رکھنے اور ہم جیسے طفل مکتب کو آگاہ رکھنے کیلئے ترتیب دیتے  رہتے ہیں ۔ اس لیے ہماری اور حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے لوگوں کے دست بازو بنیں  تا کہ ملک کا نام دنیا میں روشن ہو!

شکیلہ سبحان شیخ
پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کی رکن ہو نے کے ساتھ ساتھ ایک روزنامہ اخبار سے بھی منسلک ہیں اسکول آف جرنلزم میں بھی بطور معاون کام کرتی ہیں پاکستان ہیلپ لائن ویلفئیر آرگنائزیشن میں ایجوکیشن ونگ کی ممبر ہیں ،قلم کے ساتھ بدلائو پر یقین رکھتی ہے اور معاشرے میں سدھار کا ذریعہ قلم کو ہی سمجھتی ہے ۔ گھومنا پھرنا اور انٹرنیٹ کا استعمال مشاغل میں شامل ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *