ایک دہریے کا خواب۔۔اسحاق اسماؤ/ترجمہ زبیر حسین

کیا سٹیفن ہاکنگ جنّت کا حقدار ہے؟۔۔اس تحریر  میں  آپ کو اس سوال کا جواب مل جائے گا!

میں نے خوا ب دیکھا کہ میرا انتقال ہو گیا . دوبارہ آنکھ کھلی تو خود کو ایک نہایت خوبصورت جگہ میں پایا، سامنے سرسبز و شاداب کھیت’ آسمان پر روئی کی طرح سفید بادل’ ہوا میں عطر کی خوشبو’ اور فضا دلنشیں نغموں سے معمور۔۔ میں تو بس دم بخود رہ گیا،اچانک میری نظر حساب کتاب کے فرشتے پر پڑی، اس کے چہرے پر دلنواز مسکراہٹ تھی ۔۔
“کیا یہ جنت ہے ؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔
“جی ہاں’ یہ جنت ہی ہے ” فرشتے نے نہایت میٹھی آواز میں جواب دیا۔
“شاید آپ سے حساب کتاب میں کچھ غلطی ہو گئی ہے، بھلا میرا جنّت میں کیا کام، میں تو دہریہ ہوں ”

“ہم حساب کتاب میں کبھی غلطی نہیں کرتے” فرشتہ بدستور مسکرا رہا تھا۔۔
“مگر ایک دہریہ جنت کا مستحق کیسے ہو سکتا ہے ؟” میں ابھی تک حیرت میں غرق تھا
“کون جنت کا حقدار ہے اور کون نہیں یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے’ نہ کہ تمہارا”

“آپ کا شکریہ’ اب بات میری سمجھ میں آ گئی ہے ،کیا آپ کے پاس ٹائپ رائٹر ہے   جسے  میں استعمال کر سکوں؟”
کچھ دیرسوچنے کے بعد اس خواب کی اہمیت مجھ پر واضح ہو گئی. میرے خیال میں جنت لکھنے پڑھنے کی جگہ ہے. لہذا گزشتہ نصف صدی سے میں جنت ہی میں رہ رہا ہوں، دوسری اہم بات فرشتے کا یہ کہنا کہ کون جنت کہ حقدار ہے اور کون نہیں اس کا  فیصلہ جنت والے کرتے ہیں نہ کہ زمین والے۔۔ معنی خیز ہے۔

اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر میں دہریہ نہ ہوتا تو میں ایسے خدا پر ایمان لے آتا جو انسانوں کی قسمت کا فیصلہ ان کے پورے اعمال نامہ کو سامنے رکھ  کر کرتا ہے نہ کہ ان کے لبوں سے نکلنے والے تعریفی کلمات کی بنیاد پر۔ میرا خیال ہے کہ خدا ایک دیانتدار اور راستباز دہریے کو ایک ایسے پادری یا مولوی پر ترجیح دے گا جس کے لبوں سے نکلنے والا ہر لفظ خدا خدا خدا ہے مگر اس کا ہر عمل دھوکا دھوکا دھوکا یا فساد فساد فساد۔۔

میں ایسے خدا پر ایمان لا سکتا ہوں جس کی دنیا میں جہنم کا وجود نہیں ہے، لامحدود سزا کا مستحق صرف وہی ہو سکتا ہے جس میں لامحدود برائی پائی جاتی ہو۔ مگر لامحدود برائی کسی میں بھی نہیں پائی جاتی، حتیٰ کہ ہٹلر میں بھی نہیں۔ اگر بیشتر حکومتیں اس قدر مہذب ہو سکتی ہیں کہ تشدد اور اذیت رسانی کے سب طریقوں کو خلاف قانون قرار دے دیں تو کیا ہم خدا سے جو رحیم و کریم ہے ایسی ہی توقع نہیں رکھ سکتے؟

میرا خیال ہے کہ اگر موت کے بعد زندگی ہے تو برائی کی سزا معقول ہو گی اور ایک مقررہ مدت کے لیے، نیز مجھے یقین ہے کہ بدترین سزا کے مستحق وہ پادری اور مولوی ہوں گے جنہوں نے جہنم تو خود ایجاد کی ہے مگر اسے خدا کے سر تھوپتے ہیں اور اس طرح خدا کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں.

An excerpt from “It’s Been a Good Life” by Isaac Asimov

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *