• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا عدلیہ کا یہ رویہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ ۔۔سید عارف مصطفٰی

کیا عدلیہ کا یہ رویہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ ۔۔سید عارف مصطفٰی

 ایک عجب بھونچال سا دیکھنے میں آرہا ہے کیونکہ تحریک انصاف کی مرکزی رہنماء فوزیہ قصوری کی تنقید نے ایک بڑا ارتعاش سا پیدا کردیا ہے کیونکہ وہ پی ٹی آئی کی ماں کا درجہ رکھتی ہیں اور ان کی باتوں کو مخالفین کی حاسدانہ بڑبڑاہت قرار دے کر ہرگز نہیں ٹالا جاسکتا – فوزیہ نے یوں تو اپنے اس مضمون میں پی ٹی آئی اور عمران خان پہ متعدد پہلوؤں سے سخت تنقید کی ہے لیکن اگر ان کی اس ساری تنقید کا احاطہ صرف چند لفظوں میں کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ اب عمران خان اپنے ہی تشکیل کردہ نظریات سے بھاگ رہے ہیں ۔۔۔

اس پہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ فوزیہ بی بی کو یہ بات بہت دیر سے سمجھ آئی کیونکہ تبدیلی کے نعرے لگاتے پی ٹی آئی چیئرمین کا یہ فرار کوئی آج کی بات نہیں وہ تو مینار پاکستان پہ 7 برس قبل منعقدہ بڑے جلسے کے بعد پی ٹی آئی کے سیاسی قالب میں جان پڑتے ہی فرار کے راستے پہ گامزن ہوگئے تھے کیونکہ انہوں نے جلد ہی ایسے تمام پشتینی مفاد پرست اور سرمایہ دار قسم کے سیاسی ابن الوقتوں کی انگلی پکڑ لی تھی جو کہ  خود اس تبدیلی کے رستے کا پتھر تھے بلکہ ان سب خرابیوں کا سرچشمہ تھے کہ جن کے انسداد کے عمران خان پہلے خود سب سے بڑے دعویدار تھے ۔

یہ خان کے اپنے نظریات سے فرار ہی کا نتیجہ تھا کہ اکبر شیر بابر ، محبوب اسلم ، یعقوب کندی ، اور نجانے کتنے ہی ان کے دیرینہ ساتھی بھی انہیں ان کے کہے الفاظ‌ یاد دلانے لگے تھے اور ان کی جانب سے سنگین الزامات کی سوغات پانے اور راندہء درگاہ ہونے کی قیمت ادا کرنے پہ مجبور ہو گئے تھے اس صورتحال پہ یقیناً میڈیا بھی خاموش تماشائی نہیں بن سکتا تھا اورآہستہ آہستہ اس نے بھی خان صاحب کے دعوؤں‌اور عمل کے فرق کی سب حقیقت کھول کے رکھنا شروع کردی ۔۔ اور جس جس نے بھی یہ کام نمایاں طور پہ کیا وہ ان کے نشانے پہ دھر لیا گیا جیو اور دنیا نیوز چینل اس کی بڑی مثالیں‌ہیں ۔

خاص طور پہ جیو کے میڈیا ہاؤس اور اس کے مالک کو تو بدنام کرنے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی ۔ اس چینل کو نہ صرف ملک دشمن و دین دشمن ٹھہرایا گیا بلکہ بھارت کا اور یہودی طاقتوں کا ایجنٹ بھی کہا گیا اور عوامی ملامت کا نشانہ بنوانے کے لیے  کون سے گھناؤنے الزمات تھے جو ان پہ نہیں لگائے حتٰی کہ  چینل کے مالک کو غدار اور فرعون تک کہہ  ڈالا گیا ۔

عمران خان کو الزام تراشی کی یہ عادت کیوں ہے ۔۔ اس کا جواب دینا زیادہ مشکل نہیں ، جب کسی فرد کے قول اور عمل کے درمیان تضاد بڑھتا چلاجائے تو وہ بجائے اپنے عمل کی کوتاہی دور کرنے کی مشقت کرنے کے ، اس کی نشاندہی کرنے والوں ہی کو خوفزدہ کرکے اس سے باز رکھنے کی کوششیں کرتا ہے اور چونکہ میڈیا سے کسی بھی نمایاں فرد کا کوئی قول اور عمل ڈھکا چھپا نہیں رہ پاتا اور اس کے پاس ماضی کے مستند حوالوں کا بھی بڑا خزانہ موجود ہوتا ہے لہٰذا ایسے لوگ میڈیا کوبھی مطعون کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں‌دیتے اور اگر ایسا موقع نہ بھی ملے تب بھی از خود یہ مواقع پیدا کر لیتے ہیں ۔

اسی لیے خان  صاحب نے اپنے قول و فعل میں اس کام  کی نشاندہی پہ کئی چینلوں کو بھی اپنی معروف الزام تراشی کی صلاحیت کا نشانہ بنایا لیکن سب سے زیادہ جیو نیوز کو نشانے پہ لیا کیونکہ اس کا دائرہء ناظرین   وسیع ترین ہے ۔۔ لیکن جب اس گروپ نے ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ مجاز عدالت میں داخل  کیا تو وہ حسب سابق یہاں سے بھی فرار ہوگئے اور اب تک کی کئی سماعتوں میں حسب دستور وہ نہ تو خود ہی پیش ہو رہے ہیں اور نہ ہی ان کا وکیل ۔۔۔ لیکن عدالتیں ہیں کہ بجائے زیر الزام فرد کو ریلیف دینے کے ، الزام لگانے والے ہی کو تاریخ پہ تاریخ دیئے چلی جارہی ہیں ۔

لیکن خان صاحب کا الزام لگاکے فرار کا عمل ہنوز جاری ہے کیونکہ انہوں نے اپنا وطیرہ بنالیا ہے کہ کسی بھی چوک چوراہے پہ کھڑے ہوکے کسی پہ بھی الزامات کی بارش کردیتے ہیں لیکن جب وہ عدالت سے رجوع کرتاہے تو خان صاحب وہاں حاضری سے فرار ہوجاتے ہیں ۔نجم سیٹھی پہ 35 پنکچر لگانے والا مشہور الزام بھی لگا چکے ہیں لیکن جب نجم سیٹھی اس الزام کے خلاف خم ٹھونک کر عدالت میں مقابل آگئے تو خان نے اسے ایک محض سیاسی بیان قرار دے کر راہ فرار اختیار کی تھی ۔

ابھی حال ہی میں جیو کی جانب سے دائر کیے  گئے ہتک عزت کے ایک ارب ہرجانے کے مقدمے کی کسی سماعت میں نہ تو خود حاضر ہوئے اور نہ ہی ان کا وکیل ، اوراس سے ملتی جلتی ، ان کے فرار کی متعدد کہانیاں دنیا کے سامنے آچکی ہیں ۔ ان کے فرار کی یہی کیفیت ذاتی توہین کے اس مقدمے کی بھی ہے جو کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے عمران خان کے خلاف دائر کرکھا ہے کیونکہ انہوں نے چوہدری صاحب پہ یہ الزام لگایا تھا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن اور نواز شریف کے ساتھ مل کر 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کرائی تھی –

اسی طرح خادم اعلیٰ پنجاب نے بھی ایک مقدمہ عمران خان کے خلاف کیا ہوا ہے کہ جس میں ان سے معافی منگوانے اور 10 ارب روپے ہرجانہ  ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہےکیونکہ خان صاحب نے ان پہ یہ الزام لگایا تھا کہ پانامہ کیس کے ججوں سے انہیں یہ معلوم ہوا ہے کہ  پاناما مقدمے کااپنے حق میں ‌فیصلہ  کرانے کے لیے  شہباز شریف نے انہیں 10 ارب روپے رشوت کی پیشکش کی تھی- لیکن خان کی جانب سے لگایا گیا یہ وہ واحد الزام ہے جو باقی سب الزامات سے مختلف اور منفرد ہے کیونکہ اس میں انہوں نے بڑے دھڑلے سے برسرعام ججوں کا نام بطور حوالہ استعمال کیا تھا اور اس سے یہ تاثر ابھرتا تھا کہ گویا ان کے اور ججوں کے درمیان کورٹ روم سے ہٹ کر بھی رابطے ہیں اور وہ بھی اس حد تک بے تکلفی کے ہیں کہ  وہ اس طرح کی باتیں بھی انہیں بتا سکتے ہیں۔

یہاں پہ انصاف کا عین تقاضا تو یہ تھا کہ ججز کی جانب سے اس الزام کی محض تردید ہی نہ آتی بلکہ ایسا منفی تاثر پیدا کرنے پہ انہیں ججز توہین عدالت کا اجتماعی نوٹس جاری کرتے کیونکہ جج تو ہر لمحہ اور ہر جگہ جج ہی رہتا ہے ۔۔۔ لیکن خلاف توقع ایسا نہ ہوا اور اس پہ کئی حلقوں کی جانب سے یہ صدائیں‌ بلند ہوئیں کہ اس موقع پہ ججز کی جانب سے خاموشی اختیار کرلینا اور عمران خان کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینا سراسر جانبداری ہے کیونکہ عمران خان کے اس نوعیت کے الزام لگانے پہ ایک واضح اور دو ٹوک فوجداری جرم کے ارتکاب کا معاملہ پیدا ہوگیا تھا اور اس کی قانونی پاداش کی نوعیت صرف توہین عدالت کے جرم تک ہی محدود نہ رہ سکتی تھی کہ جسے یہ ججز اپنا خصوصی دائرہء عمل باور کراکے معاف کرسکیں اور یوں خان صاحب کی سزایابی یقینی تھی کہ جس کے بعد وہ کسی عوامی عہدے کے قابل نہ رہ جاتے۔

جہاں تک جھوٹی الزام تراشی اور ذاتی ہتک کے معاملات کی بات ہے تو مہذب دنیا میں اسے نہایت سنگین جرم کے طور پہ لیا جاتا ہے اور اسےکسی فرد یا ادارے کی اخلاقی حیثیت کے قتل کے مترادف باور کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف اس کی معاشرتی ساکھ برباد ہوسکتی ہے بلکہ نتیجتاً کاروباری و معاشی مفادات بھی شدید معرض خطر میں پڑسکتے ہیں   اور اسی وجہ سے وہاں اس قسم کے مقدمات اسی تیز رفتاری سے چلائے جاتے ہیں جیسا کہ دیگر سنگین فوجداری جرائم کے مقدمات   لیکن ہمارے یہاں تو ہماری عدالتوں میں ہتک عزت کے مقدمات رینگتے اور گھسٹتے نظر آتے ہیں ۔

اسی لیے  ہمارے ملک میں یہ بات بہت آسان ہے کہ کوئی بھی عمران خان جیسا الزامی مزاج والا فرد کسی بھی وقت کسی پہ بھی کوئی الزام عائد کردے اور ا س کی ساکھ تباہ کرڈالے لیکن پھر جواباً دائر کیے  گئے ہتک عزت کے مقدمے میں حاضر ہی نہ ہو اور طویل عرصے تک تاریخیں پڑتی چلی جائیں اور الزامات لگانے والا اطمینان سے گھر بیٹھا اس صورتحال سے محظوظ ہوتا رہے ۔۔۔

یہاں میرا سوال یہ ہے کہ جب مہذب دنیا میں قانون کو اندھا مانا جاتا ہے تو پھرہمارے یہاں ہی کیوں قانون کے چہرے پہ بندھی پٹی میں بڑے بڑے سوراخ نمایاں ہیں ؟؟ اور آخر کیوں ہمارے چند ججز کے رویے  متوازن معلوم نہیں ہوتے ؟‌کہ جس پہ اب بار کونسلوں کے نمایاں افراد بھی لب کشائی کرتے سنے جانے لگے ہیں اور وہی نہیں بلکہ ملکی قانون سے ذرا بھی واقف ہر شخص یہ سوال اٹھانے لگا ہے کہ ججز کیسے کسی کو خلاف قانون ایسا ریلیف دے سکتے ہیں ؟؟ ۔۔۔

ایک تلخ حقیت یہ ہے کہ درحقیقت اس صورتحال کا جلد تدارک نہ کرکے ہماری عدالتیں بالواسطہ ایسے لوگوں کی معاونت کررہی ہیں اور اس سے ایسے لوگوں کے ولولوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے – لیکن یہ بھی عجب ستم ظریفی ہے کہ اگر ایسا کوئی فرد حاضر سروس عدلیہ پہ کوئی ادنیٰ سا الزام بھی لگا دے تو ہماری عدلیہ کو فوراً قانون کے سب تقاضے یاد آجاتے ہیں اور بجلی کی سی سرعت سے سماعتیں پایہ تکمیل کو پہنچائی جاتی ہیں ۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا عزت اور وقار اور احترام کے سب تقاضے محض حاضر سروس ججوں تک محدود ہیں اور کیا کسی دیگر فرد کی کوئی عزت نہیں کہ اسے روند ڈالنا یوں آسان سمجھ لیا جائے ؟ اور کیا ہتک عزت کے دیگر مقدمات میں کچھوے کی سی چال اپنانا درحقیقت الزام تراشوں کی معاونت جیسا عمل نہیں ہے ؟؟ اور کیا عدلیہ کا یہ عجیب و غریب رویہ کھلا تضاد نہیں ہے ۔؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *