سٹیفن ہاکنگ کی مختصر تاریخ ۔۔محمد شاہزیب صدیقی

ابھی کچھ عرصہ پہلے تک کائنات کے بارے میں انسان کا نظریہ کچھ اور تھا لیکن غیر معمولی ذہانت کے حامل چند افراد نے انسان کو ترقی کی اس معراج پر لاکھڑا کیا جہاں   پہنچ کر آج نسل انسان خود بھی حیران ہے۔ جیسے جیسے انسان کائنات کے متعلق جانتا گیا وہیں کائنات بھی دن بدن مزید الجھتی چلی گئی ۔

یہ سچ ہے کہ کائنات کے پہیلی ہونے میں وقت کا بھی بہت کردار ہے۔ اگر انسان وقت کی قید سے آزاد ہوکر کائنات کو explore کرنے نکلے تو شاید اس کی پرسراریت وہ نہ رہے جیسی نظر آتی ہے۔پچھلی صدی میں کچھ ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے وقت کی قید میں رہتے ہوئے کائنات کے متعلق وہ راز افشا کیے جن کو پڑھ کر آج بھی انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ بلاشبہ آئن سٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ کا نام بہترین سائنسدانوں میں سرفہرست آتا ہے اسی خاطر ہمیں یہ کہتے ہوئے خوشی ہوتی تھی کہ ہم اسٹیفن ہاکنگ کے عہد میں جی رہے ہیں۔۔ یا جی رہے تھے۔

اسٹیفن ہاکنگ کا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے تھا، یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آیا جب اس کے سکول کی فیس تک والدین ادا نہیں کرپارہے تھے، جس کی وجہ سے ہاکنگ دیگر بچوں کی نسبت بہت اچھا طالبعلم نہیں بن پایا، چونکہ ہاکنگ کے والد میڈیکل کے شعبے سے وابستہ تھے اور ہاکنگ ریاضی دان بننا چاہتا تھا، 70 سال پہلے ریاضی دان بننے والوں کو نوکریاں نہیں ملتی تھیں لہٰذا ہاکنگ جب بڑے ہوئے تو ان کے والد نے ان پر علم طب پڑھنے کے لئے زور ڈالا مگر انہوں نے کیمیا اور فزکس کی جانب اپنا رحجان برقرار رکھا۔ اِن کو سکول میں دیگر طالبعلم “آئن سٹائن” کہہ کر چھیڑتے تھے مگر اس وقت کسے معلوم تھا کہ یہ واقعی ایک دن آئن سٹائن ثانی ثابت ہوگا!

یہی وجہ ہے کہ اسٹیفن ہاکنگ وقت میں سفر کرنے کے حامی نہیں تھے ، کیونکہ ان کے مطابق اگر واقعی وقت میں سفر کرنا ممکن ہوتا تو لازمی طور پر انہیں ایک عدد ایسا شخص اپنی زندگی میں ضرور ملتا جو مستقبل سے آیا ہوتا اور ان کے ساتھ سیلفی لینے کا خواہش مند ہوتا۔بہرحال 1959ء تک اسٹیفن نے اپنے کالج کی پڑھائی مکمل کی اور 1962ء میں نیچرل سائنسز میں B.A (Hons) کی ڈگری مکمل کی۔ یاد رہے کہ گریجویشن کرنے تک اسٹیفن کے متعلق یہی مشہور رہا کہ یہ نالائق اور سست طالب علم ہے۔

اسی اثناء میں جب ہاکنگ زندگی کی 21ویں دہلیز پر قدم رکھ رہےتھے تو کالج میں دورانِ تقریر اچانک گر پڑے ۔ ان کے والد اس حالت سے پریشان ہوئے اور انہیں ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لئے لے گئےوہاں یہ معلوم ہوا کہ ہاکنگ ایک لاعلاج بیماری موٹر نیورون کا شکار ہوچکے ہیں اور اگلے 2 سالوں میں ان کی موت واقع ہوجائے گی، یہ ایسی بیماری ہے جس میں مریض کے تمام اعضاء ایک ایک کرکے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور بالآخر مریض مر جاتا ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہاکنگ پر بیماری کا سایہ گہرا ہوتا گیا، اب وہ لنگڑا کر چلنا بھی شروع ہوگیا بولنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

اس تمام صورتِ حال نے ہاکنگ کو شدید دھچکا پہنچایا اور انہوں نے ہار مان کر دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرکے موت کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اسی دوران ان کے استاد اور ماڈرن کاسمولوجی کے بانی ڈینس ویلیم نے ہمت دلائی اور علمی میدان میں انہیں واپس لائے سو یہی بیماری ان کی کامیابی کا سبب بنی ان کی کوشش تھی کہ مرنے سے پہلے آئن سٹائن کے نظریہ اضافت کے متعلق مسائل حل کروں اور اسے مزید explore کروں۔ انہوں نے 1964ء کے وسط میں علمی میدان میں واپس آکر اپنے پسندیدہ سائنسدان فریڈہائل کے سائنسی نظریات میں سے غلطیاں نکالیں ، یہ پہلا وقت تھا جب انہیں بھرپور پذیرائی ملی۔

یاد رہے یہ وہ دور تھا جب بیگ بینگ اور بلیک ہولز کے متعلق بہت سے مفروضے گردش میں تھے، کاسمک بیک گراؤنڈ ریڈیشن دریافت ہورہی تھیں،اور فزکس میں نئے نئے ذرات دریافت ہونے کا سلسلہ چل نکلا تھا۔ اس دوران اسٹیفن ہاکنگ نے بلیک ہول اور بیگ بینگ کے متعلق تحقیق کرنے کا سوچا اور مقالہ (thesis) لکھا جو 1966ء میں منظور کرلیا گیا جس کے بعد پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ نے 24 سال کی عمر میں پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کی۔یاد رہے مذکورہ مقالے کو 2017ء میں عام عوام کے لئے جب انٹرنیٹ پر اپلوڈ کیا گیا تو تقریباً ایک دن میں 1 لاکھ لوگوں نے اسے ڈاؤنلوڈ کرنے کی کوشش کی اور ویب سائٹ پر اتنا لوڈ پڑ گیا کہ سرور ڈاؤن ہوگیا تھا ،یہ واقعہ عالمی خبروں کی زینت بنا۔

بہرحال تقریباً 4 سال آئن سٹائن کے نظریہ اضافت پر تحقیق کے بعد اسٹیفن ہاکنگ نے ثابت کیا کہ اگر نظریہ اضافت کے قوانین کائنات پر لاگو ہوتے ہیں تو یقینی طور پر کائنات کا آغاز ایک نقطے (singularity) سے ہوا، چونکہ بلیک ہول میں بھی singularity موجود ہوتی ہے سو اس کے بعد ہاکنگ کی تحقیق کا رخ بلیک ہول کی جانب ہوگیا اور بلیک ہول کے متعلق کافی چشم کشا انکشافات کیے جنہیں دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا اور سراہا گیا۔ 1973ء میں ہاکنگ کی پہلی کتاب “The Large scale structure of Space Time” شائع ہوئی۔

اس کتاب کے بعد ہاکنگ نے کوانٹم فزکس کے میدان میں تحقیق کا آغاز کیا ،اس دوران تحقیق کرتے ہوئے ہاکنگ کو معلوم ہوا کہ فزکس کے اصولوں کے تحت بلیک ہول میں جانے والی اشیاء سے شعاعوں کا اخراج ہونا چاہیے سو ہاکنگ نے دعویٰ کیا کہ بلیک ہول سے ہر وقت radiations کا اخراج ہوتا رہتا ہے، ان radiationsکو شروع میں سائنسدانوں نے اہمیت نہ دی مگر بعد ہاکنگ کی دریافت نے فزکس کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا آج بھی ہم ان radiations کو “ہاکنگ ریڈیشنز” کے نام سے جانتے ہیں۔اسکے بعد اسٹیفن ہاکنگ پر انعامات اور میڈلز کی بارش کردی گئی، ٹی وی اور ریڈیو چینلز پر ان کے انٹرویوز نشر ہونا شروع ہوگئے۔80ء کی دہائی میں اسٹیفن ہاکنگ نے کائنات کے آغاز کے متعلق سمجھنا شروع کیا اور بیگ بینگ کو ایک بار پھر اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔جس کا نتیجہ یہ حاصل کیا کہ وقت کا آغاز کائنات کے ساتھ ہوا کائنات سے پہلے وقت موجود نہیں تھا اس خاطر ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ اس سے پہلے کیا تھا ۔

1985ء میں ہاکنگ سے بولنے کی طاقت بھی چھن گئی اور اب وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ بولنے کے بھی قابل نہ رہے، جہاں ایک طرف یہ لمحہ فکریہ تھا وہیں موت کو اپنے نزدیک آتا بھی محسوس کررہے تھے۔انعامات و اعزازات کا ہاکنگ کو معاشی طور پر فائدہ نہیں ہوا جس کے باعث اسٹیفن ہاکنگ نے مقالہ جات لکھنے کی بجائے ایک ایسی کتاب لکھنے کا سوچا جس میں کائنات کے اسرار و روموز کوانتہائی آسان انداز میں سمجھایا جائے تاکہ عوام کائنات کے متعلق بآسانی سمجھ سکیں۔سو 1988ء میں ہاکنگ نے شہرہ آفاق کتاب”A Brief History of Time” لکھی جس کی اس وقت 90 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں۔

بعد ازاں اس کتاب کا شائقین کی جانب سے دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ۔ پاکستان میں یہ کتاب اردو ترجمے میں “وقت کا سفر” کے عنوان سے دستیاب ہے (غالباً انٹرنیٹ پر بھی مل جائے گی)۔اس کتاب کو 1992ء میں ایک ڈاکومنٹری کی صورت میں بھی پیش کیا گیا۔1997ء میں اسٹیفن ہاکنگ کی 6 حصوں پر مشتمل ٹی وی سیریز بھی آن ائیر کی گئی۔جس کے بعد ہاکنگ نے 2001ء میں ایک اور شہرہ آفاق کتاب “The Universe in a Nutshell” لکھی اس کے بعد 2005 ء میں ” A Briefer History of Time ” لکھی، اس کے بعد 2006ء میں دنیائے ریاضی میں تہلکہ مچانے والی کتاب “God created the integers” لکھی۔ہاکنگ کو دنیا بھر کی یونیورسٹیز میں مدعو کیا جانے لگا ۔

2007ء میں اسٹیفن ہاکنگ کو خصوصی طور پر زیرو گریوٹی فلائٹ میں لےجایا گیا جہاں انہیں کشش ثقل سے آزاد ماحول experience کرنے والے پہلے معذور انسان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔اسٹیفن ہاکنگ ہگز بوسون نامی ذرات کو تسلیم نہیں کرتے تھے مگر بعدازاں جولائی 2012ء میں سر ن لیبارٹری میں ان کا وجود ثابت ہوگیا جس پر اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے ہگز بوسون کے متعلق سب سے پہلے پیشنگوئی کرنے والے سائنسدان کو نوبل پرائز دینے کا مطالبہ کیا۔دنیا بھر کے ممالک نے اپنے اعلیٰ اعزازات سے ہاکنگ کو نوازا، کئی ممالک میں عمارتیں ان کے نام سے منسوب کی گئیں۔

چونکہ اسٹیفن ہاکنگ وقت میں سفر کرنے کے ناقد تھے ، اس خاطر انہوں نے 28 جون 2009ء کو اپنے گھر ایک time traveler پارٹی رکھی اور اس کا اعلان اگلے دن 29 جون 2009ء کو کیا کہ کل رات میں نے ٹائم ٹریول پارٹی رکھی تھی جس میں کسی نے شرکت نہیں کی اس کا مطلب ہے کہ انسان کبھی ماضی میں سفر نہیں کرپائے گا کیونکہ اگر مستقبل میں وقت میں سفر کرنا ممکن ہوجاتا تو کوئی نہ کوئی ٹائم ٹریولر لازمی اس پارٹی میں آتا۔2015ء اور 2017ء میں اسٹیفن ہاکنگ نے خلائی مخلوق کے متعلق زبردست تحقیقات کیں،ان کی وصیت بھی یہی تھی کہ اس کائنات میں کوئی دوسری مخلوق لازمی طور پر موجود ہے ،مگر انسانوں کو اس سے کبھی رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ، اگر وہ تھوڑی سی بھی انسان سے زیادہ ترقی یافتہ ہوئی تو زمین پر قبضہ کرکے انسانوں کے لئے زندگی اجیرن بنا سکتی ہےبالکل ایسے ہی جیسے کولمبس کے امریکا دریافت کرنے کےبعد امریکیوں کو سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

شروع میں اسٹیفن ہاکنگ کی جب بولنے کی صلاحیت ختم ہوئی تو وہ اپنی انگلیوں کے ذریعے کمپیوٹر سے الفاظ کا چناؤ کرکے تقاریر کرتے تھے، مگر 2005ء میں ان کی انگلیوں تک نے کام کرنا شروع کردیا جس کے لئے Intel کے ماہرین نے ان کے گالوں کی حرکت کے ذریعے الفاظ تخلیق کرنے کی ٹیکنالوجی متعارف کروائی اور یہ مختلف یونیورسٹیز میں تقاریر کرنے کے لئے اپنے گالوں کو ہلا کر الفاظ کا چناؤ کرتے تھے، چونکہ یہ ویل چئیر بھی خود نہیں چلا سکتے تھے اس کو بھی چلانے کے احکامات گالوں کی movement کے ذریعے دیتے تھے، وفات سے کچھ عرصہ پہلے تک مرض اس حد تک شدت اختیار کرگیا کہ سانس لینے میں بھی انہیں دشواری پیش آتی تھی جس کی وجہ سے انہیں کئی بار ventilator پر رکھا جاتا رہا۔

ستمبر 2013ء میں اپنی بیماری سے تنگ آکر اپنی مجبوری کا اظہار ہاکنگ نے ان الفاظ میں کیا :”میرے خیال میں جو لوگ شدید تکلیف میں مبتلاء ہوں ان کو اپنی زندگی ختم کرنے کے حوالے سے قانونی اختیار دےدینا چاہیے، ہم جانوروں کو اذیت نہیں پہنچا سکتے تو پھر انسانوں کو کیوں اذیت میں رکھتے ہیں”۔اسٹیفن ہاکنگ اس بات پر بھی زور دیتے رہے کہ انسان کو اگر اپنی بقاء عزیز ہے تو پھر زمین سے نکل کائنات کے دیگر گوشوں میں بھی خود کو آباد کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ ہاکنگ سائنسدانوں کو یہ تنبیہ بھی کرتے رہے کہ کمپیوٹر میں موجود وائرس بھی آنے والے وقت میں کمپیوٹر اور روبوٹس کو اپنے کنٹرول میں کرکے انسانوں پر حکمرانی کرسکتے ہیں اور یہ زندگی کی ایک الگ اور نئی قسم ہوسکتی ہے۔بلاشبہ ہاکنگ کے جانے سے علم فلکیات میں پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنا مشکل ہوگا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہاکنگ کی تحقیقات نسل انسانی کو کامیابیوں کے نئے زینے پر پہنچانے کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہونگیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *